سکون قلب

0 15

تحریر:امتیازعلی شاکر
اس کائنات میں ہر انسان سکون قلب کامتلاشی ہے سکون ایک چیزہے اورقلب دوسری۔قلب سکون کامتلاشی ہے اور سکون قلب کامنتظر۔درویش سے کسی نے سوال کیاکہ سکون قلب خواہشات سے حاصل ہوسکتاہے یاترک خواہش میں ملے گا؟ درویش نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ سکون قلب نہ توخواہشات میں ہے نہ خواہشات کی تکمیل پرمیسرآسکتاہے اورنہ ہی ترک خواہش کانام سکون قلب ہے سوال یہ پیداہواکہ پھرسکون قلب کیسے حاصل کیاجائے؟مرشدسرکارسیدعرفان المعروف نانگامست بابامعراج دین فرماتے ہیں” سکون چاہتے ہیں تودوسروں کی غلطیوںپردرگزرکریںاورتکلیف پہنچانے والوں دکھ دینے والوں کومعاف کردیاکریں یادرہے کہ ناموس رسالت مآب ﷺ اورختم نبوت پرکوئی سمجھوتہ کوئی درگزرنہیں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کومعاف نہیں کیاجاسکتاسکون قلب کیلئے اپنی ذات کوتکلیف پہنچانے والوں کومعاف کردیاکریں اوررسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کی سرکوبی کیاکریں۔مرشِدسرکارفرماتے ہیںظاہروباطن یعنی قول وفعل کوایک کرلیںجیسے اندرسے ہیں ویسے ہی نظرآتے رہیںجووسائل دستیاب ہیں انہی میں خوش رہیں دوسروں کی شکایتیں کرناچھوڑدیں دوسروں کوعطا نعمت پرزیادہ دھیان دینے کی بجائے اپنے وجود،زندگی اور حاصل نعمتوں پرشکرکرناشروع کردیں۔اللہ تعالیٰ سے دعاکریں التجاءکریں پرشرط نہ رکھیں ضدنہ لگائیں۔ اللہ پاک آپ کی دعائیں قبول فرمائے تواورشکرگزارہوجائیں اللہ تعالیٰ آپ کی التجائیں قبول نہ فرمائے تواوربھی زیادہ شکرگزارہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ناقص اورنقصان دہ خواہش کی تکمیل پربندش لگاکربڑی مصیبت وگناہ سے بچالیاہروقت اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش رہیں اللہ تعالیٰ سے محبت کے درمیان حائل ہونے والی خواہشات سکون قلب کی دشمن ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ برقراررکھنے والی خواہشات نعمت ہیں اللہ پاک کی محبت دل میں ہوتوسکون قلب کہیں باہرسے تلاش کرنے کی طلب نہیں رہتی۔گھرکے مکین جب تک گھرمیں رہائش پزیررہیں گھرکی دیکھ بھال کرتے ہیں گھرصاف ستھرہ رہتا ہے کسی کی جرات نہیں ہوتی کہ گھرکے مکین کی موجودگی میں گھرتوڑسکے اکثرلوگ کہتے ہیں فلاں کے ناقص رویے نے دل توڑدیافلاں کے ساتھ مکمل وفائیں کی پراس کی بے وفائی نے دل توڑدیا حقیقت میں کوئی کسی کادل نہیں توڑسکتاجب لوگ اپنے دل کوناپاک اورگناہوں سے آلودہ کرلیتے ہیں تواللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی دل ایسے ہی ہے جیسے مکین کے بغیر خالی گھرمیں مکڑے جالے تن دیتے ہیں کتے بلیاں چمگاڈڑیں اوربدروحین بسیراکرلیتی ہیں مکین کے بغیرگھرغلاظت کاڈھیربن جاتاہے ٹھیک اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی دل سکون کے قابل نہیں رہتا۔قلب کاسکون اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہے نہ کہ کسی خواہش کی تکمیل میں ہے اورنہ ہی ترک خواہش میں خواہش ضرورکریں بہترسے بہترین کی طلب وجستجوضرورکریں پراپنی خواہش کواس حدتک نہ لے جائیں کہ شرک کی صورت اختیارکرلے۔کاش،اگر،مگر،لیکن ویکن کوزندگی سے نکال دیں۔ خودکوبے سکون وپریشان پائیں تواللہ تعالیٰ سے توبہ کریں اپنے والدین بہن بھائیوں کے ساتھ کوئی ناراضگی ہے توفوری دورکریں معاف کرناشروع کریں اللہ کی مخلوق کی خدمت وبھلائی کرناشروع کریں صلہ رحمی سے کام لیں۔سکون قلب پانے کاکوئی ایک یاخاص فارمولانہیں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اللہ پاک سے محبت کریں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی محبت کے سامنے کسی چیز کسی رشتے کسی نعمت کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اللہ پاک کے حبیب نبی حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس اورآپﷺ کی (عترت)اہل بیت پردرودوالسلام کے نذرانے پیش کریں اللہ تعالیٰ کے حضور دنیاکی نعمتوں کی طویل فہرست پیش کرنے سے کہیں بہترہے آپ اللہ سے اللہ ہی کی طلب کریں جب اللہ مل جائے بلکہ اللہ تو ہمیں مل چکاہے اللہ توہماراہے اللہ توہمیں پیداکرتاپالتارزق دیتاعزت وعظمت عطافرماتاہے اللہ توہمیشہ سے ہمارے ساتھ ہے سکون قلب چاہیے تواللہ تعالیٰ کی عطاﺅں مہربانیوں احسانات اور فضل و کرم پرشکراداکرناشروع کردیں جب اللہ مالک و خالق ہوکرصاحب قدرت وصاحب اختیارہونے کے باوجود بغیرکسی شرط اورضدکے ہمیں نعمتیں عطافرماتاہے توہم کمزور وبے بس مخلوق اللہ پاک کی عبادت اوریادپرشرطیںیاضدیں لگانے والے کون ہیں؟اللہ تعالیٰ ماننے والوں نہ ماننے والوں سب کوپیداکرتاپالتارزق عطافرماتاہے توہماری مشروط عبادت کاکیامطلب ہوا؟ اللہ رب العزت ہم سے محبت کرتاہے وہ بھی بالکل بے لوث ہم کبھی بھی اللہ تعالیٰ کوکچھ دینے کے قابل نہ ہوں گے۔ انسان کسی دوسرے کی مدددو ہی صورتوں میںکرتاہے اول توکسی احسان کے بدلے دوئم مستقبل میں کسی فائدے کی غرض سے بصورت دیگرانسان کیلئے دوسروں کی مددکرنابہت مشکل بلکہ ناممکن ہے اسی صورت ممکن ہے جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوجائے اللہ کافضل ہوجائے ہدایت مل جائے توسکون قلب کے بے شمارطریقے ہیں اللہ تعالیٰ کافضل ہوجائے تواللہ کہاں ہے کیساہے کب دعائیں قبول فرمائے گا کب خواہشات کی تکمیل ہوگی؟ کب حسرتیں پوری ہوں گی؟وغیرہ وغیرہ سب سوال بے کارہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ جوچاہے عطافرمائے جوچاہے عطانہ فرمائے جب چاہے نعمتیں عطافرمانے کے بعدواپس لے لے ۔اہل فضل اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کرتے محبت میں فرق نہیں کرتے عبادت میں خلوص کم نہیں ہونے دیتے اللہ تعالیٰ کافضل ہی سکون قلب ہے اب یہ اللہ تعالیٰ کافیصلہ ہے کہ کس پر کب کس حالت میں فضل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کافضل انسان کی عبادت ریاضت سخاوت محنت و ہنر کاپابندنہیں اللہ پاک کافضل توخاص اللہ کی رضاہے بظاہرناقص اعمال والے پراللہ تعالیٰ کافضل ہوسکتاہے اورظاہری بھلے نیک اعمال والااللہ کے فضل سے محروم رہ سکتاہے انسان اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتاہے کہ فلاں کوعطاکیاہے تومجھے بھی عطافرمافلاں تونیک نہیں عبادت گزارنہیں سخاوت نہیں کرتاصلہ رحمی سے کام نہیں لیتا اوربے شمارخامیاں ہیں اس کی شخصیت میں پھربھی اسے زیادہ عطافرمایاہے میں تواس کے مقابلے میں اچھے اعمال سرانجام دیتاہوں تیری عبادت کرتاہوں ہروقت سخاوت کرتاہوں نیکیاں کرتاہوں مجھے کیوں کم عطافرمایاہے ؟یعنی اللہ تعالیٰ سے طویل شکایت ہوگئی اورسکون قلب بربادکرلیا۔اللہ تعالیٰ نے کب کتنااورکس کوعطاکرناہے کس کے اعمال بہترہیں یہ فیصلہ کرنے کاانسان کے پاس کوئی اختیارہی نہیں اللہ تعالیٰ کسی قسم کی اہلیت کے بغیرغیرمشروط عطافرماتاہے توپھرہمارے شکوے شکایتوں کاکیافائدہ الٹانقصان ہوجاتاہے سکون قلب چاہتے ہیں توخواہش کریں دعائیں مانگیں التجائیں پیش کریں پرشرط نہ لگائیں ضدنہ کریں اور شکایت کرناچھوڑدیں انسان کی بھوک اللہ پیدافرماتاہے اوراس سے بھی پہلے رزق پیدافرماتاہے بس ذرہ صبرکرلیں رزق دینے والاضروردے گاجوبھوک لگاتاہے وہی کھاناعطافرماتاہے کیا کھیت کسان کی مرضی سے اناج اگاتے ہیں؟ نہیں کسان اپنے حصے کی محنت کرکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عملی التجاءپیش کرتاہے اوراللہ رب العزت دانے میں جان ڈال کرپودہ بناتاہے پھراس پرپھول اورپھل اگاتاہے اللہ پاک نہ چاہے توکسان کی فصل محنت کے باوجود نہیں اگتی اللہ تعالیٰ چاہے توپکی فضل کسان سے واپس لے لیتاہے اورچاہے توکم وسائل اورکم محنت کے باوجودزیادہ عطافرماتاہے یعنی یہ اللہ کافیصلہ ہے کہ کس کوزیادہ عطافرماناہے اورکب کس کو کم۔اللہ تعالیٰ کانظام و ہی چلاتاہے اوراللہ تعالیٰ ہی نے چلاناہے آپ سکون قلب چاہتے ہیں تومداخلت کی بے کارکوشش کرناچھوڑکراللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فیصلوں کوبغیراگرمگرلیکن ویکن قبول کرناشروع کردیں میرے اور آپ جیسے اور ہم سے بھی بہتر کتنے ہی اللہ تعالیٰ نے پیدافرمائے اورمٹادیئے ہمیں بھی جلداس دنیاسے رخصت ہوکراپنے خالق کی بارگاہ میں حاضرہوناہے اس بارگاہ میں جہاں لطف ہی لطف ہے سکون ہی سکون ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی پاک وبلندبارگاہ میں حاضری کی خواہش ہی سکون قلب کی تلاش کی سوچ تک کوختم کردیتی ہے۔سکون قلب کسی فارمولے کانام نہیں کسی نعمت کے حصول یاچھن جانے کانام نہیں بلکہ سکون قلب تواللہ رسولﷺ کی خوشنودی کے ساتھ منسلک کیفیت کانام ہے جواللہ تعالیٰ کی رحمت سے واردہوتی ہے اوراللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کورحمت اللعالمین بناکرمخلوقات پراحسان عظیم فرمایاہے۔سکون قلب برائے راست اللہ تعالیٰ کی یاداحکامات کی پیروی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اوراہل بیت کے ادب واحترام اورخدمت کے ساتھ وابستہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیرکچھ نہیں ہوتا۔صلہ رحمی اختیارکریں،قریبی رشتہ داروں کے ساتھ قطع تعلقی بڑے گناہوں میں سے ہے حقوق العبادکاخیال کریں اوراللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں پرتوبہ کریں معافی کی طلب کریں پھراللہ پاک کافضل ہوجائے گااورسکون قلب کی دولت نصیب ہوگی“

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.