ملک ظریف خان شہید فاؤنڈیشن کی خدمات و مقاصد

0 214

بلوچستان کے علاوہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی پیش خدمت ہے

ملک ظریف خان شہید فاؤنڈیشن کے بانی حاجی عبدالقاہرخان اچگزئی سے بات چیت۔

قارئین کرام۔انسان کے لئے دوسروں پر اپنا مال خرچ کرنا بہت مشکل کا م ہوتا ہے کیونکہ اس سے اس کو شدید محبت ہوتی ہے،لیکن اگر انسان کو خدا پر پختہ یقین ہو تو وہ کبھی بھی خدا کی محبت پر مال کو ترجیح نہ دے گا،ایسی صورت میں اس کو اپنے رب کا وعدہ ہمیشہ یاد رہے گا میرے راستے میں خرچ کرومیں اسے دو چند کرکے دوں گا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو خطاب کرتے ہوئے کیا ہی پیارا جملہ ارشاد فرمایاتھا :اپنا مال خداوند کے پاس رکھو،کیونکہ انسان کا دل وہیں ہوتا ہے جہاں اس کا مال ہوتاہے۔مال کو جمع کر کے رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور مال جمع کر رکھنے والو ں کے لئے تبا ہی وبر با دی کا ذکر کیا گیا ہے ۔یہ انسانی ہمدردی کا بھی تقاضہ ہے کہ اپنے جیسے بے سہارا انسانوں پر اپنا مال خرچ کیا جائے۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ آدمی بہت مالدار ہو ۔تھوڑا مال ہو تب بھی اس طرح کی خدمت انجام دی جاسکتی ہے ۔کیوں کہ اللہ ہر ایک کی استطاعت سے بخوبی واقف ہے۔ وہ دلوں کے راز جانتا ہے ۔اور اللہ کے نزدیک نیتوں ہی پر نیکیاں ہیں ۔ایک حدیث میں ہے ۔ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے ۔خدمت خلق کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی صلاحیت ،طا قت وقوت راہ خدا میں لگائے ،اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور حالات کے لحاظ سے وہ بدلتی بھی رہتی ہیں ۔نبی ۖنے فرمایا :اگر اندھے کو راستہ نہیں ملتا،تم نے اسے راستہ بتا دیا تو یہ بھی خدمت ہے ۔راستے سے تکلیف دہ چیزکوہٹانا بھی صدقہ ہے ۔اس طرح کے بے شمار مواقع قدم قد م پر آتے رہتے ہیں ضرورت بس دل کی رضامندی کی ہے، نیت کی درستگی کی ہے ،اور اللہ پر پختہ ایمان کی ہے۔جب بھی انسان خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہی تو اللہ تعالیٰ ضرور راہ بھی ہموار کردیتا ہے اور اُسے آسانیاں پیدا کرتا ہے تاکہ وہ مستحقین و مساکین تک رسائی باآسانی حاصل کرسکے آج کے عصر حاضر میں جس طرح پاکستان کا صورت حال عالمی سطح پر قابل افسوس ہے اسی طرح غریب بلوچستان کے غریب عوام کا صورت حال بھی قابل افسوس و قابل فکر ہے کہ اس جدید دور میں بھی بلوچستان کے زیادہ تر علاقے جیسے قلعہ عبداللہ ۔گلستان سیگی ضلع چمن نورک تعلیمی ناخوندگی زندگی کے ضروری و بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی صحت سپورٹس امن روزگار کی حوالے سے انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں زیادہ تر ایسی گھرانے ہیں جو دو وقت روٹی کھانے کے قاصرنہیں ہیں رواں سال مردم شماری کے دوران بلوچستان میں بے شمار ایسی گھرانے دیکھنے کو ملے کہ جس کے خانہ شماری کے نمبر لکھنے کیلئے نہ دیوار اور نہ دروازہ تھی بلکہ پتھروں پر انکے گھرانوں کے نمبرز لکھے گئے۔اس دیس کے اکثرکم عمر بچے اور بچیاں کچرہ دانوں میں رزق تلاش کرتے ہیں یا ہوٹلوں و مستری خانوں میں پیٹ پالنے کی خاطر محنت مزدوری کرتے ہیں جو قابل افسوس بات ہے وقت کے حکمران اور حکومت نے آج تک بلوچستان کے صحت۔ تعلیم۔ امن ۔روزگار اور جوانوں کے سپورٹس پر صلاحیتیوں کے مطابق ترجیح نہیں دی ہے ۔گداگری ۔منشیات نوشی۔ منشیات فروشی۔ معاشرتی برائیاں ۔قتل و غارت ۔تعصب و قوم پرستی ۔اتنی عروج پر ہے کہ ہر دور کے ذمہ دار اور صاحب اقتیدار والوں نے اجتماعی خدمت کے بجائے انفرادیت پر کام کیا ہے بلوچستان میں اب بھی بہت غریب مستحقین و مساکین ہیں جو بیماری کے علاج کیلئے رقم نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں پڑے ہیں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان خطرناک منشیات جیسے ناسور میں مبتلا ہوچکے ہیں یہاں کرپشن میرٹ کی پامالی دھوکے کی سیاست اور منافقت جیسی غلیظ عمل کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ہے عوامی مسائل و مشکلات کیلئے کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ امدادی سامانوں میں پسند وناپسند کی عمل خوب جاری ہے بلوچستان کے غریب عوام کو ہر طرف سے لوٹاجاتا ہے لیکن اللہ کی فضل و کرم سے بہت کم سماجی تنظیموں و فاونڈیشنز کی توسط سے غریبوں کو کچھ بلا لالچ و بلا تفریق دیتے ہیں جو قابل ستائش عمل ہے کہ بلوچستان کے کچھ خاص مخیر حضرات جو بیرون ممالک میں بزنس کرتے ہیں اور اپنے صدقات و زکوٰۃ سے نہ صرف بلوچستان کے غریب عوام کا ساتھ دیا ہے بلکہ پاکستان بھرکے مستحقین کیساتھ ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دیا ہے اور انسانی ہمدردی کے تحت عملی اقدامات کئے ہیں جسے غریب عوام کا بہت کچھ مسائل حل بھی ہوئے ہیں۔اس عظیم انسانی خدمت و ہمدردی کی میدان میں بلوچستان کے معروف شخصیت غبیزئی قوم کے سربراہ ملک حاجی ظریف خان شہید کے فاؤنڈیشن کا بھی عملی کردار پیش پیش ہیں کہ ملک ظریف خان شہید کے فاؤنڈیشن کا بانی و چیرمین حاجی عبدالقاہرخان اچگزئی اپنے مالی تعاون سے بلوچستان بھر کے علاوہ پاکستان کے مختلف اضلاع میں انکے صدقات و زکوٰۃکی فنڈ سے غریب عوام مستفید ہوتا رہا ہے ملک ظریف خان شہید فاؤنڈین کے خدمات کا ایک واضح اور بلا لالچ خدمت شوکت خانم اسپتال کو سالانہ 10 لاکھ سے 25لاکھ تک فنڈ دینا قابل فخر ہے اسی طرح سینار اسپتال کوئٹہ کے مریضوں کیساتھ مالی تعاون کرنا گردوں کے بیماری میں مبتلا مریضوں کیساتھ کافی تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔جو بہت اہمیت کے حامل کام ہے۔کیونکہ بنیادی طور پرغبیزئی قوم کے سربراہ ملک ظریف خان اچگزئی شہید ایک انسان دوست اور رشتہ داری کے پکہ اور ذہین قبائلی و مہمان نواز شخصیت تھے۔قبائلی رہنماء ملک ظریف خان شہید اچگزئی ذیلی شاخ غبیزئی کے ایک تاجر و خاص قبائلی عمائدین میں شمار ہوتے تھے۔وہ ہمیشہ حق کے ساتھ اور باطل کیخلاف صف اول کا کردار ادا کرتے تھے۔بنیادی طوروہ ضلع چمن میں رہتے تھے 1970کو کوئٹہ منتقل ہوکر جائیدادیں خرید کر تین سال کے بعد کچھ قبائلی دشمنیوں کی وجہ سے کوئٹہ چھوڑ کر گلستان کاریز میں آکر آباد کاری کی اور سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل زمیں خرید کر اپنے رشتہ داروں اور غریب اقرباء کو بھی گھر بار تعمیر کرایا ۔زمینداری وغیرہ ذریعہ معاش تھے آخر کار پرانی قومی دشمنی کی آڑ میں غبیزئی قوم کے سربراہ ملک ظریف خان اچگزئی کو شہید کیا گیا۔اسکے اچھی زندگی اور قبائلی خدمات کی خاطر اسکے فرزند حاجی عبدالقاہرخان اچگزئی نے اپنے قبائلی سربراہ ملک ظریف خان شہید کے نام پر فاؤنڈیشن کا بنیاد رکھا گیا۔ کیونکہ پچاس سالوں سے انکے فرزندان غریب عوام کیساتھ مشکل کے ہر گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں انکے فاؤنڈیشن کے مقاصد صرف اور صرف غریبوں کیساتھ تعاون مریضوں کا علاج کرنا اسی طرح زندگی کے دیگر مشکلات میں ہمیشہ پیش پیش ہونا ہے۔وہ بلوچستان بالخصوص قلعہ عبداللہ کے تمام غریبوں کیساتھ بذریعہ فاؤنڈیشن تعاون کرتے رہے ہیں۔کیونکہ وہ اپنے والد شہید کے خدمات جاری رکھتے ہوئے اپنے فاؤنڈیشن کے راستے سے اچھی خدمت کا مظاہرہ جاری رکھاہے۔۔فاؤنڈیشن کو اپنے مالی تعاون سے چلاتے ہیں جس میں زکواۃ اور صدقے کی رقم ہے۔فی الحال فاؤنڈیشن کو حاجی عبدالقاہرخان اچگزئی اپنے آپ کے تحت چلاتے ہیں اب تک کسی بھی طرح کے مخیرحضرات نے مالی تعاون کیا ہے اور نہ ہم نے اس حوالے سے سوچا ہے پھر بھی اگر مخیرحضرات وطن اور علاقے کے غریبوں کیساتھ بزریعہ ملک ظریف خان شہید فاؤنڈیشن مالی تعاون کرنا چاہتے ہیں اس طرح کار خیر کو ہم دلی طور تیار ہیں تاکہ غریب عوام کا کچھ تعاون ممکن بن جائیں۔ملک ظریف خان شہید فاونڈیشن بلوچستان تک نہیں بلکہ پاکستان کے سطح پر جہاں بھی کسی کو مالی تعاون درکار ہوں ملک ظریف خان شہید فاؤنڈیشن نے اپنے بس کے مطابق تعاون کا فریضہ ادا کیا ہے۔۔اسی طرح کراچی ۔پنجاب۔ ایبٹ آباد۔ پشاور کے غریب عوام کیساتھ کئی دفعہ تعاون کا موقع ملا ہے۔ کیونکہ یہ ایک کارخیرہے اسکا کوئی دائرہ نہیں ہے جہاں بھی ہم سے کوئی تعاون کا طلب کریں فوراً تعاون کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ملک ظریف خان شہیدفاؤنڈیشن کے بانی حاجی عبدالقاہر خان اچگزئی ہے وہ ذاتی طور اپنے ورکرز کی توسط سے یہ کام کرتے ہیں جس میں سوشل میڈیاء ایکٹیویسٹ و صحافی جمال ترکی کے ذریعے اسپتالوں میں ایڈمیٹ مریضوں کیساتھ تعاون کرتے ہیں۔اسی طرح ماسٹر عبدالصمد سلیمان خان سلطان علی جو فاؤنڈیشن کے اہم شخصیات ہیں انکے توسط سے غریبوں مسکینوں تک اپنے خیرات زکواۃ رقم پہنچاتے ہیں جو انتہائی نیک نیتی کے ساتھ ملک ظریف خان اچگزئی فاؤنڈیشن کو فروغ دیتے ہیں۔۔۔گلستان کے آس پاس علاقے سیگی۔ نورک۔ خوڑگی۔ پینکی اورضلع قلعہ عبداللہ خان چمن کوئٹہ کے مستحق افراد تک انکے توسط سے مالی امداد پہنچاتے ہیں کیونکہ یہ چار خاص اشخاص ملک ظریف خان فاؤنڈیشن سے منسلک ہیں۔ملک ظریف خان شہید فاؤنڈیشن کے بانی حاجی عبدالقاہر خان اچگزئی نے بتاتے ہوئے کہا کہ جب سے میں نے انسانی خدمت کاسلسلہ شروع رکھا ہے تب سے میں دلی خوشی محسوس کرتارہا ہوں۔انسانی ہمدردی کی خاطر علاقے اور وطن کے مخیر حضرات کو پیغام دیتے ہیں۔ کہ غربت مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام بہت مشکل میں زندگی بسر کر رہی ہے اللہ نے ہم پر زکوۃ فرض کیا ہے اگر ہم امیر لوگ بروقت زکوۃ ادا کریں تو امید ہے کہ غربت اگر ختم نہ ہوسکے کنٹرول تو ضرور ہوگا اللہ نے ہمیں دولت دیاہے اور ساتھ ساتھ موقع بھی دیا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وطن اور علاقے کے غریب عوام کیساتھ مالی تعاون کریں۔ملک ظریف خان شہید فاؤنڈیشن کے چیرمین حاجی عبدالقاہرخان اچگزئی جو 1995سے دوبئی میں رہتے ہیں جاپان ۔دوبئی اور پاک افغان باڈر پر تجارت کرتے ہیں۔لیکن اپنے ملک و قوم کی خدمات کاسلسلہ جاری رکھاہوا ہے جو ایک انسانیت دوست عمل و کردار ہے۔اور غبیزئی قوم کے سربراہ ملک ظریف خان اچگزئی کے نام و نشان بلند کر رکھا ہے۔خاص کر گلستان کے عوام کیساتھ تعاون کرنا قبائلی سربراہ ملک ظریف خان شہید کے کردار و نقش قدم پر چلنے کی روشن ثبوت ہے کیونکہ ضلع قلعہ عبداللہ ضلع چمن کے جو علاقے ہیں یہاں قومی رنجشوں کی وجہ سے ایک علاقے والے دوسرے علاقے میں محنت مزدوری نہیں کرسکتے ہیں اسی رنجشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں غربت عروج پر ہے ایک وقت تھا کہ گلستان کے عوام اپنے باغات و زمینداری کا بہت زبردست منافع حاصل کرتا تھا۔۔بدقسمتی سے بلوچستان پر جب خشک سالی آگئی تو 80 فیصد باغات پانی نہ ہونے کی وجہ سے خشک ہوکر زمینداروں نے کاٹ لیا اس مشکل سے عوام بہت متاثر ہوکر غربت کا شکار ہوئے ۔۔۔وطن اور علاقے کے اس غربت کو دیکھتے ہوئے حاجی عبدالقاہر خان اچگزئی اور فیملی ممبرز نے مکمل طور بلاتفریق ان غریبوں کے ساتھ مالی تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جو ایک لمبی عرصے سے یہ انسانی خدمت کاکام جاری ہے کیونکہ ان علاقوں میں 80فیصد لوگ باغات خشک ہونے سے غربت کا شکار ہوئے۔ اسکے علاوہ گلستان کے علاقے میں پانی کا مسئلہ اہم ہے۔لوگ دور دراز علاقوں سے ضرورت کیلئے پانی لاتے ہیں تو اجتماعی خدمت کی خاطر قبائلی رہنماء ملک ظریف خان شہید کے فرزند معروف تاجر حاجی عبدالقاہر خان اچگزئی نے اپنے شہید والد کے نام سے فاؤنڈیشن کا بنیاد رکھا اور خدمت کے اس دائرے کومزید وسیع کی کہ کھلم کھلا ہر ذیلی سے تعلق رکھنے والے مستفید ہوسکے۔ملک ظریف خان شہید فاؤنڈیشن کے خدمات میں غریبوں کیلئے شادی کرانے کی تعاون۔۔۔مریضوں کی علاج کرنا ۔قرض داروں کے قرض اتارنا اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنا جیسے بڑے خدمات شامل ہیں۔اللہ توفیق دیں اورقبول فرمائیں۔آمین

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.