کوٹہ سسٹم اور جعلی ڈومیسائل کے ذریعے مہاجروں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کردیا گیا

0 92

گذشتہ چند برسوں میں تین لاکھ ملازمتیں دی گئیں لیکن مہاجروں کو محروم رکھا گیا.خالد مقبول

میرپورخاص(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق گریجوئیٹ فورم کے تحت میرپورخاص کے مقامی بینکوئیٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جب تک سچ راج نہیں کرے گا،ملک میں عوام کا راج نہیں آسکتا۔ہمیں نیا یا پرانا نہیں بہتر پاکستان چاہئے۔پاکستان ایک اہم دور سے گذر رہا ہے۔تاریخ انسانی میں کوئی ایسا ملک نہیں جس کے قیام کے لئے بیس لاکھ جانوں کی قربانی دی گئی ہو۔قیام پاکستان کے وقت مہاجروں سے پوچھا گیا کہ کہاں جانا چاہتے ہیں،مہاجروں نے پاکستان کو قبول کیا اور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی۔ہم نے آزادی کی قدر نہیں کی، عوام کو حقوق سے محروم رکھا۔جاگیرداروں نے وسائل پر قبضہ کرلیا اور وہی ایوانوں میں براجمان ہیں۔ایوان میں کسان کی نمائندگی جاگیردار اور مزدورکی نمائندگی سرمایہ دار کررہا ہے۔من پسند قوانین منظور کرکے غریب و متوسط طبقہ کو حق حکمرانی سے محروم رکھا گیا۔ اے پی ایم ایس او کے بطن سے ایک سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے جنم لیا جو غریب و متوسط طبقہ کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔8اگست 1988ء کو ایم کیو ایم نے عام انتخابات میں حصہ لیا اور کراچی و حیدرآباد میں بھرپور کامیابی حاصل کی اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام کے حقیقی نمائندوں نے عوام کے حقوق کی ترجمانی کی۔چند برس گذرنے کے بعد ڈاکوﺅں کے خلاف آپریشن کی آڑ میں ایم کیو ایم کے خلاف بدترین ریاستی آپریشن کیا گیا جس کی مثال نہیں ملتی۔قصبہ علی گڑھ میں ظلم و بربریت سے کیا حاصل ہوا۔ہم نے ملک کے غریب و متوسط طبقہ کو شعور دیا ، بس یہی ہمارا جرم ٹھہرا۔جس جدوجہد کا آغاز ہم نے کیا اگر ہمارا ساتھ دیا جاتا تو پاکستان کے حالات آج یہ نہ ہوتے۔جب ہمارے ہاتھ میں شہری علاقوں کی باگ دوڑ آئی تو کوٹہ سسٹم کے باوجود ہم نے کام کیا اور شہری علاقوں نے ترقی کی۔آج پاکستان کے 60فیصد نوجوان ملک چھوڑ کر ترقی پسند ممالک میں اپنا کردار نبھانے جاچکے ہیں ایم کیو ایم نے ہمیشہ نظریات کی سیاست کی ہے ۔آج بھی مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے۔کوٹہ سسٹم اور جعلی ڈومیسائل کے ذریعے مہاجروں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔گذشتہ چند برسوں میں تین لاکھ ملازمتیں دی گئیں لیکن مہاجروں کو محروم رکھا گیا۔1992ءکے ریاستی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی،لیکن اس کے باوجود حق پرستی کا پرچم بلند رکھا۔ایم کیو ایم پاکستان کی کاوشوں سے بہت جلدحیدرآباد میں یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔تقریب سے رکن رابطہ کمیٹی و صدر گریجوئیٹ فورم عبدالقادر خانزادہ اور رکن رابطہ کمیٹی ڈاکٹرظفر کمالی نے بھی خطاب کیا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.