چہرہ شناس۔قمر محمود عبداللہ

0 76

مبصر: شہزادافق ( اسلام آباد)

مرزا غالب نے کیا خوب کہا ہے:-
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس دل میں ہے
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
ناول دہشت گرد ASI پبلی کیشنز (اسلام آباد )
اپنی تہذیب کی قلمی تصویر “ادب ” کہلاتی ہے۔ بہت کم لوگ ایسے
ہیں جن کی تحریریں پڑھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے الفاظ کے پیچھے ہمارے جذبات اور احساسات شامل ہیں۔
میں قمر محمود عبدالله کو ایک عرصے سے جانتا ہوں۔ آپ بہت شفیق انسان ہیں۔ میری جب بھی آپ سے ملاقات ہوئی تو ایسا لگا جیسے موجودہ حالات کے حوالے سے ایک دریا ہے جو بہتا چلا جاتا ہے۔
آپ ہمیشہ فکر و تدبر کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ استاد بھی ہیں اور ادبی دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے جتنے بھی دوست ہیں وہ اِس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کی شخصیت سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ آپ کے میں نے کچھ افسانے پڑھے ہیں اور سنے بھی ہیں۔ آپ کا یہ کمال ہے کہ بڑے سے بڑے موضوع کو چند صفحات میں بھی سمیٹ سکتے ہیں اور چاہیں تو کسی موضوع کو صفحات پر وسعت دے کر ہر ہر سطر سے قارئین کو چونکا سکتے ہیں۔
یہ ناول “دہشت گرد آپ کے اِسی کمال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ناول نگاری میں آپ نے اہم کام کیا ہے۔ مگر اس سے بڑا کام یہ ہے کی
آپ نے اکیسویں صدی کی تصویر کشی کی اور حقیقت نگاری میں اپنی صلاحیتوں کے جواہر تراشے۔ہم جس صدی میں زندگی گزار رہے ہیں ہر قدم پر وحشتیں اگتی ہیں۔
ایک خوف ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہم اپنے گھروں میں بھی بے چین ہیں۔ ہمارا میڈیا جو کچھ دکھا رہا ہے کیا وہ سچ ہے؟
اس ناول میں ناول نگار نے کوشںش کی ہے کہ سچائی کا پرچار کرے ۔ سچائی کا چہرہ دکھانے کے لیے ادبی دنیا میں ایک بڑا ناول آیا ہے اور میں کہوں گا کہ اِس ناول کو ہر سطح کے قاری تک پہننا چاہیے۔
اس ناول کا پلاٹ وسیع بھی ہے اور متاثر کن بھی ہے۔
ناول نگار نے پاکستان اور پاکستان سے باہر کے معاشروں کا نقشہ کھینچا ہے اور دونوں کے حالات و واقعات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کوشش کی ہے کہ قارئین کسی نتیجے پر پہنچیں۔ ناول کی منظر نگاری بھی متاثر کرتی ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے قاری خود کو اُس مقام پر موجود پاتا ہے جہاں کوئی واقعہ رونما ہونے والا ہے اور پھر بعض مناظر ایسے بھی ہیں، جن میں قاری غرق ہو کر نہ صرف غم محسوس کرتا ہے بلکہ موت کو بھی قریب سے دیکھتا ہے۔ ایسی کیفیات تعمیر کرنا آسان کام نہیں مگر ناول نگار نے اِس معاملے میں کامیابی کی منزل پر دستک دی ہے ۔ بعض مناظر تو ایسے ہیں جو دل پر نقش ہو جاتےہیں

اقباس دیکھیے :
یوسف کے والدین ایوب اور عذرا پہلی مرتبہ اپنی اولاد کی کسی خوشی میں شئیر کر رہے تھے اور وہ بھی متفقہ طور پر جیسے آج زندگی میں پہلی مرتبہ انہیں اولاد کی طرف سے کوئی راحت و مسرت میسر آئی ہو ۔ یوسف کی شاندار کامیابی نے ان کی باہمی جنگ کو بھی سرد کر دیا ”
ایسے کئی اقتباسات قارئین کے ذوق کی نذر کیے جاسکتے ہیں آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ ناول نگار ماحول کے مطابق جملہ سازی کرتاہے اور جذبات کی ترجمانی کرداروں سے کرواتا ہے ۔ بدلتے ہوئے رویوں کو لفظوں میں ڈھال کر ناول نگار نے بڑا کام کیا ہے۔ ناول میں آپ کو کئی باتیں پڑھنے کو ملیں گی۔
ناعل میں نہ صرف مناظر بدلتے ہیں بلکہ کرداروں کا تعلق کئی ممالک سے ہے۔ کرداروں اور واقعات کی ترتیب کہیں خراب نہیں ہوتی ، واقعات تسلسل کے ساتھ صفحات میں بکھرتے ہیں ۔ کرداروں کا تعلق مختلف سماجی اکائیوں سے ہے۔
اگر ناول ہر بات کو طوالت دیں تو بات بہت دور تک جائے گی مختصر یہ کہ ناول نگار چہرہ شناس ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.