بلوچستان لیویز کے پولیس میں انضمام کے بعد سنیارٹی کے مسائل پھرجنم لینے لگے

0 8

صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سال 2004 میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا تھا، جبکہ سال 2010 میں اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سال 2003 میں لیویز فورس میں بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران ایک بار پھر ناانصافی کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سال 2003 میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور، حکومت بلوچستان نے لیویز فورس میں بطور ایس ایچ او کام کرنے والے ریونیو ڈپارٹمنٹ کے تحصیلدار/نائب تحصیلداروں کی جگہ لیویز کے اپنے آفیسران تعینات کرنے کے لیے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے صوبے بھر سے 115 اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران اور 44 انویسٹیگیشن/انٹیلیجنس آفیسران کی بھرتی کی۔ جولائی 2003 سے اگست 2004 تک ان افسران نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ سے باقاعدہ تربیت حاصل کی، جس کے بعد انہیں آن جاب ٹریننگ پروگرام کے تحت تین ماہ کے لیے تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ تین ماہ کی تکمیل کے بعد ان افسران نے بلوچستان لیویز فورس کا باضابطہ کمانڈ سنبھالنا تھا، تاہم اسی دوران لیویز کو ختم کرکے پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
اس سلسلے میں ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ لیویز فورس کے تمام اہلکاروں اور افسران کو پولیس میں ون اسٹیپ اپ دیا جائے گا۔ اس فیصلے کی بنیاد سال 1991 کے محکمہ داخلہ کے ایک نوٹیفکیشن پر رکھی گئی، جس میں سپاہی سے لے کر رسالدار تک اگلے اسکیلز کے لیے ایک وضاحتی جدول درج تھا۔ چونکہ اس جدول میں رسالدار میجر اور انویسٹیگیشن آفیسرز (گریڈ 14) کا ذکر موجود نہیں تھا، لہٰذا محکمہ داخلہ نے متنازع فیصلہ کرتے ہوئے رسالدار میجرز کو گریڈ 14 سے بڑھا کر پولیس میں گریڈ 16 میں بطور انسپکٹر ضم کر دیا۔ اس کے برعکس پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیے گئے اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران کو ان کے موجودہ گریڈ 14 میں ہی پولیس میں بطور سب انسپکٹر ضم کرنے کا علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
اس ناانصافی پر متعدد اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران نے پولیس سروس چھوڑ دی، جبکہ باقی نے عدالت سے رجوع کیا اور فیصلہ بھی ان کے حق میں آیا، مگر بدقسمتی سے اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
بعد ازاں اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران کی خالی رہ جانے والے آسامیوں پر سال 2007 میں پبلک سروس کمیشن کے بجائے محکمہ داخلہ نے بذریعہ ڈائریکٹر جنرل لیویز اپنا ٹیسٹ/انٹرویو لے کر بھرتیاں کیں۔ یہ بعد میں بھرتی ہونے والے افسران لیویز کی بحالی کے بعد لیویز فورس میں واپس چلے گئے، جبکہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے افسران پولیس میں ہی رہ گئے۔
لیویز فورس میں سال 2007 میں بھرتی ہونے والے ان اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران کو اپ گریڈ کرتے ہوئے گریڈ 14 سے گریڈ 16 دیا گیا اور 2018 میں گریڈ 17 پر انویسٹیگیشن آفیسر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ اس کے برعکس پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران پولیس میں 14 سال ایک ہی رینک پر خدمات انجام دینے کے بعد بمشکل سال 2022 میں گریڈ 17 میں بطور ڈی ایس پی پروموٹ ہوئے۔
اب اطلاعات ہیں کہ لیویز کے دوبارہ پولیس میں انضمام پر رسالدار میجرز (گریڈ 16) کو ایک مرتبہ پھر نوازا جا رہا ہے اور پولیس میں گریڈ 17 بطور ڈی ایس پی جبکہ سال 2007 میں بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ انویسٹیگیشن آفیسران کو گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں بطور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ضم کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس طرح سال 2003 میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے افسران 4 سال بعد 2007 میں محکمہ داخلہ کے ذریعے بھرتی ہونے والوں کے ماتحت ہو جائیں گے، جو فورس جیسی ڈسپلن سروس میں کیسے ممکن ہے؟
لیویز کے رسالدار میجرز کو دونوں مرتبہ انضمام پر اگلے گریڈ میں ترقی دینا جبکہ اسی فورس کے کمیشن یافتہ افسران کو مسلسل نظرانداز کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ فورس کے نظم و ضبط اور قواعد کے خلاف بھی ہے، جس کے باعث افسران میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.