ایک بہت ہی دل سوز واقعہ

0 34

عید الضحی میں چند روز رہ گئے ہیں۔ اس موقع پر بہت کچھ دیکھنے اور سُننے کو ملتا ہے۔ کل مجھے کسی دوست نے یہ بڑی ہی دل سوز تحریر واٹس ایپ کی ہے اور اصرار کیا ہے کہ میں اسکو کالم کے ذریعے شئیر کروں۔ یہ تو پتہ نہیں کے یہ کس کی تحریر ہے؟ لیکن جسکی بھی ہے ، لاجواب ہے۔

“قربانی کرنے والے دوست احباب مجھے ایک بار ضرور پڑھیں۔
شاید دنیا میں میں وہ واحد انسان ہونگا جسے عید کے قریب آنے پر خوشی نہیں ہوتی ،بلکہ میری کیفیت عجیب سی ہونے لگتی ہے ۔
ٹھیک ہے یہ اسلامی تہوار ہے منانا چاہیے لیکن میری اذیت میں اضافہ ہونے لگ جاتا ہے جب بھی عید قریب آنے لگتی ہے ۔
جہاں کہی بھی لوگ عید کا ،عید کی تیاریوں کا تذکرہ کرنے لگتے ہیں میں وہاں سے اٹھتا ہوں ۔
عید قربان جب بھی قریب آتی ہے تو کچھ لوگ قربانی اور جانور اور فلاں فلاں حصہ جیسی مصروفیات میں شامل ہوتے ہیں تو ایسے لوگ مجھے زہر لگنے لگتے ہیں ۔۔
میں اس کیفیت کی وجہ آج تک نہیں سمجھ سکا ۔۔
مجھے تو پانچ سال ہو گئے ہیں ،میں قربانی نہیں کر سکا ۔
لیکن اس کے باوجود جب بھی بڑی عید آتی ہے تو میں اس سے لاتعلق ہونے کی کوشش کرتا ہوں ۔
دو سال پہلے بڑی عید کے موقع پر میری بیٹیوں نے گوشت کے لیے ضد کی تھی۔۔۔لیکن اب وہ بھی سمجھدار ہو گئی ہیں ۔
ایک بار دو سال پہلے عید کے موقع پر میری چھوٹی بیٹی شازیہ مجھے کہتی ہے کہ

بابا…. بابا …. ہمیں بھی گوشت ملے گا نا ؟

میں نے کہا : ہاں ہاں کیوں نہیں بِالکُل ملے گا۔۔

لیکن بابا ….پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا،
اب تو پورا سال ہو گیا ھےگوشت دیکھے ہوئے بھی۔۔۔

میں نے بڑے پیار سے سمجھایا :بیٹا اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا،
میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ۔۔
میری بیٹی پھر بولنے لگی ۔۔
ساتھ والے انکل قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں،
اور سامنے والے چاچا اقبال بھی تو بکرا لے کر آئےہیں،

میں دل میں سوچ رہا تھا کہ ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے،
امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں،

یہی سوچتے ہوئے میں عید کی نماز کیلے مسجد کی طرف چل پڑا ۔
وہاں بھی مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں
کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کونہیں بھولنا چاہئے۔۔
ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔۔۔

خیر میں بھی نماز ادا کر کےگھر پہنچ گیا،

کوئی گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد میری بیٹی بولی۔۔

بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا ،

بڑی بہن رافیہ بولی ۔۔ چپ ہو جاؤ شازی بابا کو تنگ نہ کرو۔

میں چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا ۔۔
کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔
سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا،
کہیں بھول تو نہیں گئے ہماری طرف گوشت بجھوانا۔۔۔۔
آپ خود جا کر مانگ لائیں،

میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کیا عجیب بات کر رہی ہے ۔
میں نے نرمی سے کہا ۔۔
دیکھو شازیہ کی ماں۔۔۔۔ تمہیں تو پتہ ہے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں ،
اللہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کرے گا۔۔

دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے بار بار اصرار پر پہلے دوسری گلی میں ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے،
بیٹی کا مایوسی سے بھرا چہرہ برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔
اس لئیے مجبوراً اس کو ساتھ لے کر چل پڑا ۔۔۔

ڈاکٹر صاحب دروازے پر آئے تو میں بولا ۔۔

۔ ڈاکٹر صاحب میں آپ کاپڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتاہے؟
یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا،
اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے،
تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔
توہین کے احساس سے میری آنکھوں میں آنسو آ گۓ۔۔
لیکن بیٹی کا دل نہ دکھے ،آنسووں کو زبردستی پلکوں میں روکنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔

آخری امید اقبال چاچا ۔۔بو جھل قدموں سے چل پڑا ۔۔
ان کے سامنے بھی بیٹی کی خاطر گوشت کیلے دست سوال۔

اقبال چاچا نے گوشت کا سن کرعجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلےگۓ۔
تھوڑی دیر بعد باہر آئے تو شاپر دے کرجلدی سے اندر چلے گئے۔
جیسے میں نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔
گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی۔

خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے آیا اور بے آواز آنسو بہتے جارہے تھے ۔
بیوی آئی اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔
میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔

تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی ۔
اور بولی بابا
ہمیں گوشت نہںں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ۔۔
لیکن میں سمجھ گیا کہ بیٹی باپ کو دلاسہ دے رہی ہے ۔۔

بس یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں سے آنسو گرنےلگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
لیکن رونے والا میں اکیلا نہیں تھا۔۔
دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہی تھی
۔
اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئی ۔۔
جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔
آزاد بھائی ،
دروازہ کھولو،
دروازہ کھولا۔۔
تو اکرم نے تین چار کلوگوشت کا شاپر پکڑا دیا،
اور بولا ،
گاٶں سے چھوٹا بھائی لایا ہے۔
اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔
یہ تم بھی کھا لینا
خوشی اورتشکر کے احساس سےآنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔
اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔
گوشت کھا کر ابھی فارغ ہوئے ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔
بارش شروع ہو گئی، اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔
دوسرے دن بھی بجلی نہیں آئی۔
پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔

تیسرے دن میری بیٹی شازیہ اور میں باہر آئے تو دیکھا کہ،
اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔
جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔
اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔
شازیہ بولی ،
بابا ۔
کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی ؟
وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گئے ۔

اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔
یہ صِرف تحریر ہی نہیں،گذشتہ چند سالوں میں قربانی کے موقع پر آنکھوں دیکھا حال ہے۔
خدارا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا جو آپ کے آس پاس ہی رہتے ہیں ۔
قربانی کرنے والے مسلمانوں ابھی بھی وقت ہےسمبھال لو اپنے آپ کو سنت ابراہیمی پر غریبوں سفید پوشوں کا زیادہ حق ہے ۔اپنے اردگرد گلی محلوں میں رشتہ داروں میں ان مستحق غریبوں سفید پوشوں کو اولیت دیں۔
یہ آپ کی کی کی گئی قربانی کے جانوروں کے گوشت کے مستحق ہیں پہلے ان کو ان کا حصہ پہنچائیں پھر بعد میں تعلق داریاں کے فرائض ادا کریں۔”

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.