جو تنظیمیں یہ دعوی کر رہی ہیں انہیں چاہیے کہ پہلے اپنے دعوے کو ثابت کریں،شاہد رند

0 183

بلوچستان کی بلوچ تنظیموں ایچ آر سی پی بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ جو تنظیمیں یہ دعوی کر رہی ہیں انہیں چاہیے کہ پہلے اپنے دعوے کو ثابت کریںایچ آر سی پی صوبے میں ماورائے عدالت لوگوں کی گرفتاریوں کی صورتِ حال انہتائی تشویش ناک صورتِ حال اختیار کرچکی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنزبلوچستان میں لاپتا افراد کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے بی وائی سی بلوچستان کے مختلف علاقوں ایک ماہ کے دوران 200 سے زائد طلبہ اور عام لوگوں کو جبری طور پر لاپتا کیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے: وائس آف امریکہ: سے بات چیت کرتے ہوئے کہی حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ جو تنظیمیں یہ دعوی کر رہی ہیں انہیں چاہیے کہ پہلے اپنے دعوے کو ثابت کریں اگر کوئی شخص لاپتا ہوا بھی ہے تو اس سلسلے میں ایک کمیشن کام کر رہا ہے اور ہر ماہ اس کمیشن کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں لاپتا افراد کے کیسز کا اندراج ہوتا ہے اگر تنظیم کے پاس اس دعوے کے شواہد ہیں تو وہ لاپتا افراد کمیشن کو پیش کریں تاکہ ان افراد کو تلاش کرنے کے لیے کوششیں عمل میں لائی جائیںحکومت کے مطابق لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن میں 10 ہزار افراد کے لواحقین نے درخواستیں دے رکھی تھی جن میں سے آٹھ ہزار افراد کے کیسز حل ہو چکے ہیںایچ آر سی پی کے کونسل ممبر حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان طویل عرصے سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسائل کو مانیٹر کرتا آ رہا ہے صوبے میں ماورائے عدالت لوگوں کی گرفتاریوں کی صورتِ حال انہتائی تشویش ناک صورتِ حال اختیار کرچکی ہے، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لاپتا افراد کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں سے چار ہزار افراد کے کیسز مختلف کمشنز کو فراہم کیے گئے ہیں انہوں نے شکوہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بلوچستان کے اس مسئلے پر زیادہ آواز بلند نہیں کر رہیںہم عالمی اداروں، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے کئی برسوں سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مسئلے کو اجاگر کیا جا سکے بلوچ یکجہتی کمیٹی(بی وائی سی) کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول کراچی سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران 200 سے زائد طلبہ اور عام لوگوں کو جبری طور پر لاپتا کیا گیا ہے گزشتہ ایک ماہ کے دوران جبری گمشدگیوں کے علاوہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے گوادر اور آواران میں تین افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے صوبے میں پہلے وقتا فوقتا آپریشنز جاری ہے اب صرف اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.