فضائل سیدنا صدیق اکبر ؓ حدیث میں

0 280

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی فضیلت کو قرآن وحدیث میں بے شمار مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ ازراہ تبرک ذخیرۂ احادیث میں سے چند پیش خدمت ہیں۔
(1) صدیق اکبر ؓ پیغمبرِ اسلامﷺ کے خلیل:
سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو یہ تمغہ اعزاز حاصل ہے، کہ امام الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اپنا خلیل بنانے کی آرزو کی ہے، جیسا کہ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 273ھ) اپنی کتاب’’سنن ابن ماجہ‘‘ میں روایت کرتے ہیں:
’’قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم :’’ ولو کنت متخذاً خلیلاً، لاتخذتُ أبابکر خلیلاً۔‘‘ (سنن ابن ماجہ،ج:1،ص:70،رقم الحدیث:93)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو دوست بناتا، تو ابوبکرؓ کو دوست بناتا۔‘‘
امام ابوالقاسم ہبۃ اﷲ بن الحسنؒ (متوفی418ھ) اس بات کو مزید وضاحت سے نقل کرتے ہیں، جیسا کہ آپ اپنی کتاب ’’شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ‘‘میں روایت کرتے ہیں:
’’عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ خرج رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم عاصباً رأسہٗ بخرقۃ في مرضہ الذيمات فیہ ۔۔۔ قال: ’’لو کنت متخذًا من الناس خلیلاً، لاتخذت أبابکرؓ۔‘‘ (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، ج:7، ص:347، رقم الحدیث:2408)
’’حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں؛ کہ نبی کریم ﷺ باہر نکلے، اس مرض میں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس حال میں کہ رسول اکرمﷺ کے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا؛ اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا، تو میں ابوبکرؓ کو دوست بناتا۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا تعلق تھا؛ کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اپنا دوست بنانے کی بات کر رہے ہیں۔
(2) انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد مخلوق میں سب سے افضل ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔
(خیرالخلائق بعد الأنبیاء)
سیدنا ابوبکر صدیق ؓ روئے زمین پر انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد سب سے افضل انسان ہیں، اسی بات کی جانب امام الأنبیاء محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کلام میں اشارہ کیا ہے، جس کو امام ابوبکر بن ابی عاصم الشیبانی ؒ(متوفی:276ھ) اپنی کتاب ’’کتاب السنۃ‘‘میں روایت کرتے ہیں:
’’عن أبي الدرداء قال: رأٰني رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم وأنا أمشي بین یدي أبي بکر، قال: ’’لِمَ تمشيأمام من ہو خیر منک؟ إن أبابکر خیر من طلعت علیہ الشمس وغربت۔‘‘
(کتاب السنۃ، ج:2،ص:575، رقم الحدیث:1224)
’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں؛ کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اس حال میں کہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے آگے چل رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ تم اس کے آگے کیوں چل رہے ہو، جو تم سے بہتر ہے؟ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ جتنے لوگوں پر سورج طلوع ہوتا ہے، ان تمام میں حضرت ابوبکر ؓسب سے افضل ہیں۔ ‘‘
اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 241ھ) اپنی کتاب’’فضائل الصحابۃؓ‘‘میں اس بات کو حضرت علی کرم اﷲ وجہہٗ کے حوالے سے یوں بیان فرماتے ہیں؛
’’خطبنا عليؓ علٰی ھذا المنبر، فحمد اللّٰہَ وذکرہٗ ماشاء اللّٰہ أن یذکرہٗ ۔۔۔فقال: ’’إن خیرالناس بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم أبوبکر۔‘‘
(فضائل الصحابۃؓ،ج:1،ص:355،رقم الحدیث:484)
حضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہٗ ایک دن خطبہ کے لیے منبر پر تشریف لائے، اور اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، اس کے بعد ارشاد فرمایا؛ کہ بے شک لوگوں میں سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی ذاتِ گرامی ہے۔‘‘
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے، کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے افضل ہیں، اور تمام صحابہ کرام ؓ اس بات کے معترف تھے۔
(3) سیدنا صدیق اکبر ؓ جنت میں پیغمبرِ اسلامﷺ
کے رفیق:
ہر صحابی ؓ جنتی ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تمام صحابہ کرام ؓ کے لیے اپنی رضا اور خوش نودی کا اعلان کیا ہے، لیکن بعض ایسے بھی خوش نصیب ہیں، جنہیں نبوت نے اپنی زبانِ مبارک سے نام لے کر جنتی ہونے کی بشارت دی، جیسے عشرہ مبشرہ صحابہ کرام ؓ ہیں، لیکن سیدنا صدیق اکبر ؓ ان خوش نصیب افراد میں سے ہیں، جن کو نہ صرف آنحضرتﷺ نے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے، بلکہ اس کے ساتھ اللّٰہ تعالٰی سے جنت میں اپنا رفیق ہونے کی بھی درخواست کرتے ہیں، جیسا کہ امام ابوبکر محمد بن حسین الآجری بغدادیؒ (متوفی360ھ) اپنی کتاب ’’الشریعۃ‘‘ میں آنحضرتﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں:
’’عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ، قال: رفع رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم یدہٗ، وقال: ’’اللّٰھم اجعل أبابکر معي في درجتي یوم القیامۃ، فأوحٰی إلیہ أني قد استجبت لک۔‘‘
(الشریعۃ، ج:4،ص:1786،رقم الحدیث:1275)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛ کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے(ایک مرتبہ) اپنے ہاتھ کو(اللہ کے دربار میں) اُٹھایا،اور فرمایا؛ اے اللہ! ابوبکر صدیق ؓ کو قیامت کے دن میرے ساتھ درجہ عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی گئی، کہ ہم نے آپ کی دعا کو قبول کرلیا ہے۔‘‘
اس ارشاد مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ جنت میں نبی کریمﷺ کے رفیق ہوں گے، کیوں کہ اس کی نہ صرف آنحضرتﷺ نے دعا مانگی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے شرف قبولیت بھی عطا فرمائی۔
ذخیرۂ احادیث میں سے چند آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں۔ اللہ تعالی اسلام کے اس بطل جلیل پر اپنی خصوصی رحمتیں اور برکات نازل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.