اپوزیشن ارکان خواجہ محمد آصف،راجہ پرویز اشرف و دیگر کا اظہار خیال

0 6

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن میں قومی اسمبلی کے ماحول کو بہتر بنانے اور قانون سازی کے طریق کار پر اتفاق رائے ہوگیا جس کے بعد اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک اور حکومت نے بلوں کی شکل میں منظور کروائے گئے 9آرڈیننس سمیت 11 بل واپس لے لئے۔حکومت تمام آرڈیننس واپس لیکر ان کو مزید غور وخوض کیلئے قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائے گی جس میں بحث کے بعد انہیں منظور کرنے یا ناکرنے کا فیصلہ ہو گا۔اپوزیشن ارکان خواجہ محمد آصف،راجہ پرویز اشرف و دیگر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی عزت و توقیر پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی عزت و توقیر ہے،ہمیں عوام کے مفادات کیلئے قانون سازی کرنی چاہیے، قانون سازی واپس لے کر حکومت اورڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے کر اپوزیشن نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا، 7 نومبر کو منظورہونے والی قانون سازی پر مزید غور ہوگا،متعلقہ کمیٹیاں اب ان بلز کو دیکھیں گی اور بلز متفقہ طور پر منظور ہوں گے یا مسترد ، ڈپٹی سپیکر کے خلاف احتجاجاً تحریک عدم اعتماد پیش کی، اگر حکومت ہماری بات مان لیتی تو ایسی نوبت ہی نہ آتی۔وفاقی وزراء پرویز خٹک،اعظم سواتی اور اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت کی عددی اکثریت میں کوئی شک و شبہ نہیں تاہم سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کو ہم متنازعہ نہیں بنانا چاہتے، ہماری کوشش ہے کہ مل جل کر پاکستان کو ترقی کی منازل سے ہمکنار کریں گے ،ایوان میں کسی جانب سے بھی کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے کسی کی دل آزاری ہو، ہمارا نظریہ اور دلیل مضبوط ہے۔ اپوزیشن کو ہمارا نظریہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے مابین مسلسل دوسرے دن اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کیخلاف عدم اعتماد کی قرار داد اور حکومت کی طرف سے 7 نومبر 2019ء کو ہونے والی قانون سازی سے متعلق مشاورت کی گئی،اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پا گئے۔جس کے بعد سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ،جس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ فیصلہ ہوا ہے کہ 7 نومبر کو جو بل اور آرڈیننسز ایوان میں منظور ہوئے انہیں چار کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے تحت میڈیکل ٹربیونل بل اور میڈیکل کمیشن بل کو بھی ایوان میں زیر بحث لاکر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن آرڈیننس کے حوالے سے فیصلہ ہوا ہے کہ یہ بل واپس لے کر اسی دن کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر بحث لاکر اتفاق رائے سے منظور کیا جائے گا۔ اسی طرح انفورسٹمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس آرڈیننس بھی آئندہ سیشن میں حکومت واپس لے کر اسی دن اتفاق رائے سے منظور کرے گی۔ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس ‘ اعلیٰ عدالتیں لباس اور انداز مخاطب آرڈیننس ابھی تک کمیٹی میں زیر بحث ہے اس کو بھی واپس لے کر اتفاق رائے سے منظور کرایا جائے گا۔ وسل بلوور آرڈیننس پر بھی مزید بحث کراکے اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل ٹریبونل آرڈیننس کو بھی واپس لے کر کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس بھی حکومت واپس لے کر کمیٹی کے سپرد کرے گی۔ پیپلزپارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ تمام امور اتفاق رائے سے طے پائے ہیں۔ دو بل باقی ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ بے نامی ٹرانزیکشن امتناع (ترمیمی) آرڈیننس کو بھی دوبارہ پیش کرکے کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ قومی احتساب آرڈیننس بل‘ بھی واپس لے کر کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن)کے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سات نومبر کو ایوان میں ہونے والی قانون سازی کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق ہوگیا ہے بلوں پر مزید غور ہوگا،متعلقہ کمیٹیاں اب ان بلز کو دیکھیں گی اور بلز متفقہ طور پر منظور ہوں گے یا مسترد ہوں گے۔ ہم نے اس حوالے سے ڈپٹی سپیکر کے خلاف احتجاجاً تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی اگر حکومت ہماری بات مان لیتی تو ایسی نوبت ہی نہ آتی۔ ہم بھی ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک واپس لے لیتے ہیں۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن کے شکرگزار ہیں۔ کل بھی اجلاس ہوا آج بھی اجلاس ہوا‘ ہم اسمبلی کے ماحول کے حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچ گئے۔ ہم مل جل کر اسمبلی کا ماحول بہتر بنائیں گے۔ مستقبل میں کسی طرف سے بھی اسمبلی کا ماحول خراب نہیں ہوگا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اسمبلی بہتر انداز میں چلے کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایوان کا ماحول بہتر بنانے کیلئے اتفاق رائے ہو گیا‘ ہماری کوشش ہے کہ مل جل کر پاکستان کو ترقی کی منازل سے ہمکنار کریں گے اور ایوان میں کسی جانب سے بھی کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جن جن ارکان اور رہنمائوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کے لئے کردار ادا کیا ہے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پارلیمنٹ کی عزت و توقیر پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی عزت و توقیر ہے۔ ہمیں عوام کے مفادات کے لئے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قانون سازی واپس لے کر حکومت نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے کر اپوزیشن نے بھی بڑے پن کا مظاہرہ کیا۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حکومت کی عددی اکثریت میں کوئی شک و شبہ نہیں تاہم سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کو ہم متنازعہ نہیں بنانا چاہتے۔ قاسم خان سوری نے ڈپٹی سپیکر کے طور پر اپنے فرائض احسن طور پر انجام دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نظریہ اور دلیل مضبوط ہے۔ اپوزیشن کو ہمارا نظریہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو گیا تاہم جس چیز کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں اس کو پورا کرنا ہے،حکومت 5سال مکمل کرے گی۔ مسلم لیگ (ن)کے سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہم حکومت کو خوش اسلوبی سے چلانا چاہتے ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ اجلاس میں قانون سازی ہونی چاہیے۔ وقفہ سوالات بھی بامعنی ہونا چاہیے۔ اس سے پارلیمنٹ کا وقار بڑھے گا،جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا وقار تب ہی بلند ہوگا جب یہاں ہم بہترین طریق کار اور بہترین انداز گفتار کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں گے ہمیں مشترکات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایم کیو ایم کے امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم ہم جمہوری روایات پر چلتے ہوئے پارلیمنٹ کی بالادستی کے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ف) کے رکن غوث بخش مہر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے اہم اقدام اٹھایا ہے۔ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپسی احسن ہے۔واضح رہے کہ اپوزیشن نے 7نومبر کی قومی اسمبلی کی کارروائی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، 7 نومبر کو حکومت نے 9 آرڈیننس اور 2 منظور کروائے تھے۔جس کے بعد مسلم لیگ (ن)انتقاما مرتضی جاوید عباسی اور محسن شاہنواز رانجھا کے ذریعے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے تھے۔(رڈ)

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.