مجرمانہ ریاستی غفلت اور اداسیوں کا زوال

0 12

آج جس موضوع پر آپ سے مخاطب ہوں اس کا محرک ایک انتہائی دل سوز واقعہ ہے، قارئین جب میں نے سوشل میڈیا پر گاڑیوں میں تڑپ کر جان دینے والے معصوم بچوں کی تصاویر دیکھیں تو یوں لگا جیسے کسی نے مجھے جھنجھوڑ دیا ہو، آج کی یہ تحریر شائد وہ پہلا مضمون ہے جس کو میں اپنے دل میں اترنے والی ایک زنجیدہ کیفیت میں لکھ رہا ہوں اور ایک کرب ناک احساس نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ اس سے قبل کہ میں اپنے موضوع کو آگے لے کر چلوں، قارئین سانحہ مری کے انتظامی اور ریاستی پہلو سے میرے ذہن میں رتی برابر بھی شک نہیں ہے کہ یہ واقعہ سراسر مجرمانہ ریاستی اور انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے جو لوگ اس پہلو کے حوالے سے کسی شک و شبہ کا شکار ہیں وہ یقینا کسی ذاتی مفاد کی خاطر عوام الناس کو گمراہ کرنے کا فریضہ بہت تنگ دہی سے سرانجام دے رہے ہیں۔
قارئین کرام، حادثات قوموں کی زندگی میں آتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم نے اس واقعہ کو کس طرح اجتماعی طور پر ڈیل کیا ہمارا انفرادی اور اجتماعی ردعمل کیا تھا اور وہ ہمارے کن رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ جب حکومت نے یہ سمجھ لیا کہ برف ہٹانے کی مشینوں کی Maintenance اور ان کو برف پڑنے کی صورت میں متحرک کرنا مری کے مقامی افراد اور سیاحوں کا کام تھا اور ان کی غفلت اور لاپرواہی سے سڑک صاف نہیں ہوسکی تو پھر حکومت وقت کی ذہنی اور اخلاقی پستی کراوٹ اور دیوانے پن کے لیول کا اندازہ لگانا میرے اور آپ کے لئے شائد کوئی مشکل کام نہیں اور ہمیں اپنے موضوع کے اس پہلو پر وقت بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ دراصل صدمہ اور دکھ اس بات کا ہے کہ بحیثیت قوم اور معاشرہ ہم نے سانحہ مری سے سبق سیکھنے، اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرے، خود احتسابی کے بجائے خانہ بدوش ”چنگڑوں” کی طرح ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے اور پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں مبتلا ہوگئے۔
یقین جانئے سانحہ مری کے اجتماعی ردعمل کو دیکھ کر مجھے ایک بار پھر یقین کی حد تک احساس ہوگیا کہ ہم مجموعی طور پر ایک باضابطہ اور باقاعدہSettled معاشرہ کی تشریح سے مکمل طور پر باہر ہیں جنگل میں رہنے والے جانور بھی کسی حادثہ کی صورت میں اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتے جو ہم نے کیا۔ کتنے افراد اور تنظیمیں جان دینے والے شہداء کے لواحقین تک پہنچی اور ان کی دل جوئی کی الٹا الزامات کی جنگ ان مظلوموں کے زخموں کو تازہ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔
ہم نے بحیثیت مجموعی سوشل میڈیا پر جس زور اور شور سے مقامی آبادی پر الزامات کی بوچھاڑ کی، اگر اسی شد مد سے ہم حکومت وقت سے ایک آواز ہو کر یہ مطالبہ کرتے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار حکومتی، ریاستی اور سرکاری کرداروں کو کس انداز میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے؟
سزا کا طریقہ اور اسے سبق آموز کیسے بنایا جائے گا؟ راقم نے اپنے بچپن سے مری کے کئی سرد موسم دیکھے، ساٹھ کی دہائی میں عام طور پر مری کے ان علاقوں میں جہاں حادثات ہوئے 5سے 6فٹ برف پڑتی تھی اور ایک دفعہ 8فٹ برف بھی پڑی، یہ اس زمانے کی بات ہے جب وسائل اس سے کہیں کم تھے، آج گو کہ آبادی اور سیاحوں کی تعداد بڑھ گئی ہے مگر اس وقت نہ تو دو رویہ ایکسپریس وے تھی نہ ہی انتظامیہ کے پاس 23سے زیادہ برف صاف کرنے کی مشینیں تھیں۔ کیا مکروہ اور بدنما اتفاق ہے کہ اموات کی تعداد بھی 23ہے، انتظامیہ اور حکومت پنجاب نے بڑے نپے تلے انداز میں، اعداد کو مدنظر رکھ کر خون کی یہ ہولی عوام کے ساتھ کھیلی ہے۔
قارئین کرام قانونی حوالے سے آج میں آپ کے ساتھ ایک نیا انکشاف شیئر کرنے جارہا ہوں۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 52میں Good Faith یعنی نیک نیتی کی تعریف درج ہے۔ ”کوئی بھی ایسا عمل جس میں احتیاط اور توجہ سے کام نہ لیا گیا ہو نیک نیتی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔”
مقامی انتظامیہ اور حکومت کا ان موقعوں پر سب سے بڑا عضر اور دفاع یہ ہوتا ہے کہ اس غفلت میں کسی بھی سرکاری اہلکار کی بدنیتی شامل نہیں تھی، تو قارئین کرام سن لیجئے نیک نیتی کے لئے مکمل احتیاط اور توجہ کا ہونا لازمی امر ہے، بصورت دیگر یہ غفلت ”جرم” کے زمرے میں آتی ہے جس کا ارتکاب انتظامیہ اور حکومت پنجاب نے کیا۔
محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے باوجود مری میں کس جگہ پر کنٹرول روم بنایا گیا؟ کتنی مشینوں کا معائنہ کیا گیا؟ انہیں کن مختلف لوکیشن پر کھڑا کیا گیا، ان کے آپریٹر کو کیا ہدایات دی گئیں؟ محکمہ شاہرات پنجاب کے کتنے پرانے افسران سے رابطہ کرکے پلان بنایا گیا جن کا مری میں برف سے ڈیل کرنے کا تجربہ تھا۔ اگر ہمارے خود غرض حکمرانوں اور نااہل انتظامی افسران کا کوئی ذاتی مسئلہ ہوتا تو وہ کبھی اس مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے اگر ان کے گھر کا ایک پانی کا پائپ یا ٹوٹی بھی خراب ہوتی ہے تو وہ ماہرین کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جبکہ عوام اور عوامی تحفظ ان کے نزدیک محض ایک کتابی بات ہے اور جو فرد یا سرکاری اہلکار اسے اپنا فرض سمجھ کر درد دل کے ساتھ ادا کرتا ہے وہ ”بیوقوف اور Stupidہے اور جو عوامی وسائل کو لوٹ کر اپنے محلات تعمیر کرتے ہیں، ہمارے دانشور برائے نام پڑھے لکھے طبقے کی نظر میں وہ بہت لائق یا Competent ہوا کرتے ہیں جس نے لوٹ مار سے دولت نہیں بنائی وہcompetent Inہے اچھی لوکیشن کا پلاٹ ”اچھے” سٹیشن پر پوسٹنگ اشرافیہ اور سیاست دانوں سے اچھے مراسم ، سہل پسندی، ڈنگ ٹپائو پروگرام، قیمتی لباس، جوتے، خوشبو اور بیرون ملک سیر، اولاد کی مہنگے سکولوں میں تعلیم اور بہت اوصاف، جب تک یہ خصائص اور خصوصیات ہماری بیورو کریسی، انتظامیہ محکمانہ افسران اور عوامی نمائندوں موجود رہیں گے خدانخواستہ ہمارا ایسے حادثات اور سانحات سے واسطہ پڑتا رہے گا۔ اللہ ہمیں ان شرپسند عناصر کے شر اور حوس سے محفوظ رکھے۔ آمین
میری مادر وطن مری کا بہتر دیہی علاقہ آج بھی بجلی کی بندش سے پچھلے ایک ہفتے سے تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بے یارومددگار عوام اپنے ان ہم وطنوں سے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ جو الزامات کی جنگ میں مصروف ہیں کہ
لکھتا ہے مجھے خط وہ میرے خون جگر سے
میرے دل کے جانے کے یہ اسباب تو دیکھو
قارئین کرام، آئیے ہم سب مل کر علاقائی تعصب سے نکل کر خوداحتساب کے عمل کا آغاز کریں خود غرض اور نااہل بے درد حکمرانوں اور بے رحم انتظامی مافیاء سے نجات کے لئے آواز بلند کریں، اپنی اصلاح کریں جارحانہ اور سوشل میڈیا پر Self Projection خود نمائی اور پوائنٹ سکورنگ کے شیطانی دائرے سے نکل کر اللہ سے توبہ کریں اور عذاب کے ان اسباب کی نشاندہی کریں جو مختلف صوتوں میں ہم پر مسلط ہے۔ اللہ کی کتاب ہمیں صاف بتاتی ہے کہ جب ہم تم پر عذاب نازل کریں گے تو پھر تمہیں مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیں گے جیسا کہ آپ آج دیکھ رہے ہیں۔ جب معاشروں اور قوموں کا سانحہ اور غم ایک نہ رہیں اور وہ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے نظر آئیں تو سمجھ لیجئے اللہ ناراض ہے۔
یہی اک سانحہ کچھ کم نہیں ہے
ہمارا غم تمہارا غم نہیں ہے
قارئین کرام آئیے ایک منظم، متحد اور مہذب معاشرے کی تشکیل اور مستقبل میں اس طرح کے سانحوں سے بچنے کے لئے اللہ کو راضی کریں اپنے عیوب پر نظر ڈالیں اور دوسروں میں خوبیاں تلاش کریں اور اس سانحہ کے غم کو قوت میں تبدیل کریں۔
میرے لوگ خیمہ صبر میں، مرا شہر گرد ملال میں
ابھی کتنا وقت ہے اے خدا ان اداسیوں کے زوال میں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.