وزیراعظم عمران خان کہیں نہیں جا رہے ہیں، پی ڈی ایم کو پارلیمان میں مذاکرات کی پیش کش: فواد چوہدری

0 4

اسلام آبادر(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پی ڈی ایم کو پارلیمان میں مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کہیں نہیں جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو محمود اچکزئی کی پنجاب داخلے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔اسلام آباد میں معاون خصوصی شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ‘جو آج کیپٹن، میجر، کرنل، بریگیڈیئرز، میجر جنرلز اورجنرل اور سربراہان کے عہدوں پر ان سب نے اپنے جوانوں کے ساتھ سینے سربکف کیے ہیں اور یہ ان کے ساتھ لڑ کے یہاں پہنچے ہیں، نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اس بیانیے کی کوئی وقعت نہیں ہے،

یہ پنجاب اور پاکستان میں بک نہیں سکتا ہے، اسی لیے کل کا جلسہ بھی ناکام ہوا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وہاں محمود اچکزئی جو ہر جگہ جاکر متنازع باتیں کرتے ہیں اور خود کو افغان بچہ کہتے ہیں، یہ عبدالصمد اچکزئی کے بیٹے ہیں جو کانگریس کے صدر تھے اور کانگریس پاکستان بننے کے خلاف تھی’۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘یہ لوگ نسل در نسل پاکستان کے مخالف ہیں، یہ صرف پنجاب کے مخالف نہیں، یہ پاکستان اور وفاق کے مخالف ہیں، انہوں نے اپنا کردار بیرونی طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر رکھا ہے، اس سے زیادہ ان کی حیثیت نہیں ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا گلہ محمود اچکزئی سے نہیں ہے،

وہ کراچی جاتے ہیں اردو زبان کے خلاف بات کرتے ہیں، پنجاب میں آتے ہیں، لاہور اورپنجاب کی تاریخ پر بات کرتے ہیں، جس کا انہیں اے بی سی کا نہیں پتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پنجاب کو یہ کہنا کہ اس نے آزادی کے لیے لڑائی نہیں لڑی، اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوگی، پنجاب کی تاریخ پڑھنا شروع ہوں تو ہزاروں سال پہلے جب سکندر اعظم عروج پر تھا تو پنجاب اور پوٹوہار کے سپوت راجا پورس نے یہاں روکا تھا

اور یہاں سے واپسی ہوئی تھی، راجا پورس سے شکست کھانے کے بعد جب سکندر اعظم واپس جارہا تھا تو ان کی وفات ہوئی’۔انہوں نے کہا کہ ‘تاریخ میں کتنے پنجابی اورلاہوری ہیں جنہوں نے اس زمین اور اس زمین کے لوگوں کے لیے اپنا خون دیا ہے، جب پورے ہندوستان میں انگریز کا طوطی بولتا تھا تو پنجاب سب سے آخر میں ان کے تسلط میں گیا’۔فواد چوہدری نے کہا کہ ‘رنجیت سنگھ کے بعد 1857 کی جنگ آزادی ہوئی تو دولا بھٹی اور کھرل جیسے بڑے کرداروں نے انگریزوں کے خلاف بندوقیں اٹھائیں اور پنجاب کی سرزمین پر اپنے لہو سے داستانیں لکھیں اور لاہور میں بھگت سنگھ نے پنجاب کو وہ فخر دیا

جو ہمیشہ ہماری تاریخ کا حصہ رہے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے بعد علامہ محمد اقبال جیسا بڑا فلاسفر پنجاب نے صرف ہندوستان کو ہی نہیں بلکہ دنیا کو دیا جس نے امت مسلمہ اور یہاں پر پیدا ہونے والوں کی تاریخ بدل دی’۔فواد چوہدری نے کہا کہ ‘محمود اچکزئی یہاں صرف وفاق کے خلاف گفتگو کرنے آئے تھے، مسلم لیگ (ن) کو لاہور نے 14 سیٹیں دی ہیں لیکن ساری گفتگو لاہور کے اراکین اسمبلی نے نہ صرف برداشت کی بلکہ مسکراتے مسکراتے سنی’۔انہوں نے کہا کہ ‘سعد رفیق کچھ دن پہلے کہہ رہے تھے جاگ پنجابی جاگ اور کل جب یہ بات ہوئی تو وہ کھانسی کا شربت پینے گئے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پیپلزپارٹی کو بھی عزت پنجاب کی وجہ سے ملی، ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی تھی اورپنجاب تھا جس نے پاکستان کی پگ اٹھا کر ذوالفقار علی بھٹو کے سر پر رکھی’۔انہوں نے کہا کہ ‘جب 1947 ہوا تو موجودہ پاکستان میں سب سے زیادہ قربانیاں پنجاب نے دی اور پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی جگہ لہو بہا ہے اور اس قربانی کو صرف نظر نہیں کرسکتے’۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘ایک بیرونی ایجنٹ آکر لاہور میں جلسہ کرے، لاہور میں کھڑا ہو کر بزرگوں کو سنائے اور آپ خاموش رہیں تو ہمارا گلہ پی ڈی ایم کی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی سے بنتا ہے کیونکہ پنجاب اورپاکستان کا دل توڑا ہے’۔ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ ‘میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جس طرح محسن داوڑ کی بلوچستان میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے،

وزیراعلیٰ کو اچکزئی کی پنجاب میں پابندی عائد کردینی چاہیے، کسی جگہ کسی نے بدتمیزی کردی تو مسئلہ ہوگا، بہتر ہے اس پر قانونی اقدام ہو’۔انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن سے کہنا چاہتے ہیں کہ اپنی ٹکراؤ کی پالیسی پر نظر ثانی کریں، عمران خان اور حکومت کہیں نہیں جارہی ہے اور نہ ہی آپ بھیج سکتے ہیں، اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات اور رابطوں کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، آئیے بات کرتے ہیں اور اگلے چلتے ہیں۔حکومت کے اپوزیشن کے رابطے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘اسپیکر صاحب نے سب کے سامنے دعوت دیا تھا،

وزیراعظم نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ بہترین مقام ہے تو اسپیکر مذاکرات کے لیے اہم ترین شخصیت بن جاتے ہیں’۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ مریم صفدر نے (ن) لیگ کو تباہ کر دیا ہے۔ اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں کو ان کا ساتھ دینے کی بجائے اپنے ووٹرز کا ساتھ دینا چاہیے۔ جو کچھ مریم نے کر دیا، ہمیں پی ڈی ایم کے ساتھ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاول بھٹو کا سب سے زیادہ نقصان پی ڈی ایم میں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں 30 سیٹیں ہیں۔ بندے کم لانے والوں کو سپیکر پنجاب اسمبلی کو استعفی دینا چاہیے۔ مسلم لیگ کا جو سحرتھا، وہ ٹوٹ گیا۔ لاہور میں شریفوں کی داستان دفن ہو گئی۔ #/s#

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.