سبی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرسردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ

0 9

سبی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرسردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان کے حقوق کی ترجمانی کرتے ہوئے بلوچستان کے مسئلہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں سرگرم ہے جس طرح اسلام آباد پنجاب کی ترقی ممکن ہوئی بلوچستان میں وہ کام نہیں کیا گیا سعد رفیق ہو یا شیخ رشید دونوں کی مال گاڑیان بلوچستان میں چلتی نظر نہیں آتی بی این پی نے سیاسی خودکشی نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاست کو زندہ رکھا اپوزیش متحد ہوئی تو حکومت کو ٹف ٹائم ملے گا 313افراد بازیات ضرور ہوئے مگر 431افراد لاپتہ بھی ضرور ہوئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرکٹ ہاؤس سبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈرنصیر احمد شاہوانی ، ایم پی اے احمد نواز بلوچستان ۔ رکن صوبائی اسمبلی اختر لانگو ، سابقہ رکن صوبائی اسمبلی میر عبدالروف مینگل ، نواب امان احمد زرک زئی ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر ضلعی صدر وسینٹرل کمیٹی کے ممبر واجہ یعقوب بلوچ ، جنرل سیکرٹری ملک سلطان دہپال ، یار علی گشکوری ، خوشدل خان م، غلام رسولل دھرپالی موجودتھے ، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستا ن نیشنل پارٹی کے صوبائی ضلعی عہدیداروں کا مشکور ہوں جنہوں نے شایاں شان استقبال کیا انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو سپورٹ کیا صدر وزیر اعظم اسپیکرز کے انتخابات میں ووٹ دیا بی این پی نے وزیر اعظم کے انتخاب پر چھ نکات اور صدر پاکستان پر انتخاب پر نو نکاتی مطالبہ کیا تھاایک سال میں چا ر ماہ رہ گئے ہیں حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ ہمارے مطالبات پورے کرے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا اس پر مکمل عمل کررہے ہیں بلوچستان70 سال سے محروموں کا شکار ہے 70سال سے ناا نصافی ہورہی ہیں 70سال سے بلوچستان مسئلہ مسائل کا شکار ہے چند سالوں میں اس کا حل ممکن نہیں مگر ان کو حل کرنے کے لئے راستے بن سکتے ہیں جولوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے سیاسی خودکش کی وہ غلطی پر تھے ہم نے سیاسی خودکشی نہیں بلکہ بلوچستان میں سیاست کو زندہ کیا سیاست ایک دن کا کھیل نہیں سیاسی اور سیاسی پارٹیوں کو بننے میں صدیاں لگ جاتے ہیں اور جس کو بننے میںصدیاں لگتی ہوں اور اس کے مقابلے میں چند گھٹنوں میں بننے والی چیز مرغنی کے پولٹری فارم کی طرح ہوتی ہیں جس سے نکالی جانے والی مرغنی راستے ہی میں دم توڑ دیتی ہیں اور چند گھنٹوں میں بننے والی پارٹی کا حل بھی یہ ہی ہوگا ہم 40سالوں سے پارٹی چلا رہے ہیںجس محنت اور لوگوں کے تعاوں سے چند سیٹ حاصل کرسکے مگر بارش کے بعد جس طرح کمبی نکلتی ہیں اسی طرح چند گھنٹون میں بننے والی پارٹی کو کئی سیٹ ملی اور اقتدار بھی مل گیا ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ گرانے کے لئے جمع ہورہے ہئں اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ کس کوپر گرے گے اگر بلوچستان پر گرتے ہیں تو ہم ان کا ساتھ کیوں دیں اور ٹف ٹائم ظاہر ہے اپوزیشن میں پارٹی سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بھی حکومت کر بنانے اور گرنے کے ماہر ہیں اگر اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو حکومت کو ٹف ٹائم ملے گا انہوں نے کہا کہ موجود ہ حکومت ہو یا سابق حکومت اس میں کوئی شک نہیں کہ ہیم نے اس حکومت کو سپورٹ کیا اور اتحادی ہے حقیقت میں بلوچستان کسی کی بھی ترجیحات میں شامل نہیں کیونکہ ان کے اقتدار کا راستے بلوچستان سے نہیں جاتا موجودہ اور سابق حکمرانوں کا راستے بلوچستان سے نہیں گزتا سعد رفیق ہویا شیخ رشید کی مال گاڑی وہ بلوچستان میں چلتی نظر نہیں آتی عاضی طور پر لوگوںکو خوش کرنے کے لئے وعدے اعلانات ضرور ہوتے ہیں مگر ان کو بلوچستان کا در نہیں میاں صاحب کے دور حکومت میں سبی اسٹیشن بنایا گیا پنجاب میں جو کچھ بنا اس کے مقابلے میں بلوچستان میں کچھ نہین بن سکا مگر بلوچستان سے جو کچھ لوٹا گیا اس سے اسلام آباد میں بہت کچھ بن گیا انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ آج سے نہیں بلکہ 2008سے پرویز مشروف کے دور سے شروع ہوا اس کی بنیاد رکھی گئی اس کے بعد جب بلوچستان میں حکومت آئی تو دن بدن اس میں اضافہ ہوا آج 313افراد منظر عام پر آئے مگر 431افراد لاپتہ ہوئے جن کے لئے ہم نے اسمبلیوں میں آواز بلند کی حکومت کا اس میں کوئی اختیار نہیں بلکہ بااختیار وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو اٹھاتے ہیں مرکزی اور صوبائی حکومت کی ذمے داری بنتی ہیں کہ وان سے پوچھیں جبکہ عدلیہ چھوٹے مسئلہ پر سوموٹو نوٹس لیتی ہیں مگر اس مسئلہ پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا انہوں نے کہا کہ بی این پی کا 8نکاتی مطالبہ صرف گوادر کے لئے نہیں بلکہ بلوچستان بھر کے لئے ہے سی پیک میں جو تبدیلی آئے گی اس میں بلوچستان اور بلوچستان کی عوام کے لئے مسئلہ پیدا ہونگے افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی حل طلب ہیں گوادر میں ماہی گیر اور پینے کا صاف پانی کا مسئلے کو حل کرنے کے لئے وزیر اعظم سے بات کی تھی پاکستان کے دیگر شہروں میں عوام کو ریلیف دیا گیا وہاں گوادر سمیت بلوچستان کی عوام کو بھی ریلیف دیا جائے جو لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نے سودے بازی کی سودے کے بدلے ہم نے ماؤں کے بیٹے بہنوں کے بھائی بازیاب کیے جو لوگ سودے بازی کا نام کرکے ہمیں بدنام کرتے ہیں انہوں نے بلوچستان کے لوگوں کو دھوکا دیا اور بلوچستان سے حاصل ہونے والے ووٹ کو اسلام آباد میں نیلام کیا اور وزارت کے ٹھیکے لیے بیکریوں سے ان کے اربوں روپے برآمد ہوئے اب لوگوں کی ذمے داری ہے کہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمارا سودے بازی بہتر تھی یا یہ سودے بازی بہتر ہیں جس کے بدلے مراعات لی گئی سی پیک کے نام پر 65بلین روپے گوادر کے نام سے لیے گئے مگر ایک روپے بھی گوادر پر خرچ نہ ہوسکا بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ اگرسیاسی پارٹیوں کے ورکرز میں نظریاتی اور سمجھ بوجھ نہیں ہوئی تو وہ صرف چرواہے کی لاٹھی سے ہانگ کر اکٹھا کیا جائے تو یہ ہی حال ہوگا حکومت کو چلانے کی صلاحیت ان میں ہوتی ہے جو بلوچستان کی سیاست کو جانتے ہیں لوگوں کی تکلیف کو سمجھتے ہیں بلوچستان کے حالات کا علم ہو مگر ان لوگوں کومعلوم نہیں ہے کہ بلوچستان کے کتنے اضلاع ہیں ہے کیا حالات ہیں لوگوں کے مسائلکیا ہے تو ان لوگوں کو جب لایا جائے گا تو یہ دن ہمیں اور آپ کو دیکھنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ وزراء کی فوج سے حکومت نہیں چلائی جاتی اسمبلی میں بولنے سے حکومت نہیں چلتی حکومت سے اگر کچھ چیزیں نکال لی جائے جیسے انتظامی امور لا اینڈ آرڈز ترقیات تو حکومت میں رہ کیا جاتا ہے تعلیم صحت سٹرکوں اور لاایںڈ آرڈز کی صورت حال اور خوب صورت نورانی چہرے حکومت کی ترجمانی نہیں کرسکتے انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان کی واحد سیاسی پارٹی ہے جس نے بلوچستان کے ساحل وسائل حق وحقوق کے حصول کے لئے بلا خوف وخطر جدوجہد کو اپنا مقصد سمجھا ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.