طاقتور ریاستیں اپنے مفاد کےلئے مذہب، عقائد اور قومیت کااستعمال نہ کریں،محمود خان اچکزئی

0 61

لورالائی ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذات، مذہب، ثقافت، اور زبان صرف زندگی اور شناخت کے پہلو¶ں میں سے ہیں۔ یہ انسانیت کو تقسیم کرنے کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہئے اور نہ اس کے بنیاد پر کسی سے امتیازسلوک کرنا چاہئے۔ کسی بھی شخص کو، چاہے وہ ہندو ہو، مسیحی ہو، یا کوئی اور مختلف عقائد کی بنیاد پر صرف ایک اقلیت نہیں مانا جانا چاہئے۔ ہزاروں سالوں سے یہاں رہنے والے ہندو، معاشرت کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں برابر حقوق اور حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ امن اور ترقی کےلئے مذہب اور نسلی اہم آہنگی اور اس کے انصاف ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چودھری چاند اصغر کے گھر اور ہندو پنچائیت کی جانب سے منعقدہ دیوالی کی تقریب میں شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری عبدلرحیم زیارتوال، ضلع لورالائی کے سیکرٹری صفدر میختروال کے علا¶ہ دیگر مرکزی اور صوبائی رہنما بھی موجود تھے۔ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہ عقائد اور ایمان شخصی معاملات ہیں اور مذہب، رنگ، ذات، یا قومیت پر مبنی تمیز ناقابل قبول ہے۔ ہزاروں سالوں سے یہاں رہنے والے ہندو اس سماج کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں برابر حقوق اور حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ طاقتور ریاستیں اپنے مفاد کے لئے مذہب، عقائد اور قومیت کا استحصال اور استعمال نہ کریں۔انہوں نے اس بات پر افسوس کیا کہ مغرب نے جانوروں کے حقوق کے لئے تفصیلی چارٹرز بنائے ہیں مگر وہ پراکسی جنگوں میں سیاسی، تزویراتی اور معاشی مفادات کا حصول لاکھوں افراد کی موت کا باعث بنتی ہے، افغانستان، عراق، لیبیا، اور شام اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں مغرب نے افغانستان میں سوویت اتحاد کو روکنے کے لئے جو جنگ کی وہ جنگ تباہی کا باعث بنی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی تعمیرنو اور ترقی کی ذمہ داری روس، امریکن لیڈ مغرب، اور دوسرے ممالک پرعائد ہوتی ہےں جو افغان جنگ میں شامل ہوئے۔انہوں نے پشتونوں پر زور دیا کہ موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے قبائلیت اور قبائیلی تعصب سے نکل کر اپنے صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ محمود خان اچکزئی نے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ لورالائی کا بھی دورہ کیا ۔ جہاں انہوں نے جامعہ اسلامیہ مدرسہ کے دورہ کے دوران مدرسہ کے محتمیمین اور علماءسے مختلف موضوعات پر گفتگو کیا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.