سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ کی تعلیم دوستی اور قابل تقلید حسن اخلاق

0 78

ورکرز ویلفیئر بورڈ بلوچستان کے سیکرٹری سراج خان موسی خیل صاحب اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق اور کامل شخصیت کے طور پر معاشرے میں پہچانے جاتے ہیں۔ سراج صاحب نہ صرف اپنے کولیگز اور نیچے سٹاپ کے ساتھ شائستگی اور آداب کے ساتھ پیش آتے ہیں بلکہ لیبر اسکولوں کے اساتذہ کرام سمیت طالب علموں کے ساتھ بھی شائستگی سے پیش آتے ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد سراج صاحب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور معاشرے میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ چونکہ یہ بات کسی شک و شبے کے بغیر کہی جاسکتی ہے کہ ورکز ویلفیئر بورڈ کے سیکرٹریز کی تاریخ میں سراج موسی خیل صاحب کا شمار انتہائی ذہین,قابل اور محنتی سیکرٹریز میں ہوتا ہے۔اپ اپنی ذہانت, قابلیت اور محنت کی بدولت محکمے کے کئی پوزیشن پر رہ چکے ہیں۔اور اس وقت ورکرز ویلفیئر بورڈ بلوچستان کے سیکرٹری ہیں۔ ذمہ دارانہ کارکردگی کی بدولت ہر پوزیشن پر ان کے کام اور اقدامات کو پذیرائی ملی ہے۔ سیکرٹری صاحب دوسروں کی مدد کرنے میں لطف اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ آپ اپنا کام ہمیشہ پابندی اور وقت کے ساتھ مکمل کرنے کی عادی ہیں۔ جو ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں اسے احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ اسی لیے ہر فورم پر ان کی تعریف کی جاتی ہے سینئر افسران ہو یا جونیئر سب ان کے ساتھ انتہائی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ وہ سب سے محبت کرتے ہیں۔سب کی عزت کرتے ہیں اور سب کا خیال رکھتے ہیں۔اپ سچے پاکستانی ہیں۔ مختلف ادوار میں ان کی صلاحیتوں اور عمدہ کام سے حسد کرنے والوں نے ان کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کی۔۔۔۔روڑے بھی اٹکائے۔۔۔ان کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ان کے خلاف لابنگ کی۔ ان کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔ سازشیں کی گئیں الزام تراشی اور جھوٹے قصے گھڑے گئے۔لیکن بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے۔ہر امتحان اور آزمائش میں سراج موسی خیل صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سرخرو ہوکر نکلے اور ان کے مخالفین اور حاسدوں کو منہ کی کھانا پڑی تمام سازشیں ناکام ہوئی۔سراج موسی خیل صاحب نے عہدے پر تعینات ہوتے ہی صوبے میں ورکرزویلفیئر بورڈ کے سکولوں کی تعمیر و مرمت پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کی۔ سکولوں کے خستہ حال چھتوں اور چاردیواری سمیت پانی کے مسائل کے حل کیلیے اقدامات اٹھائے۔ اساتذہ کو حاضری کا پابند بنا کر انکے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ممکن بنائی۔ اسکے علاوہ صوبہ کے مختلف ضلعوں میں نئے سکولوں کے لئے فنڈز مختص کیے۔ اور صوبے میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت چلنے والے سکولوں کے مشکلات کے حل کیلیے وفاقی وزیر ساجد حسین طوری صاحب اور وفاقی سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ زوالفقار سے ملاقاتیں کیں۔ بلوچستان کے تمام شہری سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ صاحب کے اسکولوں کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آنے پر نہ صرف خوش ہیں بلکہ ان کو سراہتے بھی ہیں۔ انہوں نے آتے ہی ورکرز ویلفیئر بورڈ ڈیپارٹمنٹ کے میکنزم ، سروس رولز اور سروس سٹرکچر کے ساتھ ساتھ غریب لوگوں کے بچوں کو تعلیمی اداروں کے نظام کو بھی اولین ترجیح قرار دے دیا ہے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تمام افسران ، اسکولوں کے اساتذہ کرام جناب سراج موسی خیل سے سے مطمئن نظر اتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے لیبر سکولوں کے تمام طالب علموں کے لیے سہولیات کی فراہمی کی بدولت یہاں کے طالعبلم ان سے کافی خوش ہیں۔سیکٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ بلوچستان سراج موسی خیل صاحب علم کے داعی ہیں۔ اپ تعلیم کو انسان کا زیور سمجھتے ہیں اپ نے ایک سمینار میں تعلیم کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم انسانوں اور جانوروں کے درمیان واضح فرق پیدا کرتی ہے اور انسان کو تمام مخلوقات پر واضح برتری دیتا ہے۔سراج صاحب کا عقیدہ ہے کہ زندگی کو بدلنے کا سب سے اہم ذریعہ تعلیم ہی ہے۔ یہ ہماری سماجی اور معاشی حیثیت کو بھی بہتر بناتی ہے۔ انہوں نے کہا تعلیم انسان کے علم، ہنر، شخصیت اور رویہ کو نکھارتی ہے۔ تعلیم لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے کیونکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کو اچھی نوکری ملنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔سراج کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم ایک فرد کو کام کرنے اور زندگی میں سبقت حاصل کرنے کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرتی ہے۔ یہ ایک صحیح راستہ دکھا کر انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے اور یوں وہ اعلیٰ خود اعتمادی حاصل کرتا ہیں اور خوشگوار زندگی سے لطف
اندوز ہوتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ قوم اپنی نئی نسل کی پرورش ایک ان پڑھ قوم سے کہیں
بہتر کر سکتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ اپنی قوم کی خوشحالی میں کافی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم ایک مضبوط اور مستحکم قوم کا ستون ہوتی ہے۔سیکرٹری ورکر ویلفیئر بورڈ سراج خان موسی کی اعلی اور مثبت سوچ, تعلیم دوستی پر مشتمل کارکردگی کا سنہرا باب اور انکی حسن اخلاق کو دیکھ کو ایسے شخصیات کی حوصلہ افزائی اور معاشرے میں ایسے سوچ پنپنے کیلیے حکومت کو ایک بڑے ایوارڈ سے نوازنا چاہیے۔ تاکہ ہماری نئی نسل میں ایسے تعمیری سوچ کی مقبولیت عام ہوجائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.