قازقستان بحران کا شکار

0 9

محمّد رمضان جتالہ

آج ہم قازقستان میں بدامنی کے حوالے سے بات کریں گے۔قازقستان میں 2022 کے نئے سال کا آغاز عوامی طاقت کے ایک اور مظاہرے کے ساتھ ہوا۔ جس کے باعث بدامنی کا ماحول پیدا ہوا جو سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا تھا- اس بدلتی صورتحال پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کا کہنا ہے کہ قازقستان میں بے امنی حکومت گرانے کی کوشش تھی، مسلح عسکریت پسند مظاہرین میں شامل ہونے کے انتظار میں ہی تھے۔ انہوں اس صورتحال پر مزید کہا کہ عسکریت پسندوں کا مقصد حکومتی اداروں کو نقصان پہنچا کر اقتدار پر قبضہ کرنا تھا، ان کی ملک میں بغاوت کرنے کی کوشش تھی۔قازقستان کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے پُرامن مظاہرین پر کبھی گولی نہیں چلائی نہ ہی چلائیں گے، قازقستان میں روس کی قیادت میں ہونے والے فوجی آپریشن کو بھی جلد ختم کر دیا جائے گا۔خبر ایجنسی کے مطابق قازقستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر گزشتہ ہفتے مظاہرے شروع ہوئے تھے، پُرتشدد ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے قازقستان نے روس سے مدد طلب کی تھی۔ قازقستان میں رونما ہونے والے واقعات کی پس منظر کو دیکھا جائے تو جو بات سامنے آئی ہے وہ نئے سال کے شروع میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کا سبب ہے جس کے باعث، قازقستان میں جاری شہری بدامنی کا ماحول پیدا ہوا- ایسی بدلتی ہوئی صورتحال پر بد امنی اور بدعنوانی پر پیش رفت کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ نئے سال کے دن، قازق لوگ جب جاگے تو معلوم ہوا کہ مائع پٹرولیم گیس کی قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں ۔ حکومت نے پہلے سبسڈی دی تھی اور اس کی قیمت کو محدود کر دیا تھا تاکہ ایندھن کو ان لاکھوں افراد کے لیے سستا رکھا جا سکے جن کی روزی روٹی اس پر منحصر ہے، لیکن جنوری کے آغاز میں یہ نظام بدل دیا گیا۔ اس اصلاحات نے تیل کی دولت سے مالا مال ملک بھر میں لوگوں کو ناراض کیا۔ ملک کے بدلتے حالات کے پیش نظر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے اپنے بیان میں کہا کہ قازقستان میں بد امنی کے زریعہ حکومت گرانے کی کوشش ہے- مغربی قازقستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے- قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے جو مظاہرے شروع ہوئے وہ تیزی سے عدم مساوات، غربت اور بدعنوانی کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں بدل گیا۔ حکومت کی جانب سے پالیسی کو تبدیل کرنے کے وعدے کے بعد بھی مظاہرین بامعنی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر رہے۔ “فارورڈ، قازقستان” – ایک صحافی کے اکاؤنٹ کے مطابق، منگل کو ملک کے سب سے بڑے شہر الماتی میں لوگوں نے نعرے لگائے۔ تین دہائیوں تک قازقستان پر حکمرانی کرنے والے نور سلطان نظربایف نے 2019 میں دوبارہ صدارت قاسم جومارت توکایف کو سونپ دی لیکن وہ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کے طور پر عوامی عہدے پر فائز رہے۔ اور جب کہ وہ ابھی یہ ملازمت کھو چکے ہیں، نظر بائیف اب بھی “قوم کے رہنما” ہیں – ایک سرکاری لقب انھیں 2010 میں ملا تھا، جو سابق صدر اور ان کے خاندان کو قانونی چارہ جوئی سے بچاتا ہے۔
ملک کی سیاسی اشرافیہ نے مبینہ طور پر بدعنوانی کے ذریعے جو دولت اکٹھی کی ہے وہ احتجاج کے دوران ایک خاص تشویش کا باعث رہی ہے۔ قازقستان نے حالیہ برسوں میں بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کچھ پیش رفت کی ہے۔ 2019 کے ایک مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اور چھوٹے کاروبار زمین پر چیزوں کو بہتر ہوتے دیکھتے ہیں۔ تاہم، سنگین خدشات باقی ہیں، جیسا کہ بدعنوانی کے خلاف ناقص فریم ورک، پالیسی سازی میں ردعمل کی کمی اور میڈیا پر ریاستی کنٹرول۔جمعرات کو مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مہلک جھڑپیں شروع ہوئیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے دوران قابل اعتماد رپورٹس کی عدم موجودگی میں حالات کس طرح خطرناک حد تک قابو سے باہر ہونے لگے۔مظاہرین اور سکیورٹی فورسز دونوں کے درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں زخمی اور ہزاروں کو حراست میں لیا گیا۔ اس معاملے پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور دیگر آزاد آوازوں کے ساتھ حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ جاری بدامنی کو پرامن طریقے سے حل کریں۔ جب تک فوری طور پر تشدد اور مظاہرے بند نہیں ہوتے ، قازق معاشرے کے لیے اس بحران سے نکلنے کا راستہ بلکل غیر یقینی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.