پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں کیلئے بڑی خبر، چیف جسٹس کا اہم بیان

5 668

 

پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں کیلئے بڑی خبر، چیف جسٹس کا اہم بیان

 

الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی، چیف جسٹس
پی ٹی آئی کو پشاور ہائیکورٹ سے بلے کا نشان ملنے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس پر آج قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں۔ کیس کی براہ راست سماعت جمعے کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 2 دسمبر سے پہلے پی ٹی آئی کے انتخابات کب ہوئے تھے؟ وکیل مخدوم علی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ انتخابات 8 جون 2022 کو ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے جون 2022 میں ہونے والے انتخابات کالعدم قرار دیے تھے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا یہ حکم چیلنج ہوا تھا؟ وکیل مخدوم علی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج ہوا تھا جو لارجر بینچ کو ریفر کیا گیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا۔جسٹس مظہر علی نے استفسار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتوائ ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا دونوں پارٹی انتخابات میں وہی عہدیداران منتخب ہوئے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے ہدایات اور ریکارڈ لیکر ہی آگاہ کر سکوں گا، الیکشن کمیشن نے 20 دن میں پارٹی الیکشن کرانے کا کہا تھا اس لیے دوبارہ کرائے۔

 

 

آپ کس حیثیت سے دلائل دے رہے ہیں، چیف جسٹس
چیف جسٹس نے پوچھا کہ لاہور ہائیکورٹ میں زیرالتوا درخواست کیا واپس لے لی ہے؟ حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست غیر موثر ہونے سے آگاہ کر دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ میں فورم شاپنگ کرنے نہیں گئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فورم شاپنگ کی بات آپ نے کی، میں نے نہیں کی۔ یہاں سے ریلیف نہیں ملا تو وہاں چلے جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ جب آپ کی درخواست لاہور میں زیر سماعت تھی تو پشاور کیوں گئے؟ بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کیونکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے تھے۔

تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے کس کس کو ٹکٹ جاری کیا؟

الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی عہدے کے لیے نااہل کرنے کے لیے کیس چلایا، پارٹی انتخابات اور چیئرمین پی ٹی آئی نااہلی کیسز ایک ساتھ چلانے کی درخواست کی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوائ تھا تو پشاور ہائیکورٹ نے کیسے سن لیا؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی حد تک لاہور ہائیکورٹ والا کیس غیرموثر ہوچکا ہے،

 

انٹراپارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے تھے اس لیے پٹیشن بھی وہیں دائر کی گئی۔چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر سے سوال پوچھا کہ آپ کس حیثیت میں دلائل دے رہے ہیں؟ گوہرعلی نے جواب دیا کہ عدالت کی معاونت کر رہا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان سینیئر وکیل ہیں انہیں بات کرنے دیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ باقی کسی جگہ انتخابات کے لیے سیکیورٹی نہیں مل رہی تھی اس لیے پشاور میں انتخابات کروائے۔

 

 

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کو لاہور ہائیکورٹ کیوں پسند نہیں آئی؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پشاور کے علاوہ کہیں بھی سیکیورٹی نہیں مل رہی تھی، چیف جسٹس نے پوچھا سیکیورٹی کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، من پسند عدالتوں سے رجوع کرنے سے سسٹم خراب ہوتا ہے۔وکیل حامد خان نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کا مقدمہ عدالت میں زیر التوا ہے، ہر طرف گرفتاریوں کی وجہ سے پشاور میں سیکیورٹی ملنے پر وہاں انتخابات کرائے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے، کیا پشاور ہائیکورٹ میں دائرہ اختیار کا نکتہ اٹھایا تھا؟

آئی فون خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے خوشخبری

 

وکیل حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت فریق ہی نہیں تھی تو چیلنج کیسے کرتی؟ چیف جسٹس نے دوبارہ پوچھا کہ ایک ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ ہو دوسری ہائیکورٹ کے ڈویڑن بنچ کا تو فوقیت کسے ملے گی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ڈویڑن بینچ کے فیصلے کو فوقیت دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا دوبارہ آغاز کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے،

چودھری شجاعت اور نواز شریف آمنے سامنےآگئے

الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے، پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی آئین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت اچھا آئین بنایا ہے، اس میں تو سب باتوں کا ذکر ہے۔مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کے مطابق چیئرمین کا انتخاب ہر 2 سال بعد ہو گا

 

فضل الرحمٰن اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے والے 2 خودکش بمبار گرفتار

You might also like
5 Comments
  1. […] پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں کیلئے بڑی خبر، چیف جسٹس کا … […]

  2. […] پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں کیلئے بڑی خبر، چیف جسٹس کا … […]

  3. […] پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں کیلئے بڑی خبر، چیف جسٹس کا … […]

  4. […] پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں کیلئے بڑی خبر، چیف جسٹس کا … […]

  5. […] پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں کیلئے بڑی خبر، چیف جسٹس کا … […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.