مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمتہ اللہ علیہ کا یوم وفات 14اکتوبر

0 9

تحریر حافظ خلیل احمد سارنگزئی
جمعیت علماء اسلام کے قائد مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمتہ اللہ کا والد بزرگوار سابق امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا عبد الواحد رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جو محبت اور قلبی تعلق تھا اس سے خاندان کا ہر فرد متاثر ہے ، وہی محبت اور عقیدت آج بھی قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کی صورت میں قائم اور دائم ہے، اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اپنے عظیم قائد کے یوم وفات پر ان کی یاد میں چند جملے لکھ کر اس عقیدت کا حق ادا کرنے کی کوشش کررہا ہوں جو ہمیں میراث میں ملی ہے ، اس سلسلےمیں عرض ہےکہ دنیائے اسلام کی وہ سعید و نیک ہستی جن کی سیاسی بصیرت اور فکر نے دنیائے سیاست میں ایک نئی امنگ پیدا کی‘ اس میں بیسوی صدی عیسوی کے کئی دانشور اور مفکر نظر آئیں گے لیکن ان میں ایک ہستی ایسی تھی جو سب سے ممتاز و منفرد ہے۔ جسے دنیا شہنشائے سیاست‘ مفکر اسلام ‘ مفتی اعظم پاکستان قائد اسلامی انقلاب‘ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے نام سے جانتی ہے۔ کسی شخص کی عزت و عظمت کا اندازہ اس کے نام سے نہیں بلکہ سیرت و کردار اور علم و فضل سے ہوتا ہے۔ تاہم نام سب سے بھی بسااوقات کسی کی خاندانی روایات‘ علمی برتری اور روحانی وجاہت سامنے آتی ہے۔ مفتی محمودؒ کو قدرت نے یہ دونوں شرف عطا فرمائے تھے‘ آپ کا خاندان کئی پشتوں سے علم و فضل اور روحانیت کے حوالے سے انتہائی بڑے مقام کا حامل تھا۔ حضرت مفتی محمودؒ جیسے لوگ صدیوں بعد دھرتی پر جنم لیتے ہیں اور جب اس دارفانی سے کوچ کرتے ہیں تو تاریخ انہیں اپنا عنوان قرار دیتی ہے۔ آپ نے اس وقت کارزار سیاست میں قدم رکھا‘ جب علماءاور دین دار طبقے کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ حکومت کی کاسہ لیسی کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے اور حکومت کی مخالفت کی ان میں جرا ¿ت ہی نہیں۔ ایسے حالات میں حضرت مفتی صاحب کی عملی زندگی ایک انقلابی نمونہ دکھائی دیتی ہے۔ آپ انتہا پسند اور فرقہ واریت کی رو میں بہہ جانے والے علماءمیں سے ہرگز نہیں تھے‘ آپ نے دین کی وسعت نظری کے پہلو کو ہمیشہ ترجیح
دی، جمعیت علمائے اسلا م کی بنیا دوں اور تعمیر وتر قی میں حضر ت مفتی صا حب کی خدما ت کسی سے مخفی نہیں ،شیح التفسیر مو لا نا احمد علی لا ہو ری ؒ نے جب جمعیت علما ئے اسلا م کے احیا ء کی ضرورت محسو س کی جس کی بنیا د پا کستان کے بننے کے بعد شیخ الا سلا م علا مہ شبیر احمد عثما نی ؒنے رکھی تو حضر ت لاہو ری ؒ کے سا تھ جن شخصیات نے جمعیت علمائے اسلا م کو ملک گیر جما عت بنا نے کے لیے بنیا دی کر دا ر ادا کیا ان میں مو لا نا مفتی محمودؒ، مو لا نا محمد عبد اللہ در خو استیؒ ، مو لا نا غلا م غوث ہز اروی ؒ ؒ ؒؒ، مو لا نا مفتی عبد الو احدؒ ، مو لا نا محمد اجمل خان ؒ کا نا م ہمیشہ سنہری حرو ف سے لکھا جا ئے گا پا کستان کے پہلے آئین کے اندر اسلا می قوانین کا مکمل نفا ذ ہو تا، لیکن اس کے با لکل برعکس اس آئین میں اسلا م کو صر ف دیبا چے تک محدود رکھا گیا اور غیر اسلا می قو انین کے نفا ذ کی کوشش کی گئی، جمعیت علما ئے اسلام کی قیا دت اس خطر ے کو بھا نپ گئی اور آئین سے غیر اسلا می دفعا ت کے خاتمے کے لیے حکومت پر زور دیا ،چنا نچہ مفتی صا حب ؒ کی قیادت میں اس فر یضے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے نہ صر ف غیر اسلا می شقوں کو بے نقا ب کیا اور عو ام کو آگا ہ کیا، بلکہ اس پر ایک جا مع رپو رٹ بھی تحریر کی ۔ مفتی صا حب ؒنے لکھا کہ مسلمانوں کو 1956 کے اس آئین کے با رے میں کسی خو ش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چا ہیے، کیو نکہ اس میں اسلا م کو بطور تمہید ذکر کیا گیا ہے جو قا نو نا ً دستو ر کا حصہ نہیں بنتا۔
مفتی صا حب ؒ نے صو بہ سر حد (کےپی کے) وزارت اعلی کا قلمدا ن سنبھا لا اور قلیل مدت میں جو دینی اور سیاسی کا رہائے نما یا ں انجا م دیئے ۔مخالفین بھی اس کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ صو بہ سر حد کی فضا کو اسلامی بنا نے کے لیے انہو ں نے وہ تما م اقدا ما ت کیے جو قا نون نے وزیر اعلیٰ کو دئیے تھے ۔مثلا ً شراب پر پابندی ،مسا جد کو زیادہ سے زیا دہ آبا د کر نا ،صو بے میں دینی تعلیم کے فرو غ کے لیے اقدامات، جمعۃ المبا رک کے اجتما عا ت کو عو ام کے لیے تر غیبی اندا ز میں ڈھا لنا او ر اس کی تدابیر ،اوقا ف کی مسا جد کے علماء کو باوقا ر مقام عطا کر نا ،سنیما گھروں کی غیر اسلامی حرکات کی مؤ ثر روک تھا م ،اسکول اور کا لج میں اسلا می تعلیمات کو فر وغ دینے کے لیے مختلف تدابیر کا استعما ل، ملک کے جید علما ئے کرام سے مشاورت کا اہتمام ،تا کہ اس کی روشنی میں وفاقی حکومت کو اسلا می نظام قا ئم کرنے کے لیے رہنمائی دی جا ئے ۔
ایک مدرسے کے پڑھے ہو ئے اور مدرسے میں پڑھانے والے ایک عالم اور شرعی مسائل پر فتوے دینے والے ایک مفتی نے سیاست میں اس طرح حصہ لیا کہ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے ہجوم میں نہ صرف نمایاں ہوا،بلکہ بہت سوں کو سیاست کاسبق پڑھایااور اسلامی سیا ست سے روشناس کروایا ۔آپ کی سیا سی مسائل پر رائے فتوے کی طرح محترم سمجھی جاتی تھی، گو یا ملکی تاریخ کو پہلی بار دین وسیاست کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا وہ 1980ء میں کراچی میں سفر حج کی تیاری میں خالق حقیقی سے ملے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.