ہردلعزیز شخصیت محسن قائد بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسر ویلفئیر الیکشن کے امیدوار عبدالمالک کاکڑ اور اسکی کابینہ کی دو سالا شاندار کارکردگی

1 118

. نصیرآباد(محمد سلیم رند)بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے الیکشن کا آخری معرکہ 21 اکتوبر2021 کو ہوگا۔ سروے کے مطابق سابقہ صد ر عبد المالک کاکڑ کی جیت یقینی ہے سول سیکرٹریٹ میں آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے 1150 ووٹ ہیں جو سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے کابینہ کے امیدواروں کے پینل سسٹم کے تحت انتخاب کرے گی۔ تجزیہ کے مطابق پروگریسیو پینل جس کی سرکردگی عبدالمالک کاکڑ کر رہے ہیں ایک کے نڈر، بے خوف اور بے باک لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں اور ان کے نام کا طاقتور حلقوں میں ایک خوف کی علامت ہے۔ جب کہ دوسرے طرف سیکرٹریٹ آفیسرز پینل کی سرکردگی سیکرٹری محمد اسحاق جمالی کر رہے ہیں جو کہ اچھی ساکھ کے حامل آفیسرز ہیں تاہم ووٹرز میں ان کے بارے میں یہ گمان ہےکہ وہ اپنے ذمہ داریوں کی وجہ سے ایسوسی ایشن کے عہدہ کو وقت نہیں دے پائیں گے۔ ووٹرز کے درمیان یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ محمد اسحاق جمالی کی قیادت میں آفیسرز ویلفئر کو صرف ڈائریکٹ آفیسران کی حمایت حاصل ہے اور انہی کی مفادات کا تحفظ کیا جائےگا۔ جبکہ دوسری طرف عبد المالک کاکڑ کے پروگریسیو پینل کو عوامی سطح پر تمام گروپس کی حمایت حاصل ہے۔ لہٰزا یہ الیکشن ڈائریکٹ آفیسران بمقابلہ پروموٹیز ہوگا۔ سروے کے مطابق اکثریت ووٹرز نے عبد المالک کاکڑ کو ووٹ دینے کا عندیہ ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کی جیت یقینی ہے اور اس بات کا حتمی فیصلہ 21 اکتوبر 2021 کے الیکشن میں ہوگا بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفئیر ایسوسی ایشن گریڈ 16 تا 21 کے تمام افسروں کا نمائندہ تنظیم ہے. اس تنظیم کی بنیاد تو کافی سالوں پہلے ڈالی گئی تھی مگر یہ ایسوسی ایشن کبھی بھی ایک منظم, متحرک, فعال اور کوئی بھی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں رہی لیکن دو سال قبل جب اس ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہونے کے بعد عبدالمالک کاکڑ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے اس ایسوسی ایشن میں جان پھونک دی. اس کا واضح ثبوت رواں سال صوبائی ملازمین کی جانب سے شروع کی گئی احتجاج سے ہوتا ہے جس کو منظم کرنے میں سیکرٹریٹ ویلفیئر ایسوسی کی قیادت نے اہم کردار ادا کیا. یہ تحریک نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں حکومت, عوام اور میڈیا کے توجہ کا مرکز بنا رہا. اس تحریک کے باعث صوبے بھر میں نظام حکومت ٹھپ ہوکر رہ گئی جس کی وجہ سے صوبے کے ملازمین نے اپنی بے پناہ جمہوری طاقت کا مظاہرہ کیا اور حکمرانوں کے ایوانوں میں لرزہ طاری کردیا. اس تحریک کو مختلف اوچھے ہتھکنڈوں کے زریعے زائل کرنیکی ہر ممکن کوشیش کی گئی مگر ہر حربہ ناکام ہوا. بہت سارے لوگوں نے اس تحریک کو مالک کاکڑ اور اس کے کابینہ کی ناکامی قرار دینے کی سعی کی مگر اس تحریک نے جہاں ملازمین اور بلخصوص سیکرٹریٹ کے ملازمین کی دو تنظیموں کو ایک مضبوط طاقت بناکر ابھارا تو وہاں ملازمین کو گزشتہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ بھی ملا. یہ بات اگر یہاں کی جاے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس تحریک نے بلوچستان کے اجتماعی شعور پر گہرے اثرات چھوڑے جس سے ہر مکتبہ فکر متاثر ہوکر سیاسی و جمہوری حقوق کے لے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا. یہاں تک کہ پارلیمان میں موجود تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن بھی ملازمین کے اس تحریک سے متاثر ہوکر احتجاج, دھرنا اور گرفتاریاں دیئے. عبدالمالک کاکڑ ایک نوجوان مگر انتہائی دانشمند, معاملہ فہم, ملنسار, زیرک, نفیس, جراتمند, ایماندار, شاندار قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں. انہوں نے سول سیکرٹریٹ سمیت صوبے کے تمام محنت کشوں کے لے ایک لازوال جدوجہد کرکے تاریخ میں ہمیشہ کے لے امر ہوگیا اور دہائیوں سے صوبے میں قائم متروک سول سروس کے نظام کو بدلنے کی کوشش کی اور اس کے لے سیکرٹریٹ میں دھرنا دیا جس کے دباو میں آکر حکومت نے سول سروس اصلاحات کے لے حکومتی وزراء و تین اہم کیڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے متعدد اجلاسوں کے بعد صوبائی کابینہ میں اپنے سفارشات جمع کیے جو منظور بھی ہوے. بلوچستان کی جدید تاریخ میں پہلے سول سروس اصلاحات پر حکومت کو مجبور کرنے کا سہرا عبدالمالک اور اس کے کابینہ کو جاتا ہے. یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے جس کا اندازہ صوبائی سول سروس پر مسلط ایک کیڈر میں سراسیمگی پھیلنے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے. سول سروس اصلاحات کا عمل ابھی شروع ہوا ہے جس سے آنے والے وقتوں میں مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے اور یوں دہائیوں سے صوبائی سول سروس کی فیلڈ پوسٹنگز, پروموشن و دیگر فیصلہ سازی کے معاملات پر بی سی ایس کا اجارہ داری ہمیشہ کے لے ختم ہوجاے گی اور بی ایس ایس کیڈر پاکستان ایڈمینسریٹو سروس اور بی سی ایس کے برابر آجائے گا جس کے سیکرٹریٹ ملازمین کی مستقبل اور صوبے میں اچھی طرز حکمرانی پر دوراس اثرات مرتب ہونگے. درجہ بالا کامیابیوں کے علاوہ عبدالمالک کاکڑ کی قیادت نے بلوچستان سیکرٹریٹ ملازمین کے لے متعدد مالی و دیگر مراعات حاصل کرنے میں شاندار کامیابی حاصل کی جن میں چند نمایاں کامیابیاں ایگزیٹیو الاونس, بی ایف پالیسی کی منظوری, بجٹ میں ملازمین کے تنخواہوں میں 10 اور 15 فیصد اضافہ, کہیں عرصے سے سیکرٹریٹ ملازمین کے رکے ہوے پروموشن کیسز پر کاروائی کرنا اور مختلف کیڈر کے ملازمین کی پوسٹوں کو اپ گریڈ کروانے کے لے حکومت کو راضی کرنا اور سیکرٹریٹ ملازمین کو ہر قسم کی تحفظ فراہم کرنا شامل ہیں . علاوازیں مالک کاکڑ کو اور بھی بہت سارے کاموں کا کریڈٹ جاتا ہے جن سب کا زکر ایک مضمون میں کرنا ممکن نہیں. موجودہ انتخابی دنگل میں ایک ناقص دلیل یہ دیا جارہا ہے کہ صدر ایک ایسے بندے کو ہونا چاہئے جو چیف سیکرٹری اور وزیراعلی سے آسانی کے ساتھ رسائی رکھتا ہو مگر کسی ایسوسی ایشن میں بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ عام کارکن کے لے ان کے ایسوسی ایشن کا قیادت کتنی آسانی سے دستیاب ہوتا ہے. یہ بات بے معنی ہے کہ ایسوسی ایشن کا صدر حکومت کے دو اعلٰی عہدے داروں تک رسائی رکھتا ہو کیونکہ حکومتی سیاسی قیادت یعنی وزیراعلیٰ کے سامنے اہمیت ایک تنظیم کی ہوتی ہے فرد کی نہیں اور اس تنظیم کا قیادت چاہے جو بھی ہو حکومتی عہدے دار ان کو ایک تنظیم کی حیثت سے لیتے ہیں نہ کہ فرد کے طور پر اور ایک ایسوسی ایشن حکومت کے لے اس وقت اور زیادہ توجہ کا باعث ہوتا ہے جب ایسوسی ایشن کی قیادت مضبوط اور جراتمند جدوجہد پے یقین رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں ہو

You might also like
1 Comment
  1. […] ڈیسک) تنزانیہ کی ایک تنظیم ’اوپوپو‘ (APOPO) پچھلے چند سال سے بڑی جسامت والے مقامی چوہوں کی مدد سے بارودی سرنگیں […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.