وقت وقت کی باتیں

0 131

تحریر۔۔۔محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام۔4 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہےکہ پیشاب کپڑوں میں نہ نکلے8 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ گھر جانے کا رستہ آتا ہو 12 سال کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ دوست احباب ہوں18 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ گاڑی ڈرائیو کرنی آتی ہو23 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ اچھی ڈگری حاصل کر لی ہو
25 برس کی عمر میں …. کامیابی یہ ہے کہ کوئی اچھی نوکری مل گئی ہو30 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ بیوی بچے ہوں35 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ مال ودولت پاس ہوں45 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ اپنا آپ جوان لگے50 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ بچے تمہاری اچھی تربیت کا صلہ دیں55 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ ازدوجی زندگی میں بہار قائم رہے
60 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ اچھے سے گاڑی ڈرائیو کر سکو65 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ کوئی مرض نہ لگے
70 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ کسی کی محتاجگی محسوس نہ ہو75 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ تمہارا حلقہ احباب ہو80 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ گھر جانے کا رستہ آتا ہو85 برس کی عمر میں کامیابی یہ ہے کہ کپڑوں میں پیشاب نہ نکل جائے (يٰس-68)​​اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم اُلٹ ہی دیتے ہیں کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی۔​ایسی ہی ہے یہ دنیا- لہذا دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کریں کیونکہ آخرت کی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے۔کتنی معصومیت بھرے پرانے دور میں الماریوں میں اخبارات بھی انگریزی کے بچھائے جاتے تھے کہ ان میں مقدس کتابوں کے حوالے نہیں ہوتے۔چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی پر بھی کوئی نہ کوئی سنا سنایا خوف آڑے آجاتا تھا۔زمین پر نمک یا مرچیں گر جاتی تھیں تو ہوش و حواس اڑ جاتے تھے کہ قیامت والے دن آنکھوں سے اُٹھانی پڑیں گی۔گداگروں کو پورا محلہ جانتا* تھا اور گھروں میں ان کے لیے خصوصی طور پر کھلے پیسے رکھے جاتے تھے۔محلے کا ڈاکٹر ایک ہی سرنج سے ایک دن میں پچاس مریضوں کو ٹیکے لگاتا تھا، لیکن مجال ہے کسی کو کوئی انفیکشن ہو جائے۔یرقان یا شدید سردرد کی صورت میں مولوی صاحب ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دم کردیا کرتے تھے اور بندے بھلے چنگے ہوجاتے تھے۔گھروں میں خط آتے تھے اور جو لوگ پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ ڈاکئے سے خط پڑھواتے تھے ۔ ڈاکیا تو گویا گھر کا ایک فرد شمار ہوتا تھا خط لکھ بھی دیتا تھا‘ پڑھ بھی دیتا تھا اور لسی پانی پی کر سائیکل جایا کرتےتھےامتحانات کا نتیجہ آنا ہوتا تھا تو نصر من اللہ وفتح قریب پڑھ کر گھر سے نکلتے تھے اور خوشی خوشی پاس ہوکر آجاتے تھے۔یہ وہ دور تھا جب لوگ کسی کی بات سمجھ کر اوکے نہیں ٹھیک ہےکہا کرتے تھے۔موت والے گھر میں سب محلے دار سچے دل سے روتےتھے اور خوشی والے گھرمیں حقیقی قہقہے لگاتےتھے۔ہر ہمسایہ اپنے گھر سے سالن کی ایک پلیٹ ساتھ والوں کو بھیجتا تھا اور اُدھر سے بھی پلیٹ خالی نہیں آتی تھی۔میٹھے کی تین ہی اقسام تھیں حلوہ، زردہ چاول اور کھیر آئس کریم دُکانوں سے نہیں لکڑی کی بنی ریڑھیوں سے ملتی تھی، جو میوزک نہیں بجاتی تھیں۔گلی گلی میں سائیکل کے مکینک* موجود تھے جہاں کوئی نہ کوئی محلے دار قمیص کا کونا منہ میں دبائے پمپ سے سائیکل میں ہوا بھرتا نظر آتا تھا۔نیازبٹتی تھی تو سب سے پہلا حق بچوں کاہوتا تھا۔دودھ کے پیکٹ اور دُکانیں تو بہت بعد میں وجود میں آئیں‘ پہلے تو لوگ بہانےسے دودھ لینے جاتے تھے۔
گفتگو ہی گفتگو تھی‘ باتیں ہی باتیں تھیں وقت ہی وقت تھا۔
گلیوں میں چارپائیاں بچھی ہوئی ہوتی تھیں محلے کے بابے حُقہ پی رہے ہوتے تھے اور پرانے بزرگوں کے واقعات بیان کر رہے ہوتے تھے۔
جن گھر وں میں ٹی وی آچکا تھا انہوں نے اپنے دروازے محلے کے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے۔مٹی کا لیپ کی ہوئی چھت کے نیچے چلتا ہوا پنکھا سخت گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا دیتا تھا۔ اور فرج کے بغیر بھی مٹکے اور صراحیوں کا پانی ٹھنڈا رہتا تھا۔ لیکن۔پھر اچانک سب کچھ بدل گیاہم قدیم سے جدیدہوگئے۔اب باورچی خانہ سیڑھیوں کے نیچے نہیں ہوتا۔کھانا بیٹھ کر نہیں پکایا جاتا۔دستر خوان شائد ہی کوئی استعمال کرتا ہو۔منجن سے ٹوتھ پیسٹ تک کے سفرمیں ہم نے ہر چیز بہتر سے بہتر کرلی ہے، لیکن پتہ نہیں کیوں اِس قدر سہولتوں کے باوجود ہمیں گھر میں ایک ایسا ڈبہ
ضرور رکھنا پڑتا ہے، جس میں، ڈپریشن‘ سردرد‘ بلڈ پریشر‘نیند اور وٹامنزکی گولیاں ہر وقت موجود ہوں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.