سردارعطاءاللہ رح کیلئے وطن اداس ہے تو وطن کا سر اونچابھی۔

0 83

باباءبلوچستان دھرتی کی مٹی پر آنکھ کھولے تو بلوچستان افلاس لاعلمی لاشعوری کے پنجوں میں جکڑا ہوا تھا، کسی کو پتہ نہیں تھا کہ نواب رسول بخش کے گھر میں آنکھ کھولنے والا شیر بڑا ہوکر ان اندھیروں کو اجالا بخشے گا، لاشعوری کو شعور عطاکریگا، خوف کے بادلوں کے گھن گرج میں حق صداقت کا علم بلاخوف خطر لہرائیگا، سرزمین کی محبت کو نیا رنگ و بو عطاکریگا، جس کا سحر سب پر حاوی ہوگا، دورقریب کے سب پرستاروں کو جنون عطاکریگا، وہ پروانہ بن کر شمع پر مرمٹنے کو بےتاب ہوگا، وہ سیاست کے ایوانوں میں تو درو دیوار ہلاکر رکھ دیگا، وہ عقابی آنکھوں سےدشمن کا دھڑکن دھڑکائیگا، وہ بولےگا تو الفاظ موتی کی مانند پروتے جائیں گے، حق گوئی کی پاداش میں لخت جگر تک قربان کرکے مسکراکر دنیاء جہان کو یہ پیغام دیگا کہ قربان ہونا کوئی ہم سے سیکھے جانیں فدا کرکے منزل کی جانب محو سفر رہتے ہیں، عشق کی راہوں کو نیا راستہ نئی منزل عطاکرتےہیں۔، ہم پہاڑوں کے بیٹے اونچارہنا ہی پسندکرتےہیں، ہمیں ہمارے پہاڑوں نے جھکنا سیکھایا ہی نہیں، ہر روز بوہر، بولان، شاشان، ہربوئی، پارود، سرلٹ، چلتن، میرگھٹ، گاورو، پھب، صبح صبح ہمیں پیغام دیتےہیں، ہم جیسا سر اونچا رکھنا، استقامت میں رہنا، غیرمتزلزل رہنا،

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.