آپ کرے ذبح ، آپ ہی لے ثواب الٹا

0 128

مہنگائی کی دلدل میں دھنسے عوام جو گرانی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ا±ن پر ٹیکسوں کی کند چھری چلانے سے ملکی معشیت اگر سنبھل سکتی ہے تو قوم بلھی چڑھنے کیلیے بھی تیار ہے مگر خفیہ ہاتھوں نے ملکی خزانے کو اِس ب±ری طرح ل±وٹا ہے کہ اِس سے بھی کچھ والا نہیں۔ یہاں توآپ کرے ذبح آپ ہی لے ثواب ا±لٹا کے مصداق غریب روام ہی پسے جا رپے ہیں۔مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر ہے کہ وفاقی کابینہ نے بجلی صارفین سے 76 ارب روپے اضافی وصول کرنے کی منظوری دیدی ہےذرائع کے مطابق کے الیکٹرک سمیت بجلی صارفین سے اضافی وصولیاں ائندہ 4 ماہ میں کی جائیں گی، رقم پاور ہولڈنگ کمپنی کے قرض کی سود کی مد میں وصول کی جائے گی جب کہ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ سے کابینہ ڈویڑن کی سمری کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری لے لی گئی ہے۔صارفین سے اضافی سرچارج کے ذریعے مارچ سے جون 2023 کے دوران وصولیاں کی جائیں گی جب کہ بجلی
صارفین پر 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ کا اضافی سرچارج لگے گا، بجلی صارفین سے اضافی وصولیوں کیلئے فی یونٹ سرچارج 3 روپے 82 پیسے ہوجائے گا۔ وفاقی کابینہ نے ایک روپے فی یونٹ کا اضافی سرچارج لگانے کی بھی منظوری دی ہے جو ائندہ مالی سال 2023-24کے لیے لاگو ہوگا، وصولیاں300 سے کم یونٹ والے بجلی صارفین سے نہیں کی جائیں گی جب کہ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی
اضافی سرچارج کا اطلاق ہوگا۔ ایک طرف ہوشربا گرانی کا طوفان ہے تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ متوقع حکومت نے عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 32 روپے فی لیٹر اضافے کے ذریعے مہنگائی کا بم گرانے کا فیصلہ کرلیا ہے جو کل جمعرات 16 فروری سے متوقع ہے۔ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں بھی 10روپے فی لیٹراضافہ کیا جارہا ہے۔ اس طرح یہ مجموعی اضافہ 50 روپے فی لیٹر ہوجائیگا۔ اس کی بنیادی وجہ ڈالر کی شرح مبادلہ میں بڑھتی ہوئی بے قابو قدر بتائی جارہی ہے جو تقریباً 272 روپے کا ہوگیا ہے۔متعلقہ حکام اور صنعتی ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت 12.8 فیصد اضافہ کے ساتھ 281.87 روپے اور ڈیزل کی 12.8 فیصد اضافے کے ساتھ 262.8 روپے سے بڑھ کر 295.64 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔مٹی کا تیل 217.88 روپے فی لیٹر ہوگا، لائٹ ڈیزل کی قیمت 196.90روپے فی لیٹر ہوگی۔ یہ قیمتیں ٹیکسوں کے حجم پر اخذ کی گئی ہیں۔ ڈیزل پر لیوی جو 40 روپے فی لیٹر ہے وہ 10 روپے اضافے کے ساتھ 50 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔ان اضافوں سے 850 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف ہے لیکن اس مد میں شارٹ فال کا تخمینہ 250 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ حکومت یکم تا 15فروری پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 35 روپے فی لیٹر غیر معمولی اضافہ کر چکی ہے۔مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے سرکاری ملازمین کی کمر توڑدی ہے۔خاص طبقے کی مراعات میں 150گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاونسسز میں اضافے کے لئے ہر وقت خزانے خالی کا رونا رہتا ہےپٹرول بجلی گیس آٹا سبزیاں دالیں روز مرہ زندگی کی ضروریات کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کے اضافے نےاچھے بھلے خاندانوں کو پریشان کیا ہوا ہے پاکستان کے تمام محکمہ جات کے تمام سرکاری ملازمین جن کے سکیل مساوی ہیں سب کو ایک جیسے تنخواہیں اور الاونسسز دئیے جائیں تنخواہوں اور الاونسسز میں تفریق نے سرکاری ملازمین کو دو گروپس میں تقسیم کردیا ہے خاص طبقے کے سرکاریعام طبقے کے سرکاری ملازمینجب ملک ایک ،صدرایک وزیر اعظم پاکستان ایک قانون ایک ہےتو پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس وآلے فارمولے کے تحت خاص اور عام سرکاری ملازمین کی تفریق کیوں؟ آب ہر صوبے میں سول سیکرٹریٹ میں بیٹھے ہوئے اعلی افسران اور عدالتوں میں معزز جج صاحبان وغیرہ جس کا دل کرتا ہے اپنی اپنی مراعات میں لآکھوں روپے کا آضافہ کرلیتے ہیں جس کے لئے بجٹ بھی موجود کسی قسم کی کوئی اعتراض نہیں ہوتا جب کہ اسی ضلع میں سول سیکرٹریٹ کی چار دیواری کے بآہر جو محکمہ جات ہیں اور اس صوبے کے تمام اضلاع کے تمام سرکاری ملازمین اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کی طرف سے آس پر احتجاجی مظاہرہ دھرنے کے بعد بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اور بجٹ نہ ہونے خزانہ خالی ہونے کا ہمیشہ رونا رہتا ہےقومی اسمبلی میں اس تفریق کو ختم کرنے کے لئے بل پیش کیا گیا ہےملازمین مطالبہ کرتے ہیں کہپاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کو بلاتفریق ایک جیسے ہے سکیل اور الاونسسز دینے کا نظام جاری کیا جائے اور تمام سرکاری ملازمین کو مساوی بنیادوں پر الاونسسز دئیے جائیں ہاس رینٹ نئے پے سکیل پر 60فیصد پاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کو بلاتفریق ایک جیسے دیا جائے اور جہاں سرکاری رہائش گاہ میسر نہیں ہیں وہاں ہاو¿س ہائرنگ ریکوزیشن کی سہولت فراہم کی جائے میڈیکل الاو¿نس کم از کم 15000روپے دیا جائے صحت کارڈ کی سہولت فراہم کی جائیں جس میں ڈاکٹر کی فیس چیک اپ ٹیسٹ میڈیسن آپریشن سب فری ہونے کی سہولت فراہم کی جاےکنوینس الاو¿نس کم
از کم دو لیٹر پٹرول روزانہ کے مساوی رقم فراہم کی جائے اپگریڈ یشن سے رہ جانے والی تمام پوسٹوں کو بلاتفریق اپگریڈ کیا جائے اور سروس سٹرکچر تیار کیا جائےکنٹریکٹ ملازمین کو بلاتفریق فوری طور پر ریگولر کیا جائے اور نئی بھرتیاں ریگولر کی بنیاد پر کی جائیں حقدار ملازمین کو فوری طور پروموشن دینے کے لئے ہر تین ماہ بعد ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے آجلاس منعقد کئے جائیں ایک ملک میں ایک نظام خاص طبقے اور عام سرکاری ملازمین کی تفریق کا خاتمہ ہم امید کرتے ہیں کہ آس سلسلے میں قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے بل کو پاس س کرکے آس پر عمل درآمد کروایا جائے گاتاکہ اس تفریق کا خاتمہ ہوسکے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.