ایک ہی ملک کو کتنی بار آزاد کروائیں؟

0 8

ایک ہی ملک کو کتنی بار آزاد کروائیں؟

تحریر امجد اقبال امجد

قوموں کی تاریخ میں کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے شور میں بھی گونجتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے: ’’ایک ہی ملک کو آخر کتنی بار آزاد کروائیں؟‘‘ یہ سوال ہماری اجتماعی کمزوریوں، سیاسی ناپختگی، ادارہ جاتی بے اعتمادی اور قائدانہ نالائقیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اللہ پاک اس دھرتی پر رہنے والے سب لوگوں کو معاف فرمائے—کیونکہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں غلطیوں کا بوجھ کسی ایک کے کندھوں پر نہیں، سب نے اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے؛ کبھی زیادہ، کبھی کم۔

ابتدائی کمزوریاں اور پہلا مارشل لا

1947 سے 1958 تک سیاسی عدم استحکام ہماری پہلی آزمائش بنا۔ آئین سازی میں تاخیر، حکومتوں کا بار بار بدلنا، اور سیاسی جماعتوں کا قبل از وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا ایک ایسے خلا کا سبب بنا جسے ابتدا میں بیوروکریسی اور پھر فوج نے پُر کیا۔ یوں جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لا نافذ کیا، اور ریاست کو ’’ڈگر پر ڈالنے‘‘ کا دعویٰ کیا۔ حقیقت یہ تھی کہ کمزور سیاسی ڈھانچہ فوجی مداخلت کی دعوت بن چکا تھا۔

ایوب تا یحییٰ—ترقی بھی، ناکامیاں بھی

ایوب خان نے ترقی کا تاثر ضرور قائم کیا، مگر سیاسی جبر اور مخالف آوازوں کو دبانے کی حکمتِ عملی نے معاشرے میں تلخی کے بیج بو دیے۔ یہی بیج 1969 میں جنرل یحییٰ خان تک پہنچے، جن کے دور میں فیصلہ سازی کی غلطیوں اور سیاسی رہنماؤں کی ضد نے ملک کو 1971 کے المیے تک پہنچا دیا۔ سانحۂ مشرقی پاکستان ہماری اجتماعی ناکامی کا ایسا باب ہے جس میں نہ صرف فوج بلکہ کئی سیاستدان اور فیصلہ ساز برابر کے شریک تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو—عروج بھی، اختلاف بھی

1971 کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ایک نئی امید کے ساتھ آئے۔ 1973 کا آئین، خود اعتمادی، خارجہ پالیسی میں جرأت—یہ سب ان کی کامیابیاں تھیں۔ لیکن دوسری طرف سیاسی مخالفین سے سخت رویّہ اور بعض غیر جمہوری فیصلے ان کے اپنے لیے گڑھے بناتے گئے۔ اختلاف بڑھتا گیا اور یہی کشمکش مستقبل کے بحرانوں کی بنیاد بنی۔

جنرل ضیاء الحق—اسلامائزیشن اور تقسیم

1977 میں جنرل ضیاء الحق آئے۔ ان کے دور میں افغان جنگ کا بوجھ ملک نے اٹھایا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت بڑھائی لیکن داخلی سطح پر اسلحہ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا زہر پھیلا دیا۔ سیاستدانوں کی باہمی لڑائی نے ضیاء کو طویل حکمرانی کا جواز دیا، اور یوں قوم ایک نئی سیاسی تقسیم میں گرتی چلی گئی۔

جمہوری مگر ناپختہ ادوار—بینظیر تا نواز شریف

1988 سے 1999 تک کی جمہوریت بظاہر تو بحال ہوئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ برس سیاسی ناپختگی کے سال تھے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں باری باری آتیں اور جاتی رہیں۔ سیاسی انتقام، کرپشن کے الزامات، اور اداروں کے درمیان کھینچا تانی نے جمہوریت کو جڑیں پکڑنے نہ دیں۔ یوں ایک بار پھر خلا نے فوجی مداخلت کا راستہ صاف کر دیا۔

پرویز مشرف—ترقی، میڈیا کی آزادی، مگر سیاسی انجینئرنگ

1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا۔ ان کے دور میں ٹیکنالوجی اور میڈیا نے تیزی سے ترقی کی، مگر سیاسی انجینئرنگ، عدلیہ سے ٹکراؤ، اور آئینی مسائل نے ایک نئے بحران کو جنم دیا۔ ہم ایک بار پھر اصلاحات کے نام پر ’’آزادی‘‘ کی چکی میں پسنے لگے۔

نئی صدی—نیا پاکستان مگر پرانی غلطیاں

2010 کے بعد جمہوری تسلسل نے امید دلائی، مگر سیاسی تقسیم پہلے سے زیادہ گہری ہوگئی۔ عمران خان، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان محاذ آرائی نے ریاستی اداروں کو ہر محاذ میں گھسیٹا۔ جمہوریت پھر کمزور ہوئی، اور معیشت بحرانوں کی زد میں آتی گئی۔ ہر جماعت نے اپنی غلطی کے بجائے دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا، اور یوں ملک کی گاڑی پھر دلدل میں پھنس گئی۔

اختتامیہ—آزادی نہیں، ذمہ داری درکار ہے

آج پاکستان کو بار بار آزاد کروانے کی ضرورت نہیں—اسے بالغ سیاسی شعور، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ ہماری 78 سالہ تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ جب سیاستدان انا سے اوپر اٹھیں، فوج آئینی حدود میں رہے، اور عوام شخصیات کے بجائے اصولوں کی قدر کریں، تب ہی یہ ملک حقیقی معنوں میں ’’آزاد‘‘ ہوگا۔

اللہ کرے کہ اگلے 78 سال تاریخ بدلنے کے ہوں، دہرانے کے نہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.