موجودہ صوبائی کی کوشش ہے کہ مون سون کی بارشوں سے پہلے ہی ممکنہ نقصانات سے نمٹنے کی تیاری کرلی جائے،عبدالصبور کاکڑ

0 71

چیرمین سی ایم آئی ٹی عبد الصبور کاکڑ نے کہا ہے کہ مون سون کی بارشوں کے نقصانات سے بچنے اور نشیبی علاقوں میں بہترین منصوبہ بندی، خصوصی تیاری اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے صوبے کو قدرتی آفات کی تبائیوں سے بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول ملٹری اور انتظامیہ کی مؤثر رابطوں سے حکومتی سطح پر بارشوں کے دوران سیلاب سے قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی آف پاکستان وڑلڈ فوڈ پروگرام پی ڈی ایم اے بلوچستان، بلوچستان سول سروسز اکیڈمی اور ریسکیو 1122 کے تعاون سے منعقدہ تین روزہ صوبائی سطح پر منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن این ڈی ایم اے شائستہ خان اچکزئی، ڈائریکٹر بی سی ایس اے شبانہ سلطان، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان محمد نور کھیتران، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان امان اللہ رند، ڈبلیو ایف پی کے پروگرام پالیسی آفیسر نعیم گل، مینیجر ٹریننگ این ڈی ایم اے وسیم احمد، ڈپٹی مینجر این ڈی ایم اے حمزہ رزاق، اسسٹنٹ منیجر این ڈی ایم اے طالعہ نجم، ڈپٹی مینجر آپریشنز این ڈی ایم اے محمد فرید و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں چیرمین وزیر اعلیٰ بلوچستان معائنہ ٹیم عبد الصبور کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں مون سون کی بارشیں کسی نعمت سے کم نہیں تاہم بعض اوقات مناسب تیاری نہ ہونے اور مؤثر رابطوں کے فقدان سے نقصانات کا خدشہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی کی کوشش ہے کہ مون سون کی بارشوں سے پہلے ہی ممکنہ نقصانات سے نمٹنے کی تیاری کرلی جائے اور مقامی سطح پر رضاکاروں اور ڈی ڈی ایم اے کے عملے کو بہترین تربیت اور مشینری فراہم کیے جائیں۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن این ڈی ایم اے میجر شائستہ خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے جدید ترین سہولیات کا حامل قومی ادارہ ہے جو عالمی سطح پر کام کرتی ہے۔ یہ اور اسکے ذیلی ادارے اور NEOC کے پاس تین ماہ پہلے تک آفات کا اندازہ لگانے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے ماہرین کی ٹیم عالمی اور مقامی خطرات کی نگرانی اور تجزیہ کرنے کے لیے GIS، ریموٹ سینسنگ، سیسمولوجی، ہائیڈرولوجی اور ڈیٹا سائنسز کا استعمال کرتی ہے۔ NEOC میں تباہی کے خطرات سے خبردار کرنے اور ان کو کم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ عالمی سطح پر سمندری اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو ٹریک کرنے سے لے کر مقامی خطرات اور ان کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگانے تک این ڈی ایم اے کی ٹیم چوبیس گھنٹے چوکس رہتی ہے اس کے علاؤہ ابھرتے ہوئے موسمی حالات کا تجزیہ کرکے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے مؤثر جوابی حکمت عملیوں کو یقینی بنانے کیلیے ہمیشہ ایک قدم آگے رہتا ہے۔ تین روزہ تربیتی ورکشاپ میں پشین قلعہ سیف اللہ اور ضلع نوشکی کے ڈی ڈی ایم اے کے رضاکاروں عملے اور حکام نے شرکت کی اس کے علاؤہ بلوچستان کے مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات اور غیر سرکاری فلاحی تنظیموں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ورکشاپ میں مون سون بارشوں سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور نقصانات سے بچنے کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی تربیت دی گئی۔ ورکشاپ کے اختتام پر ضلع قلعہ سیف اللہ پشین اور نوشکی کے سینڈیکیٹ عملے اور رضاروں میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کیے گئے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.