ٹرمپ کی مسلم دشمنی کا پردہ فاش، امریکی’’ڈیل آف دی سنچری‘‘میں خودمختار فلسطینی ریاست شامل نہیں، رپورٹ

0 151

واشنگٹن امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے صدی کا معاہدہ سے تعبیر کیے گئے امریکی معاہدے میں ایک خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام شامل نہیں ہوگا۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کے امن سے متعلق معاہدے کے مرکزی عناصر سے واقف ذرائع نے بتایا کہ معاہدے میں فلسطینیوں کی زندگی میں عملی بہتری لانے کی تجاویز شامل ہیں لیکن اس میں محفوظ فلسطینی ریاست کا قیام شامل نہیں۔رواں برس کے آخر میں وائٹ ہائوس کی جانب سے طویل انتطار کے بعد یہ امن معاہدہ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس کی صدارت امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں ۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حکام اس منصوبے کو خفیہ رکھ رہے ہیں، جیرڈ کشنر اور دیگر حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امن کی ابتدائی کوششوں کے آغاز کے تحت اس میں ریاست کے قیام کا عنصر شامل نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے میں اسرائیل کے سیکیورٹی خدشات پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔یہ امن معاہدہ خصوصا غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر انفراسٹر کچر اور صنعتی تعمیرات کی تجاویز پر مبنی ہے۔اس منصوبے کو کامیاب کرنے یا اس کے آغاز کے اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کا تعاون بھی ضروری ہوگا۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جیرڈ کشنر کے معاہدے سے واقف عرب حکام کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی خاص پیش کش نہیں کی گئی بلکہ اس منصوبے میں فلسطینی شہریوں کیلیے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں گے اور متنازع علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کیا جائے گا۔جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی حکام نے امن اور اقتصادی ترقی کو عرب میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اور حاکمیت کے بجائے فلسطین کی خودمختاری سے متعلق ورژن کی قبولیت سے جوڑا ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ وہ مغربی کنارے میں قائم یہودی آبادکاروں کو اسرائیل میں ضم کردیں گے۔نیتن یاہو کے اس بیان نے سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کے اس خیال کو تقویت پہنچائی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ فلسطین کی مقبوضہ زمین پر اسرائیل کے تسلط کو وسیع کرے گی۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہائوس کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ہم مانتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے جو شفاف، حقیقی اور عمل درآمد کے قابل ہے جس سے لوگ بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی کی کوششوں کو دیکھا اور دونوں فریق اور خطے کے شراکت کے نظریات سے اخذ کیا کہ ماضی میں کئی گئی کوششوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا لہذا ہم نے ایک غیرروایتی طریقہ اختیار کیا ہے جس کی بنیاد حقیقت سے چھپا کر نہیں بلکہ سچ بول کر رکھی گئی ہے۔سعودی ولی عہد کے جیرڈ کشنر سے قریبی تعلقات ہیں اور وہ اپنے والد شاہ سلمان کے مقابلے میں امریکی امن منصوبے کے زیادہ حامی ہیں۔اجلاس سے واقف شخصیت نے بتایا کہ جیرڈ کشنر نے تنقید اور اس حوالے سے سوالات سنے لیکن وہ تنقید سے متعلق سوچنا نہیں چاہ رہے تھے اور اپنا دفاع کررہے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ وہ یہ جان کر حیران دکھائی دیے جب انہیں علم ہوا کہ وہاں موجود اکثر افراد ان کے منصوبے پر تتنقید کر رہے تھے اور اس بات پر زور دے رہے تھے کہ شاہ سلمان فلسطینی شہریوں کے حقوق پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی کانگریس ایک ایسے معاہدے کی حمایت کرے گی یا نہیں جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ شامل نہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.