سب سیاست کے بھنٹ چڑھ جاتے ہیں

0 45
اس وقت پورے ملک میں یہ سوال پوچھا جارہا ہیے کہ گزشتہ بایس سالوں سے کویٹہ کے ھزارہ کیمونٹی تین ھزارلوگ دہھشت کردوں کے ھاتوں کیوں مارے جارہیے ہیں اوریہ سلسلہ نہ روکتے ھوئے سانحہ مچھ رونما بھی ھوا؟ ھزارہ برادری کے لوگ ٹارگٹ کلنگ اورخودکش دھماکوں میں مارے گئے ہیں بعدمیں ھزارہ کیمونٹی کے لوگ اس پر حملہ ھونے کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے مطالبے کے لئے احتجاجی دھرنے بہ امر مجبوری دیتے ہیں۔ جس سے اظہار یک جہتی کے لئے اس ملک کے صدر وزیراعظم اورآرمی چیف ملک کے سیاسی پارٹیاں کءدفعہ اس دھرنوں میں شرکت کرتے رہیتے ہیے جبکہ اس بار مچھ سانحے کے دھرنے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید ذوالفقار بخاری وفاقی وزیر علی زیدی کان کنوں اور لواحقین کو دلاسہ دیتے رہیے اورپاکستانی حکومت کے اعلی حکام اس بار بھی ھزارہ کمونٹی کو یہ یقین دہانی کراءگءکہ ھزارہ برادری فکرنہ کرے ھم اس کا تحفظ کرے گے مگر چند مہینے گزرنے کے بعد پھر ھزارہ برادری پر حملے ھوتے جاتے ہیں اس سے ثابت ھورہا ہیے کہ ھزارہ کل بھی مارے جارہیے تھے اورآج بھی مارے جارہیے ہیں سوال یہ ہیے کہ ھزارہ برادری کے لوگوں کو مارنے کے بارے میں حکومت پاکستان نے کونسی تحقیق کی ہیے؟ کہ کون ھزارہ برادری کو مارتے ہیے۔اورخودھزارہ برادری کے لوگ حکومت کی طرف سے ان کے مارے جانے کے بارے میں کی گءتحقیقات سے کتنا مطمین ہیے ؟۔ کیا حکومت بھی ھزارہ برادری کے لوگوں کو مارنے سے روکنے کے لئے اب تک کوءایسا عملی اقدامات کی ہیں جس سے ھزارہ برادری کے لوگوں کو مارنے سے روکا جاییں۔سوال یہ ہیے کہ ھزارہ برادری کے لوگوں کو مارے جانے کے بارے میں خودھزارہ برادری نےتحقیق کی ہیے کہ کون اور کیوں انہیں مارتے ہیے اس بارے میں ھزارہ برادری کا کنہا ہیے کہ افغانستان کے طالبان کا ھمارے بارےمیں کہنا ہیے کہ ھزارہ برادری کے لوگ افغان حکومت کے ساتھ دیتے ہیے کیونکہ افغان حکومت ھمارے خلاف ہیے اور ھزارہ برادری ھمارے دشمن کے ساتھ ھمارے خلاف کھڑے ہیے لیکن اس کے جواب میں ھزارہ برادری کا جواب یہ ہیے کہ جناب افغانستان کے ھزارہ کے ساتھ ھمارا کیا تعلق ہیے ھم ایک اور ملک میں رہتے ہیں اورافغانستان کے ھزارہ دوسرے ملک کے باشندے ہیں اس کے گناہ کرنے کا سزا ہمیں نہ دی جائے بقول مبصرین کے بظاہر تواس وجہ کی علاوہ اور کوءوجہ نظرنہیں آرہا ادھرکابل میں ھزارہ برادری پر حملے کے بارے میں یہ اطلاع ہیے کہ ھزارہ برادری شعیہ حزب وحدت سے تعلق رکتھے ہیے اورشعیہ حزب وحدت جس کے سربراہ استادمحقق ہیے اور حزب وحدت پارٹی کو پاکستان کی ایک ھمسایہ ملک ایران کی زبردست مالی اورجانی حمایت حاصل ہیے اورحزب وحدت پارٹی طالبان کے خلاف ہیے ھزارہ برادری پر بلوچستان میں پے درپے حملے کے بارے میں ایک فیکٹر اس کے تانے بانے افغانستان میں ملتے ہیے دوسری فیکٹر یہ ہیے کہ پاکستان کا ایک ھمسایہ ملک ھندوستان کی کوشش یہ ہیے کہ وہ داعش کے زریعے ھزارہ برداری پر حملے کرے اور اس حملوں کے زریعے چین جوکہ پاکستان میں سی پیک بنانا چاہتا ہیے )کویہ بتانا چاہتا ہیے کہ یہاں امن امان درست نہیں لہذا یہاں سرمایہ کاری نہ کیا جا? انڈیا کو امریکہ کی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہیے امریکہ نہیں چاہتا کہ چین جنوبی ایشیاءسرمایہ کاری کرے اس وقت جنونبی ایشیاءامریکہ اور چین کے درمیان ایک قسم کی سردجنگ شروع ھوءہیے چین کے پاکستان میں سی پیک بنانے کے بارے ایک اطلاع یہ بھی کہ جبوتی پر چین کا ایک بڑا فوجی آڈہ ہیے اور وہ گوادر میں آنا جاتا ہیے بقول مبصرین داعش کے ھزارہ برادری حملہ کرکے یہ چین کو دیکھانا چاہتے ہیے کہ بلوچستان میں امن امان خراب ہیے اس بارے میں خود وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا ہیے کہ بقول ان کے کہ ہمیں معلوم ہیے کہ ملک میِں شیعہ سنی فسادات کون کروانے کی کوشش کررہا ہیے بقول ان کے انڈیا پاکستان میں مسلکی بنیادوں پرانتشار پھلانا چاہتا ہیے سانحہ مچھ اسی سازش کی کھڑی تھی تیس سے چالیس لوگ ہیں جوپہلے لشکر جھنگوی میں تھے اوراب آءایس ایس کا حصہ بن گئے اور وہ دہشت گردی کررہیے ہیں۔سوال یہ ہیے کہ حکومت کو معلوم ہیے کہ تیس سے چالیس لوگ دہشت گردی کررہیے ہیں توان لوگوں کو کیوں گرفتار نہیں کرتے؟ اب جبکہ وزیراعظم نے سانحہ مچھ کے لواحقین کے سارے مطالبے مانے گی? مگر سانحہ مچھ کوبھی سیاسی اورمزہبی رنگ لگ گءپہلا مزہبی اورسیاسی رنگ اس وقت دھرنے کے دوران نظر آنے لگا جب ھزارہ برادری کے دس افرادکو مچھ کے گشتری کے علاقے میں مارے جانے کے خلاف جودھرنا چھ روزاس سخت سردی میں اپنے مطالبے کے حق میں مغربی باءپاس پر دیاگیا اس دھرنے کے دوران ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ھزارہ ڈیموکراٹیک پارٹی کے سربراہ اورھزارہ برادری کی ووٹوں سے منتخب صوباءوزیرمشرعبدالخالق ھزارہ نے کہا کہ چند مزہبی عناصرکسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لواحقین اور منتظمین کے الگ الگ کچھ مطالبات آیین سے ٹکراو اورکچھ عدالتوں میں جاری کسززسے ہیے انہیوں نے کہا کہ احتجاج سب کا حق ہیے مگرمیتوں کے ہمراہ احتجاج نامناسب ہیے اس دھرنے کے دوران گراونڈ پر یہ نظرآیا کہ مجلس وحدت المسلمین نے اس دھرنے کی زمہ داری لی جبکہ نام لواحقین کا لیا جارہاتھا جومطالبات کی جارہیے تھے لواحقین کا اس سے کوءسر وکار نہیں دوسرا سیاست وزیراعظم کی طرف سے نظرآء انہیوں نے کہا کہ ہزارہ برادری اپنے متیں دفنا گے تومیں اسی دن اوراسی وقت کویٹہ جاوگا وزیراعظم نے دھرنے والوں پرتنقیدکی کہ وہ غیرضروی طورپرشہدا تدفین کو ان کے کوئٹہ آنے سے مشروط کرکے بلیک میلنگ کررہیے ہیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مقتول شیعہ ھزارہ کان کنوں کے اہل خانہ سے تعزیت کے لی کوئٹہ جانے سے ہچکچاہٹ یہ احساس اور بھی بڑھادیتی ہیے ان کے خلاف زمہ داری کا احساس نہیں کس طرح ھزارہ مظاہرین وزیراعظم سے زیادہ سے زیادہ توقع کرسکتے ہیں کچھ الفاظ روایتی یقین دہانی ہیے کہ غم کی اس گھڑی میں قوم ان کے ساتھ ہیے اورکچھ مالیاتی معاوضہ جوکسی بھی طرح سے جانوں کے ناقابل تلافی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہیے یہ کہے بغیرکہ ریاست دوھزار دہاییوں کے دوران خوفناک حملوں میں دوھزار جانوں سے دوچارھونے والی کمزور ھزارہ برادری کوسلامتی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیے اورمسلسل خوف کے عالم میں زندگی بسرکررہی ہیے تاہم وزیراعظم کے ساتھ آمنے سامنے بات چیت ان کی بے بسی کے احساس کوکمزورکرسکتی ہیے ان کے دردتو کم کرسکتا ہیے اورغصہ کوسکون دیتا ہیے ان کے تعلق بکھرے ھو احساس کوشفا بخش سکتا ہیے اور اس کے پیغام کوپہنچا سکتا ہیے کہ انہیں ہرگزمہلت نہیں دی جاتی ہیے اوریہ کہ حکومت نے جو وعدے 2013 میں کی تھے اسے سنجدگی سے لیا جا گا اگر موجودہ وزیراعظم عمران خان کی تاریخ دیکھیں توانہیوں نے بطورحزب اختلاف کے لیڈر ان موقعوں پر ھزارہ براردی کا نہ صرف ساتھ دیا ہیے بلکہ پیچھلی حکومتوں پر اپنے بیان کے زریعے تنقید بھی کی وزیراعظم نے 11جنوری 2013 کا ٹوئر جاری بیان میں کہا تھا جس میں وہ ھزارہ برادری پر ھونے والے حملے کی مزمت کرتے ھو وہ پوچھ رہیے ہیں کہ ریاست کہاں ہیے؟ اس واقعے کے کءسال بعد آج ھزارہ برادری یہی سوال پوچھ رہی ہیے کہ ریاست کہاں ہیے؟ ھزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن حمیدہ نے کہا ہیے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ھماری لاشوں پرکوءسیاست کرے لیکن ساتھ ہی ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بتایا جا کہ ہمارا قصور کیا ہیے ہمیں کب تک ذبح کیا جا گا وزیراعظم کے اس بیان سے صورتحال کوانتہا گھمبیر کردیا تیسرا سیاسی رنگ سانحہ مچھ دھرنے کے دوران صوباءحکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کی طرف سے نظرآیا انہیوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے نایب صدرمریم نواز اور پی پی کے بلاول بھٹوزرداری ھزارہ برادری کے ساتھ ھمدردی دیکھانے کے لی کوئٹہ آمدپرھماری توقع تھی کہ آج سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ھوگی ہمیں امیدتھی کہ وہ ھزارہ برادری کے زخموں پرمرحم رکھیں گے انہیں حوصلہ دیں گے لیکن بقول ان کے افسوس ھوا کہ انہیوں نے اس موقع پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ہیے
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.