تحصیل وڈھ کے علاقہ جھمبور پرائمری سکول کی حالت زار

0 295

تحریر: قادر خدرانی

گورنمنٹ پرائمری سکول جھمبورو جن میں ضروری سامان اور سہولیات تو کاغذی ریکارڈ میں موجود ہوگا ان کا اصل صورتحال تصاویر میں واضح طور پر بیان ہے
بد قسمت علاقہ جھمبورو تحصیل وڈھ کے دور دراز علاقوں میں شمار کیا جاتاہے باقی سہولیات سے محروم جھمبورو تعلیم کے حوالے سے سب سے پسماندہ علاقہ مانا جاتا ہے زیر نظر تصویر میں ایک کچا کمرہ آپ کو دیکھائی دے رہا ہیں جو کہ گورنمنٹ پرائمری سکول جھمبورو کے بلڈنگ تھے سکول کے بلڈنگ بھوت بنگلہ کا منظر پیش کررہا تھا بلڈنگ کے قریب جانے سے ڈر لگتا تھا بلڈنگ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ صدیوں پرانا کمرہ ہے جس میں کم ازکم 40 سے 50 بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے تھے جو کہ بد قسمتی سے بارشوں کے موسم میں گر کر تباہ ہو گیا جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتا تھا لیکن بچوں کو اپنا مستقبل سے پیار تھا تقریبا 8 سال سے زائد عرصے تک اس کچے کمرے میں اپنی تعلیم حاصل کررہے تھے پچھلے کئی سال سے زائد عرصے سے بارش کی وجہ سے کچا کمرہ گر کر مکمل تباہ ہوچکا ہے خوش قسمتی سے بارش کے دوران سکول میں بچہ اور ٹیچرز موجود نہیں تھے جھمبورو کے آبادی سینکڑوں گھروں پر مشتمل ہے اس جدید دور میں اتنی بڑی آبادی کو ایک سرکاری سکول کی بلڈنگ کی سہولت میسر نہیں ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنی بڑی آبادی میں 3سے 4 پرائمری اور ایک مڈل سکول کی سہولت موجود ہوتے مگر افسوس سے لکھنا پڑھ رہا ہیں اتنی بڑی آبادی میں ایک پرائمری سکول کی سہولت میسر نہیں کہاں ہیں تعلیم کے دعویدار؟ جنہیں اتنی بڑی آبادی نظر نہیں آرہا ہیں اتنی بڑی آبادی کے بچوں کے روشن خواب چمکنے سے پہلے چکنا چور ہوتے ہیں اس جدید دور میں جنہیں ایک پرائمری اسکول کی سہولت میسر نہیں علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے ہمارے مستقبل کے روشن ستارے تعلیم جیسے حسین نعمت سے محروم ہیں اس علاقے کو جدید دور میں اتنا پسماندہ رکھنے میں نمائندے کس جرم کا بدلہ لے رہے ہیں۔؟ جھمبورو سے چند کلومیٹر آگے تحصیل دریجی کا علاقہ شروع ہوتا ہیں جس میں ایک کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو ایک پرائمری سکول ایک ڈسپینسری دیکھنے کو ملتا ہے مگر یہاں پورا علاقہ میں ایک پرائمری سکول نہیں کیا ان لوگوں کا حق نہیں بنتا کہ اتنی بڑی آبادی کو ایک سکول کی سہولت میسر ہوجائے آگے ان لوگوں کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر کے اپنا مستقبل روشن کریں ملک و قوم کی خدمت میں کردار ادا کر سکیں تعلیمی لحاظ سے اگر تحصیل دیگر علاقوں کی نسبت بیس 20 سال پیچھے ہیں تو یہ علاقہ تحصیل وڈھ سے 40 سال پیچھے ہیں اتنی بڑی آبادی کو تعلیم سے دور رکھ کر نمائندے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔؟ پچھلے 75 سالوں سے اس علاقے میں باقی سہولیات اپنی جگہ ایک پرائمری سکول کی بلڈنگ کی سہولت میسر نہیں اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے ضلعی آفیسران نے ایک بار اس علاقے کا وزٹ کرنے کی زحمت کر چکے ہیں۔؟ ٹیچرز اور طلباء کس حال میں پڑھ رہے ہیں کیا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔؟ ہمارے معلومات کے مطابق کئی سے پہلے سے سکول کا کمرہ گرکر تباہ ہوچکا ہے اس کے بعد ایک دفعہ ٹیچر نے سکول کا رخ نہیں کیا ہے اب معلوم نہیں کہ ٹیچر کہاں ہے ریٹائر یا ٹرانسفر ہوچکا ہے یا گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کررہاہے اس کا بہتر جواب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دے سکتا ہے جھمبورو تحصیل وڈھ کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں سکول کی سہولت موجود نہیں کہنے کو تو ہمارے لیڈران تعلیم دوست ہیں سالانہ تعلیم پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا دعوی کرتے ہیں وہ پیسہ آخر کہاں خرچ ہوتا ہے میدان میں تو ایک سکول ہی نہیں کسی بھی سماج میں ترقی کیلئے خصوصاً دو ادارے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تعلیم اور صحت لیکن بدقسمتی یہاں ان دونوں شعبوں میں صرف کاغذی ترقی ہوئی ہے سالانہ کروڑوں روپے گمنام سکولوں کے نام پر ہڑپ کئے جاتے ہیں یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں اس لسٹ میں ایسے بہت سکولوں کا نام بھی ہوگا گزشتہ کئی سالوں سے صوبائی حکومتوں نے تعلیم لانے کی کوششیں کی دیکھنے کیلئے کافی ہے حکومتیں کتنی کوشش کی ہیں؟ بغیر بلڈنگ بغیر سہولیات کے صرف ایک ٹیچرز کو تنخواہ دے کر بھیجنا تعلیم نہیں نہ پانی کی سہولت نہ دیگر سہولیات یہ سب اپنی جگہ ایک چٹائی تک نہیں یا تو پورا کا پورا بلڈنگ غائب۔
سیکنڑوں آبادی پر مشتمل تحصیل وڈھ کا علاقہ جھمبورو کے بچے گزشتہ کئی سالوں سے حصول علم سے محروم ہیں۔اس دوران کسی بھی آفیسر نے سکول کا مسئلہ تعلیمی ذمہ داران کے سامنے شاید نہیں رکھا ہوگا اگر رکھا ہے تو ان کی آواز سنی ان سنی کر دی گئی ہے میں جب بھی ان علاقوں کو چلا جاتا ہوں تو میرے سامنے گاؤں کی وہی تصویر آویزاں ہوتی ہے پتھر کی زمانے والے اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کا دور نہیں سوالات میرے گرد ڈیرہ ڈالتے ہیں۔ ہمارے دور دراز علاقوں کے بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم کیوں؟ کھوج لگانے کی کوشش کرتا ہوں مگر جواب تلاش نہیں کرپاتا ہوں۔ نہ ہی ان علاقوں کے مرد پڑھے لکھے اور نہ ہی خواتین۔ ایک دن مسافر بس میں سفر کے دوران ایک مریض سے سامنا ہوا۔ بغل میں بیمار بچہ مسلسل روتا چلا جا رہا تھا۔ سوال ان سے یہی تھا کہ ڈاکٹر کو دکھایا تو کہنے لگیں ہاں دکھایا تو ضرور مگر ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں دی ہے دو مریض کے دوائی ہے کوئی پڑھے لکھے نہیں جو پرچیاں پڑھ کر یہ بتائیں کونسے دوائیاں کس مریض کا ہیں یہ منظر دیکھ کر محسوس کیا کہ شعبہ تعلیم وڈھ کے ان علاقوں میں کس طرح متاثر ہیں ماں پڑھی لکھی نہیں جو وہ خود رپورٹ پڑھ کر دوائیاں نکال پاتی۔ بچے تو بچے ایک بڑے بھی تعلیم یافتہ موجود نہیں ایسے فضاء میں دل خون کے آنسو روتا ہے دوائیاں نہ صحیح دودھ کی بوتل سے بچے کو خاموش کرنے کے لئے وہLactogen لیکٹروجن کی جگہ پانی چائے کا سہارا لے رہی تھی۔ اب بھلا ایسی فضا میں جن کے پاس خود کو خوراک مہیا کرنے اور بچے کو دودھ پلانے کے پیسے نہ ہوں تو بھلا وہاں کا باسی اپنی موجودہ نسل کو تعلیم کیسے شہروں اور پرائیوٹ سکولوں میں دلا پائیں گے۔؟ وڈھ میں شعبہ تعلیم کے اندر بہتری لانے کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے جو زمہ داران کی غلط پالیسیوں کے باعث پاؤں پر کھڑا نہیں ہیں ہم سب سماجی زمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ان پر کام کریں یہ مسائل صرف ایک علاقے کے ہی نہیں بلکہ تحصیل وڈھ کے دور دراز تمام علاقوں کے داستان ہیں تحصیل وڈھ میں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر چکی ہے۔ گذشتہ کئی سال سے تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد ہزاروں میں تھی اور اب نئے سال کے بعد سکول کھلیں تو ان حالات کے مطابق تعداد اور بھی بڑھ سکتا ہے
ایک رپورٹ کے مطابق ان علاقوں کے محنت کش طبقہ بچوں کی کمائی کی بجائے ان کی تعلم کو ترجیح دیتا ہے۔ بہت سے لوگ تو مجبوری میں سکول کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بھی بچوں کو محنت پر لگا دیتے ہیں تعلیم یافتہ نہ بن سکے تو معاشی کمزوریوں میں ھاتھ بٹائیں اس طرح ایک فرد نہیں ایک نسل تباھی کی طرف گامزن ہوتا جارہا ہیں جنہوں نے تعلیم دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے سماج کو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے ایک تو سکول برائے نام دئے ہیں اساتذہ کو کھلی چھٹی دے رکھی ہیں اور ان غیر حاضر اساتذہ کو تنخواہیں ان کے گھروں تک پہنچائی جا رہی ہیں ان علاقوں میں ہمارے پاس ایسے غیر حاضر اساتذہ کی فہرست آگئی جنہیں سیاسی بنیادوں پر یا محکمہ تعلیم کے ذمہ داران سے بارگیننگ کرنے پر کھلی چھٹی مل گئی ہے اور جہاں سکولوں کو عمارت کی ضرورت تھی وہاں بچے جھونپڑی کے اندر یا کھلے آسمان تلے حصولِ علم کے لیے مجبور تھے کئی سکول فرنیچرز دروازہ کھڑکی سے محروم ہیں تحصیل بھر میں صرف پرائمری اسکولوں میں 100 کے قریب سے زائد اساتذہ کی پوسٹ کئی سالوں سے خالی ہیں جنہیں جان بوجھ کر پر نہیں کیا جا رہا۔ پورے تحصیل کا تعلیمی نظام فقط چند سکول اساتذہ کے سہارے چل رہا ہیں سب سے پہلے پرائمری اسکولوں کو ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہیں پہلے سیڑھی جب تک ٹھیک نہیں ہم کبھی بھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے
تحصیل وڈھ کے تمام سیاسی سربراہان میں چھوٹے بڑے اختلافات ضرور ہیں…. مگر اپنے علاقے کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے اور اپنے لوگوں کی استحصال کرنے میں یہ سب ایک ہی پیج پر ہیں.
انہیں الفاظوں کے اختتام میں ایک شاعری پیش کرتا ہوں
عدل و انصاف محبت کا سبق مانگا تھا
ہم نے کب زخموں پر اپنے ہی نمک مانگا تھا
یہ خوشی اور نوازش ہو تم کو مبارک
ہم نے خیرات نہیں مانگی تھی حق مانگا تھا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.