بلوچستان کی ترقی میں خواتین کا کردار

0 6

قرآن مجید سورہ ‘ص’ یعنی سورہ نمبر 38 آیات نمبر 27 میں میرے رب نے انسان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ “آسمان و زمین اور انکے درمیان چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا” یعنی دنیا میں کوئی چیز بیکار نہیں پیدا کیا گیا اور یہ بات جس خوبصورتی سے قرآن نے انسان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے شاید کوئی کتاب سمجھا سکتا ہو۔
کوئی شے بیکار نہیں اور اسکا صاف مطلب یہی ہے کہ
دنیا میں موجود ہر ذرہ نیاب کا اپنا ایک منفرد مقام اور کردار ہے
جانداروں کا اپنا
تو
بے جانوں کی اپنی
مرد کا اپنا
تو عورت کی اپنی
پھر سوال پیدا ہونے لگتا ہے کہ ہم عورت ذات کو بےکار اور فرسودہ قوم کیونکر تصور کرتے ہیں؟ شاید یہ انسان کی سب سے بڑی بھول ہو کہ خواتین معاشرتی نظام میں کوئی خاص کردار ادا کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔
ہر گز نہیں!
تاریخ کو جنجوڑ کر اسکے اوراق پلٹے جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عورتوں نے ازل سے ہی معاشرتی نظام میں اصلاحات و بہتری کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے پھر چاہے وہ گھریلو معاملات، معاشی، سیاسی، کاروباری، سماجی اور اولاد کی صحیح پرورش ہی کیوں نہ ہو۔
کیا یہی عورت کاروباری (انٹرپرینیور) بن کر بلوچستان کے معاشی حالات میں اپنا کردار بھرپور انداز سے نہیں نبھا سکتی؟ بجائے کہی کام کرنے کے وہ ایک باس، رہنما بن کے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرسکتی؟
کیا معاشرے میں سدھار لانے کیلے سب سے بڑا ہاتھ خواتین کی نہیں ہوتی کہ قومیں اسی (عورت) ہی کے گود میں پل بڑ کر جوان ہوتے ہیں اور ایک زندہ قوم کہلوانے کے حقدار ٹھرتے ہیں۔
نیپولین بوناپارٹ نے کیا خوب کہا تھا کہ “آپ مجھے ایک اچھی (پڑھی لکھی ماں) خاتون دے میں تمہیں ایک پڑھا لکھا قوم دے دوں گا”
اور حقیقت بھی کچھ ایسا ہی یے کہ قومیں زندہ ہو یا مردہ، عمدہ ہو یا فرسودہ وہ کسی غیر شے کی مرہون منّت نہیں بلکہ ماں کی ہے جنہوں نے اسکی پرورش کی اور اسے پالا پوسا۔
یاد رہیں پاکستان میں 64 فیصد نوجوانوں میں چالیس سال سے کم عمر والے خواتین حضرات بھی شامل ہیں جنکی خدا داد صلاحیتوں کو استعمال نہ کرکے ہم نے اس ملک، قوم اور اس ذات (عورت) کے ساتھ انتہائی ظلم کی ہے۔
ورلڈ بینک رپورٹ (2020) کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کی 48 اڑتالیس فیصد خواتین پر مشتمل ہیں مگر ہم نے ان پر ظلم و ستم ڈھا کر انہیں اور ان جیسے عظیم کرداروں کو فراموش کرکے 52 فیصد آبادی پر بوجھ بنا دی وگرنہ وہ بھی معاشرتی، معاشی، سیاسی اور سماجی بوجھ اٹھاکر معاشرے کے اندر کام کرکے اپنا قرض چکانے لگ جاتے۔
بلوچستان میں بسنے والے خواتین کیونکر سب سے الگ، پیچھے اور نکمے شمار کئے جائے حالانکہ مہارت اور خداداد صلاحیتوں کو پرکھا جائے تو نوشین قمبرانی و یاسمین بسمل جیسے شاعر، روبینہ عرفان کریم جیسے بہادر، نڈر اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی سیاست دان، انسانی حقوق کی علمبردار فضیلہ عالیانی، راحیلہ درانی اور خورشید بڑوچہ جیسے عظیم شخصیات کا ملنا مشکل نہیں۔
بس ضرورت ہیں تو اس امر کا کہ ہمارے نوجوان لڑکیوں، خواتین اور بچیوں کا رجحان معاشرتی ترقی، عورتوں کا کردار اور اسکی اہمیت سے آگاہ کرنے کی وگرنہ یہاں بسنے والے بچیوں کی صلاحتیوں کے قاتل کوئی اور نہیں ہم خود ہی مانے جائینگے۔
عورتوں کو معاشرے اور بلوچستان کی سر زمین پر بوجھ نہیں بلکہ ترقی و معاشرتی اصلاحات میں برابر کے شریک کار بنایا جائے تاکہ (64) چونسٹھ فیصد نوجوان آبادی کو آدھا کرکے صرف نوجوان لڑکوں سے کام نہیں بلکہ چونسٹھ فیصد مرد اور عورت نوجوانوں کو زمہ داریاں سونپ کر ترقی کی جانب روا دوا کرکے معاشرے کیلئے مشعلِ راہ بنا دیا جائے۔
بلوچستان کی ترقی و خوشحال میں خواتین کا کردار نمایاں طور دیکھنے کو ملے گی اگرچہ انہیں ایسے پلیٹ فارمز اور ادارے میسر نہیں ہوئے جہاں پر رہہ کر، کام کر کے وہ اپنا فرض پورا کرسکے مگر جونہی ادارے، پلیٹ فارم اور مواقع فراہم کی جائینگی تو عورتوں کا کردار نکھر کر سامنے آئیگی کہ جو کم و بیش مردوں کے برابر کام کرکے اس خطے کو دنیا کا بہترین خطہ ثابت کرینگے۔
وہ مواقع کیا ہوسکتے ہیں جو اب تک میسر نہیں ہوئے؟
سوالوں کی بوچھاڑ نے پھر سے میری ذہن میں شور برپا کردیا ہے کہ
کیا ہماری بچیوں کو انٹرپرینیوریل (entrepreneurial) ادارے میسر ہوئے جن سے انکی ذہنی اصطلاح ہوجاتی۔ جن سے انکا اپنا بزنس آئیڈیا اخذ کرنے کی صلاحیت ابھرتی؟
کیا میرے بچیوں کو معیاری تعلیم مل چکی جو وہ ایک باکردار عورت بن کر معاشرے اور قوم کو نکھار سکھے؟
کیا بلوچستان میں ہر خواتین کے ساتھ ناروا اور تعصبانہ رویہ اختیار نہیں کی گئی کہ وہ باہر معاشرے میں اصلاح کیلے بنی ہی نہیں؟
شاید ان جیسے تمام سوالوں کے جواب میں ہم خود کو قصوروار ٹھراتے جائے مگر ایک آخری خواہش یوں ابھریگی کہ میرے بلوچستان کےبچیوں کو انکا تعلیمی، سیاسی اور سماجی حقوق دیئے جائیں۔ انکو تعلیم اور تعلیمی ادارے فراہم کرکے انکو ملک و قوم اور اس صوبے کی ہر چند زمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ انسان ہونے کے ناطے وہ بھی اپنا زہنی، جسمانی اور شعوری صلاحیتوں کو استعمال کرکے بلوچستان کی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.