حکومت اعتماد کا ووٹ لینے کی جرآ ت کرسکے گی ۔۔۔؟

0 166

تحریر : ممتاز ترین

موجودہ حکومت کے برسراقتدار آتے ہی بجائے پاکستان ترقی کرتا حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں عوام حیران تھے کہ 2018ءکے الیکشن کے بعد برسراقتدار آنے والی جماعت اپنے “نیا پاکستان” کے نعرے پر عملدرآمدکرسکے گی اور دو سال میں عوام نے دیکھ لیا کہ واقعی نیا پاکستان بن گیا ایسا نیا پاکستان بنا جہاں ملک کا کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں جس کو بدنام اور برباد کرنے میں اس نااہل حکومت نے کوئی کسر چھوڑی ہو اداروں کے علاوہ عوام کو فاقوں اورخودکشی پر مجبور کیا جارہا ہے صرف یہیں پر کہانی ختم نہیں ہوتی اب سرکاری ملازمین کے سروں پر تلوار چلانی شروع کردی گئی ہے پہلے اس قدر مہنگائی،ڈکیتی اور چور بازاری کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اس کے بعد گریڈ ایک تا سولہ کی آسامیاں ختم کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئی اب حکومت نے سرکاری ملازمین کی پینشن کو ختم کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے جس کے پیچھے بھی آئی ایم ایف ہے کیا یہ اقدامات پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنائیں گے نہیں، ایک بہت بڑے اور خطرناک منصوبے پر عملدر آمد کیا جارہا ہے ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلا جارہا ہے اور ان تمام معاملات کا تعلق صرف اور صرف سی پیک کو ناکام بنانا ہے ایسا کیوں ہورہا ہے کیا اس میں وزیر اعظم عمران خان اور اس کے مشیروں کی بدنیتی نہیں ہے سی پیک کی ناکامی کا ایجنڈا اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ وفاقی کابینہ نے گوادر کو بلوچستان کا دارالخلافہ بنانے کی منظوری دی ہے وفاقی کابینہ کون ہے اور اس کا صوبے کے دارالخلافہ کو تبدیل کرنے کا حق کس نے دیا ہے بلوچستان کے عوام اور حکومت بادشاہ سلامت عمران خان کی زرخرید رعایا ہے یا یہ صوبہ ان کی ذاتی جاگیر ہے کیا اور کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ گوادر میں اتنی جگہ ہے کہ صوبے کا کیپٹل بنایا جائے وہاں تین اطراف سمندر ہے درمیان میں صرف اور صرف “سنگار”کا علاقہ ہے جس پر پی سی اور دیگر ہوٹلوں کے علاوہ نیوی نے جگہ لے رکھی ہے باقی پربھی سرکاری دفاتر وغیرہ بن جائیں گے گوادر سے دس کلومیٹر دور لیبر کالونی ہے اور اس کے ساتھ انڈسٹریل زون ہے جب یہاں شپ آئیں گے تو جیونی گوادر،اورماڑہ اور پسنی میں ایک انچ کی جگہ نہیں ملے گی جہاں رہائش کی جائے یا دفاتر بنائے جائیں صوبائی حکومت نے گوادر کو سرمائی کیپٹل بنانے کیلئے وہاں سیکرٹریٹ قائم کیا اور اس سیکرٹریٹ میں تقریبا تین سو کمرے ہیں اور اس پر اب کسی اور نے قبضہ کرلیا ہے وفاقی حکومت ایسے اقدامات یاشوشوں کے ذریعے قوموں میں نفرتیں پھیلارہی ہے گوادر ایک کونے میں ہے جہاں صرف تربت، پنجگور اور لسبیلہ والوں کو جانے میں آسانی ہوگی صوبے کے نصیرآباد ڈویژن،قلات ڈویژن، کوئٹہ ڈویژن چاغی کے علاقے سبی ڈویژن اور ژوب لورالائی ڈویژن کے لوگوں کو کیا گودار تک رسائی ہوسکے گی اس کا جواب دیا جائے ملک کے حکمرانوں کا کیا مقصد ہے بتایا جائے کیا سرکاری ملازمین سے پینشن کا حق لے کر انہیں در در کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑا جائے گا ڈاکٹر عشرت حسین جیسے منافق لوگ یہ کیوں نہیں جانتے کہ اس ملک کے عوام اپنی افواج کے ساتھ ہوتے ہیں کیا وہ ایسا کرکے فوجیوں میں بھی احساس محرومی پھیلانا چاہتے ہیں جو اس ملک کیلئے اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں اور کررہے ہیں سرکاری ملازم فوجی بھی ہیں اور سویلین بھی ان کا قصور بتایا جائے کہ موجودہ حکومت مزید کب تک امریکہ اور اس کے اداروں اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر چلے گی لگتا ہے کہ آنے والے کل کو آئی ایم ایف یہ ہدایت دے کہ فلاں کو پاکستان کا چیف جسٹس اور فلاں کو آرمی ایئرفورس اور نیوی کا چیف بنایا جائے اس حد تک مداخلت حیرت کی بات ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا اور کمزور ملک بھی ایسی ہدایات نہیں مانتا جبکہ پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے اور موجودہ حالات میں ہمارے حکمران جس طرح امریکہ اور آئی ایم ایف کے سامنے آداب بجالارہے ہیں وہ ہم سب کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ستر سالوں میں پاکستان نے جتنے قرضے لئے عمران خان کی حکومت نے دو سالوں میں اس سے کہیں زیادہ قرضے لئے کہاں گیا وہ پیسہ کیا کرپشن نہیں ہورہی پی ٹی آئی کے وزراءدونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کررہے ہیںاس بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے حکومت کے پاس کوئی وژن نہیں کوئی منصوبہ بندی نہیں ملک کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا یہاں ایک چھوٹی سے مثال دینا ضروری سمجھتا ہوں جوکہ حفیظ شیخ، ارسطو اسد عمر اور ڈاکٹر عشرت حسین کیلئے ضروری ہے وہ یہ کہ ایک سیاح ایک ہوٹل میں آیا اور کاﺅنٹر پر آکر بولا مجھے ایک اچھا ساکمرہ چاہئیے دیکھ کر پسندکرلوں تو وہاں رہ جاﺅنگا اور یہ کہہ کر اس نے ایک سو ڈالر کانوٹ ہوٹل کے کاﺅنٹر پر رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا اسی اثناءمیں ایک قصاب ہوٹل کے کاﺅنٹر پر آیا جو ہوٹل کیلئے گوشت سپلائی کرتا تھا اس نے منیجر سے کہا کہ اسے گوشت کے پیسے دیئے جائیں منیجر نے وہ سو ڈالر کا نوٹ قصاب کو دے دیا اسی اثناءمیں ہوٹل میں مقیم ڈاکٹرکاﺅنٹر پر آیا اس نے قصاب کو دیکھتے ہی کہا کہ اتنے عرصے سے وہ اس کی فیملی کا علاج کررہا ہے اس لئے وہ میرا بل دے قصاب نے وہی سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیئے کیونکہ ڈاکٹرکئی روز سے اس ہوٹل میں رہ رہا تھا اس نے وہی سو ڈالر کا نوٹ کرائے کی مد میں ہوٹل کے منیجر کو دے دیا اسی دوران وہ سیاح آیا اور کہا کہ اسے کوئی کمرہ پسند نہیں آیا یہ کہتے ہوئے اس نے وہ سو ڈالر کا نوٹ اٹھایا اور ہوٹل سے باہر چلا گیا یہ ایک معاشی گورکھ دہندہ ہے جس کیلئے دماغ کی ضرورت ہے اس ایک سو ڈالر کے نوٹ نے تین قرضداروں کا قرضہ ختم کیا اور واپس وہ رقم لیکر چلا گیا کیا پاکستان میں ایسے ذہین اور ایماندار محب وطن ماہر معاشیات ہیں نہیں اگر ہوتے تو آج پاکستان کی موجودہ حکومت گزشتہ ستر سالوں سے زیادہ قرضہ حاصل کرنے کے بعد تمام قرضے اتار کر اس رقم کو سنبھال سکتی مگر ایسا نہیں کیا گیا یہاں پر کوئی کسی سے مخلص نہیں ہے برکت ختم ہوچکی ہے اور قاریئن آپ کو تو معلوم ہے کہ اسلام میں بھیک کو لعنت قرار دیا گیا ہے اور بھکاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے بھکاری کے رزق سے برکت ختم ہوجاتی ہے کہیں ایسا تو نہیں ہمارے وزیر اعظم شوکت خانم ہسپتال سے لیکر آج تک جو بھیک مانگ رہے ہیں وہ نحوست ملک کی معیشت پر آپڑی ہے آج ملک کے عوام کو صرف اور صرف اندھیرا نظر آرہا ہے موجودہ حکومت کے وزیر اور مشیر اداروں کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ اپنی ناکامی اور نااہلی کا تمام الزام ملک کے اہم ادارے پر ڈالتے ہوئے آئے دن بیان داغتے ہیں کہ حکومت اور فوج ایک پیج پرہیں آج عوام چیف آف آرمی سٹاف کی طر ف اس لئے دیکھ رہے ہیں کہ حکومتی وزراءاور مشیروں نے تمام ملبہ آپ کے ادارے (آپ پر) پر ڈال دیا ہے اور خود کو ہر طرف سے بری الزمہ قرار دیا ہے ہر معاملے پر نیازی حکومت فوج کو گھسیٹ رہی ہے اور جب موقع ملتا ہے تو وہ کسی کو نہیں چھوڑتی اس لئے ملک کے عوام اور سرکاری ملازمین(سول اور فوجی) کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں جو ملک اور ملک کے عوام کے خلاف اقدامات کرنے پر تلی ہوئی ہے اور ایک بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کا اصل مقصد ملک کے عوام میں افراتفری پیدا کرکے حالات خراب کرنے کی آڑ میں سی پیک کے خلاف سازش کی جارہی ہے جبکہ سی پیک کے تحفظ اور اس کو کامیاب بنانے کیلئے چین نے بھی پاک آرمی پر اعتماد کا اظہار کیا اس لئے اب جبکہ پانی سر سے اوپر آچکا ہے بروقت درست اقدامات کی ضرورت ہے اور ایسی نااہل حکومت سے صدر مملکت فوری طور پر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا کہیں تاکہ ملک مزید اتنا برباد نہ ہو جس کو سنبھالنے میں مزید40سال لگ جائےں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.