جشن وحید الزماں

0 238

حسب منشا

اٹھارویں اور 19ویں صدی میں مشرق و مغرب میں بڑے بڑے انسان پیدا ھوئے اور بیسویں صدی انہیں کھا گئی 21ویں صدی میں ہمیں دور دور تک کوئی قائد و اقبال نظر نہیں آتا جن کے افکار و نظریات کی روشنی آج بھی ہمارے سینوں میں عزم و ہمت کی قدیلیں فروزاں کر رہی ہے اور جن کی فکر کے بغیر پورا پاکستان دور دور تک ایک صحرا ہی صحرا ہے جن جلیل القدر عبقری شخصیات کو ہم نے تاریخ میں پڑھا تھا ان مشاہیر میں ایک عظیم علمی شخصیت برگیڈیئر ڈاکٹر وحید الزماں طارق کی ذات گرامی اس گئے گزرے دور میں دکھائی دیتی ہے تو بڑا تعجب ہوتا ہے کہ ایسی عبقری شخصیت آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لاتعداد صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے وہ اپنی ذات میں پوری ایک تحریک، ایک انجمن، ایک جماعت اور علم و فن کا انسائیکلوپیڈیا اقبال، رومی، سعدی شیرازی اور حافظ کی صدائے بازگشت ہیں ۔ عربی، فارسی، اردو ، انگریزی اور پنجابی ساری زبانوں پر عبور حاصل ہے ۔ عربی بولتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی عرب حجاز سے رخت سفر باندھ کر لاہور آ نکلا ہو ، فارسی میں سعدی کی شیرینی اور حافظ کی رنگینی مزہ دیتی ہے ، حافظ و سعدی کی رنگینی کے حسین امتزاج سے جادو آفرینی پیدا کرتے ہیں اردو آپ کے سامنے اس آرزو میں کھڑی رہتی ہے کہ آپ اسے سلک معنی میں پروئیں اور آپ کے رشتہ ء افکار سے مل کر وہ بالا و بلند ہو جائے ، انگریزی خود درخواست گزار رہتی ہے کہ وہ وحید الزماں طارق کے اعجاز نطق کے بوسے لے، پنجابی آپ کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے برصغیر پاک و ہند میں ڈاکٹر وحید الزماں طارق کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ زبان فارسی کے پہلے شاعر ہیں اقبال و رومی کے حافظ ہیں گزشتہ روز کاروان فکر پاکستان کے زیر اہتمام اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر جشن وحید الزماں کی پر شکوہ تقریب پروفیسر مظفر عباس سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کی زیر صدارت منعقد ہوئی ۔ جشن وحید الزماں کا خیال میرے خیال میں جناب اعظم منیر کے منصوبہ ساز ذہن کے بطن سے جنم لیا ہو گا اور پرنس اقبال گورایا نے اس خیال کو پیکر محسوس میں ڈھالا ھو گا پرنس اقبال گورایا چیئرمین بانی کاروان فکر پاکستان ایوان اقبال یو اے ای، بے شمار محاسن کا مجموعہ ہیں وہ نظر بہ ظاہر ایک انسان ہیں لیکن اپنی ذات میں پوری انجمن اور پوری جماعت ہیں سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں اور آج بھی ان کا یہ مشن جاری و ساری ہے وہ ایک لحظہ بھی فارغ نہیں بیٹھتے کوئی نہ کوئی منصوبہ ان کے ذہن کے بطن میں جنم لیتا رہتا ہے ۔ مقررین نے ملت اسلامیہ کے محسن برگیڈیئر وحید الزماں طارق کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ان میں موٹیویشنل بین الاقوامی شہرت یافتہ سپیکر جناب راؤ محمد اسلم خان ، جناب اعظم منیر ، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال محقق دانشور ادیب نے یہ عبدالوحید طارق کی ادبی علمی فکری اور تحقیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس دور میں دور دور تک اس بائے کا کوئی عبقری ہیرو نظر نہیں اتا علامہ اقبال نے تو واضح طور پر کہہ دیا تھا پھر نہ اٹھا کوئی رومی عجم کے لالا زاروں سے وہی اب و گلے ایراں وہی تبریز ساقی

عزیزم زید حسین جواں سال اقبالی دانشور نے نقابت کے فرائض جس خوبی سے ادا کیئے اس کی صدائے بازگشت گند بے در سے آتی رہے گی تلاوت قران کریم اور نعت رسول مقبول کے بعد آپ نے حفظ مراتب کا پورا خیال رکھا۔ سرگودھا سے آئے ہوئے مہمان مقرر محترم جناب ہارون رشید تبسم کی فکر انگیز گفتگو کی جستجو میں حاضرین کی آرزو جاگ اٹھی وہ بولتے نہیں موتی رولتے ہیں صاحب صدر پروفیسر مظفر عباس کا خطبہ تو شاید پانچ چھ صفحات پر مبنی ہو ، مگر جناب ہارون تبسم نے 40 صفحات پر برگیڈیئر ڈاکٹر وحید الزماں طارق کے اوصاف حمیدہ اور ان کی علمی فکری صلاحیتوں کا احاطہ کیا ہے لکھا ہوا کاغذ ان کی جیب میں تھا اور انہوں نے اختصار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فارسی زبان کے خاتمے کے لیے انگریز کی سازش کامیاب ہوگئی انہوں نے کہا کہ انگریز نے فارسی زبان کو حکمرانوں کی زبان قرار دیا تھا اور انہوں نے اس کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی اور یہاں تک ہماری تہذیب ہمارا تمدن ہماری اعلیٰ روایات کو بھی انہوں نے فنا کے گھاٹ اتار دیا موٹیویشنل سپیکر جناب راؤ محمد اسلم خان کی زندگی کے کسی بھی موڑ پر حاصل ہونے والی کامیابی کے پیچھے برسوں کی محنت شاقہ کار فرما ہے اگر ضرورت ایجاد کی ماں ہے تو اضطراب ترقی کا باپ ہے اور راؤ محمد اسلم خان مطمئن نہ ہونے والی شخصیت ہیں اور وہ ہر روز ایک نئی شان اور نئی آن اور نئی بان سے روز و شب منور کرتے رہتے ہیں آپ برگیڈیئر ڈاکٹر وحید الزمان طارق کے شاگردوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں اس لئیے زندگی کے موڑ پر راؤ محمد اسلم خان نے یوں ہی کامیابی حاصل نہیں کر لی اس کے پیچھے راؤ محمد اسلم خان کی محنت شاقہ کار فرما ہے اور انہوں نے کامیابی بھی زندگی کے بازار میں فروخت ہوتی ہوئی خریدی ہے لیکن اسے وہی شخص خرید سکتا ہے جو اس کی قیمت ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو شکست نہ کھانے والا ارادہ، پریشان نہ ہونے والا خیال، اور ختم نہ ہونے والی جدوجہد یہ کامیابی کے ضامن ہیں اور راؤ محمد اسلم علم کے حصول کے لیے اور اقبال کو سمجھنے کے لیے ہر روز سیکھنے کے عمل میں موجود رہتے ہیں عالم علم کے سہارے سے اور جاہل سازش کے سہارے سے کامیابی حاصل کرتا ہے۔

عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

جوانوں کو میری آہ سحر دے

تو ان شاہین بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے

میرا نور بصیرت عام کر دے

اور اس میں کوئی شک نہیں اقبال کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں بے اثر نہیں گئیں اور آج سارے عالم اسلام میں خالص اسلامی فکر و نظر سے نوجوانوں کی ایک نئی نسل ابھر رہی ہے علامہ کی فکر و نظر کے مبلغ برگیڈیر وحید الزماں طارق کی ذات گرامی ہے آپ نئی نسل کے محسن اور ان کے پاکیزہ کردار کے معمار ہیں جوانوں میں علامہ اقبال جو آہ و سوز اور درد و تپش دیکھنے کی تمنا رکھتے تھے آج

علامہ کا سوز جگر اور ان کا عشق برگیڈیئر ڈاکٹر وحید الزماں طارق کو حاصل ہو گیا ہے برگیڈیر ڈاکٹر وحید الزمان طارق کے چاہنے والوں کی اور دیوانوں کی طویل فہرست ہے جو دور دور سے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے وہ ان کے دروس میں شریک ہوتے ہیں جناب طارق وحید ان میں سر فہرست ہیں یہ شعر برگیڈیئر صاحب کے دیوانوں پر صادق آتا ہے ۔

سرخی ء خار مغیلاں سے پتہ چلتا ہے

تیرے دیوانے کہاں آئے کہاں تک پہنچے

جناب اعظم منیر تو برگیڈیئر صاحب سے عشق کرتے ہیں اور دوسری طرف برگیڈیئر صاحب آبشار کی مانند ہیں جو بلندیوں سے یہ کہتی ہوئی نیچی آ رہی ہوتی ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہوتی ہے کہ اگر آپ لوگ میری سطح تک بلند نہیں ہو سکتے تو میں خود ہی نیچے اتر کر تمہاری کشت ویراں کو سیراب کرتی ہوں ایسے لوگوں کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے اور آخر میں پرنس اقبال گورایا نے اپنے تمام احباب کے ساتھ ڈاکٹر برگیڈیر وحید الزماں طارق کی تاج پوشی کی۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ خطیبہ نویرا بابر کی خواہر اصغر نے اپنی شعلہ نوائی سے پورے سامعین کے دلوں میں زلزلے ڈال دیئے اور یہ چنگاری بولتے ہوئے شعلہ ء جوالہ بن گئی اور میں سوچ رہا تھا علامہ اقبال کی زبان میں کہ

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

نہیں نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

برگیڈیر ڈاکٹر وحید الزماں طارق جس طرح اقبال مسلم نوجوان کے بارے میں تمنا رکھتے تھے وہ صادق آتے ہیں اور وہ ان کی جوانی کو بے داغ اور اس کی ضرب کو کاری دیکھنا چاہتے تھے ایسے نوجوان کو جو جنگ میں شیر و پلنگ اور صلح میں حریر و پرنیاں ہو جو رزم و بزم دونوں کا حق ادا کرے جو نرم دم گفتگو گرم دم جستجو کی مثال اور صلح و جنگ میں مثالی شخصیت کا مالک ہو اور جس کی امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوں جو فقر میں غنی اور امیری میں فقیر ہو ایسی مثالی شخصیت کے اوصاف حمیدہ محترم المقام فضیلت مآب ڈاکٹر برگیڈیئر وحید الزماں طارق میں ہم دیکھ رہے ہیں جن کی امیدیں قلیل جن کے مقاصد جلیل جو فقر میں غنی جو امیری میں فقیر بوقت تنگدستی خوددار غیور اور بوقت فراغ کریم و حلیم ہیں جو عزت کی موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں حلقہ ء یاراں میں ریشم کی طرح نرم اور رزم حق و باطل میں فولاد کی طرح تند و گرم ہیں کبھی آپ شبنم ہیں جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک پہنچتی ہے اور کبھی آپ طوفان جس سے دریاؤں کے دل دہل جائیں اگر ان کی راہ میں کہکستان و سنگستان آئیں تو سیل تندرو اور اگر محبت کا شبستان سامنے ہو تو جوئے نغمہ خواں بن جائیں آپ صدیق کا ایمانی جلال، علی مرتضی کی قوت و فتوت، ابوذر کا فکر و استغنا اور سلمان کا صدق و صفا رکھتے ہیں آپ کا یقین بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی ہے جو مومنانہ حکمت و فراست کا آئینہ دار اور ہمت مردانہ کا علمبردار ہے جو شہادت کو اپنا کر حکومتوں کو ٹھکرا سکتا ہے جو ستاروں پر کمند ڈال سکتا اور نوامیس فطرت کو نخچیر بنا سکتا ہے جو اپنی رفعت و عظمت میں فرشتوں کے لیے بھی باعث رشک ہے جس کا وجود دنیا میں کفر و باطل کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے آپ کی قیمت پوری کائنات بھی نہ بن سکے اور جسے ان کے خالق و مالک کے سوا کوئی نہ خرید سکے جن کے مقاصد جلیلہ سے زندگی کی سطحیت اور زیب و زینت سے بلند تر کر چکی ہوں جو چنگ و رنگ اور نغمہ و آہنگ کے فریب سے نکل چکا ہوں اور تہذیب جدید کے بلبل و طاؤس کی تقلید سے یہ کہہ کر انکار کر چکے ہوں کہ

بلبل فقط آواز ہے

طاؤس فقط رنگ

ایشیا کی پہلی خاتون چیف ایڈیٹر روزنامہ سما محترمہ عمرانہ مشتاق آج کل کسی تقریب میں نہیں آ رہی وہ کاروان فکر کا حصہ ہیں اور برگیڈیئر وحید الزماں طارق کی عقیدت میں وہ تشریف لائیں تھیں اور ان کے تفکر میگزین کے صفحات برگیڈیئر وحید الزماں طارق کی فکری ابلاغ کے لیے حاضر ہیں ۔ سامعین میں عبقری ، عسکری اور سماجی شخصیات کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ عوام دوست پارٹی کے سربراہ جناب جہاں زیب چوہدری ، ظفر اپل ، محترمہ ناہید باجوہ ، ولایت احمد فاروقی جنہوں نے نعت خوانی میں ایک مقام بنایا ھے ان کی پرسوز آواز نے سامعین کے ابدان و اجسام میں لرزش خفی پیدا کر دی ۔ اعظم منیر اقبال کے شاہین اور منتظمین میں آپ کا نام نمایاں ہے ۔ برگیڈیر ڈاکٹر وحید الزمان طارق کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنے تمام چاہنے والوں کے ناموں کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کی خوبیوں کا اظہار اپ کھل کر کرتے ہیں ۔ آپ نے اعظم منیر کے بارے میں کہا کہ اس نے مجھے لاہور میں متعارف کرانے میں کوئی کمی نہیں کی ۔ بہت سارے احباب کے نام رہ گئے ہیں تعارف کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا اس لیئے اس شعر کے ساتھ اجازت ۔

چلتا رہے رسم تعارف کا سلسلہ

تم ہر بار مجھے اجنبی کی طرح ملو

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.