سبی  سابق نگران صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات بلوچستان ملک خرم شہزاد نے کہا ہے کہ

0 70
سبی  سابق نگران صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات بلوچستان ملک خرم شہزاد نے کہا ہے کہ بلوچستا میں طویل ترین خشک سالی کے بعد باراں رحمت سے پانی کی کمی دور ہوئی تاہم ڈیم نہ ہونے کہ وجہ سے سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ ا صوبائی حکومت اپنے وسائل میں رہ کر عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں سیلاب زدہ علاقوں کی عوام کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کیا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان و صوبائی کابینہ بہتر انداز سے صوبے کی ترقی خوشحالی میں رول پلے کررہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سبی میں قومی خبر رساں ادارے آئی این پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیاسی رہنما ملک محمد طارق ، سبی پریس کلب کے جنرل سیکرٹری حاجی سعید الدین طارق ، سینئر جوائنٹ سیکرٹری سید طاہر علی ، محمد بابر ، شاہد خان ، شاہ رخ خان سیلاچی کے علاوہ دیگر عمائدین بھی موجود تھے سابق نگران وزیراطلاعا ت ونشریات بلوچستان ملک خرم شہزاد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان و صوبائی کابینہ بلوچستان کی ترقی خوشحالی میں جو رول پلے کررہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں جام کمال خان اور کابینہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو ریلیف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں بلوچستان طویل عرصہ سے خشک سالی کا شکار رہا جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں زندگی بری طر ح متاثر رہی اللہ تعالیٰ نے کرم کرتے ہوئے بلوچستان میں باراں رحمت کی بارش برسا کرکے بلوچستان میں خشک سالی کاخاتمہ کیا تاہم ڈیمز نہ ہونے کہ وجہ سے برساتی پانی سیلابی شکل اختیار کرگیا جس سے بلوچستان کے کئی علاقوں میں سیلاب آیا جس سے عوام مشکلات کا شکار ہوئے تاہم صوبائی حکومت اور کابینہ کے اراکین نے اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کی اس قدرتی آفات میں بھر پور مدد کی اور امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے حکومت کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کا کام بروقت شروع ہونے کی وجہ سے نقصانات زیادہ نہ ہوسکے اور عوام کے جان ومال کی حفاظت ممکن ہوئی قدرتی آفات میں ہمیں صبر وہمت سے کام لینا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے قدرتی آفات کو ہمیں مل جل کر سامنا کرنا ہے ہمیں امید ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سیلاب زدہ علاقوں کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ان کی فلاح وبہبود کے لئے دن رات سرگرمی کے ساتھ کام کریں گے ۔
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.