زرعی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، آبپاشی افسران کی کرپشن اور شدید قلت کے خلاف آبادگار سراپا احتجاج

0 32

میرپورخاص(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق زرعی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، آبپاشی افسران کی کرپشن اور شدید قلت کے خلاف آبادگاروں کی نوکوٹ سے میرپورخاص ریلی نکال کر میرپورخاص حیدرآباد روڈ پر دھرنا، دھرنے کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تفصیلات کے مطابق نارا کینال سے نکلنے والی جمڑاو اور میٹھڑاو کینال کی شاخوں کے آخری حصوں میں زرعی پانی کی شدید قلت غیر منصفانہ تقسیم اور محکمہ آبپاشی افسران کی کرپشن کے خلاف ٹیل آبادگار ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ہزاروں آبادگاروں نے ارباب انور، میر اعجاز تالپور، پروفیسر محمد یوسف راجپوت، سید اوصاف شاہ، زاہد نون، نصیر رمدان اور دیگر کی قیادت میں نوکوٹ سے بڑی ریلی نکالی گئی جو جھڈو، ٹنڈوجان محمد، ڈگری، میرواہ گورچانی اور دیگر شہروں سے ہوتی ہوئی میرپورخاص پہنچی جس کے بعد آبادگاروں نے میرپورخاص حیدرآباد روڈ پر واقع جمڑاو کینال کے پل پر دھرنا دے دیا دھرنے کے باعث دونوں اطراف کی ٹریفک معطل ہو گئی اور گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ مسافروں خصوصا فیملیوں کو شدید گرمی میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اس موقع پر آبادگار رہنماوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 روز سے مسلسل احتجاج اور دھرنا دیئے ہوئے ہیں لیکن کوئی بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے نارا کینال میں گنجائش کے مطابق پانی موجود ہے لیکن محکمہ آبپاشی کے افسران کی کرپشن اور پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم کی وجہ سے نہروں اور شاخوں کے آخری حصوں میں نہیں پہنچ پا رہا ہے انھوں نے کہا کہ نارا کینال ایریا واٹر بورڈ کے افسران بااثر اور بڑے زمینداروں کو پانی فروخت کر رہے ہیں اور پانی کی چوری میں بھی ملوث ہیں انھوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ سکھر سے لیکر سانگھڑ تک منڈ جمڑاو تک دونوں سب ڈویژنوں میں ہفتہ وار وارہ بندی ہے جبکہ نہروں اور شاخوں کے آخری حصوں میں 21 دن کی وارہ بندی کی جا رہی ہے انھوں نے کہا کہ نارا کینال کے کمانڈ ایریا میں چاول کی کاشت پر پابندی عائد ہے اس کے باوجود بااثر زمینداروں نے 80 ہزار ایکڑز پر چاول کی فصل کاشت کر رکھی ہے اور چاول کی فصل کو دیگر فصلوں کے مقابلے میں دوگنا پانی درکار ہوتا ہے لیکن چاول کاشت کرنے والے زمینداروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے انھوں نے کہا کہ نہروں کے آخری حصوں میں انسانوں اور جانوروں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں ہے اور تمام فصلیں سوکھ چکی ہیں جبکہ لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں انھوں نے کہا کہ نارا کینال کا ڈائریکٹر اتنا بااثر ہے کہ ضلعی کونسل کے اجلاس میں بھی آنے کو تیار نہیں ہے اور صوبائی وزیر آبپاشی بھی ہمارے علاقوں کے منتخب نمائندوں کی بات سننے کے بجائے پانی کی چوری میں ملوث محکمہ آبپاشی کے افسران کی حمایت کر رہے ہیں انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ پانی کی کمی کو دور کیا جائے اور شاخوں کے آخری حصوں کو مذید تباہ ہونے سے بچایا جائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.