بلوچستان کا 584 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ

0 429

کوئٹہ(ویب ڈیسک)بلوچستان کے آئندہ مالی سال 2021-22ءکا 5کھرب 84ارب روپے کاٹیکس فری بجٹ پیش کردیا گیا ،آمدنی 499ارب،بجٹ خسارہ84.7ارب روپے ظاہر کیاگیاہے،ترقیاتی بجٹ کی مد میں 189.196ارب روپے ،غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 346.861ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصدجبکہ گریڈ1سے گریڈ19تک بنیادی تنخواہوں سے کم مجموعی الاﺅنسز والے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 15فیصد ڈسپرٹی ریڈکشن الاﺅنس کااضافہ کیاگیاہے ،روزگار کے مواقعوں کی فراہمی کیلئے مختلف محکموں میں5854سے زائد نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ،بجٹ میں 1525جاری ترقیاتی اسکیمات کےلئے112.545بلین روپے،2286نئی ترقیاتی اسکیمات کےلئے 76.651بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔جمعہ کے روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو صوبائی وزیر خزانہ نے آئندہ مالی سال برائے 2021-22ءکا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ میں اپنی بجٹ تقریر کا آغاز رب کائنات کے بابرکت نام سے کرتا ہوں جو تمام جہانوں کا مالک ہے، بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کا تیسرا سالانہ بجٹ 2021-22 اس مقدس ایوان کے سامنے پیش کرنا میرے لئے اعزاز اور مسرت کا باعث ہے ۔اللہ تعالی نے صوبہ بلوچستان کی سر زمین کو بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے، جس کی اہمیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے، ہماری آبادی کم اور وسائل بے شمار ہیں، آبادی اور وسائل کا یہ تناسب کسی بھی علاقے کی ترقی کے لئے خوش قسمتی کی علامت ہے۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال کی مدبرانہ اور متحرک قیادت میں ہم صوبے بھر میں ترقی اور خوشحالی کی مثبت سمت میں گامزن ہیں۔ معاشی اور سماجی اہداف کے حصول اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے ہمہ جہت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اگرچہ کورونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک کی مجموعی معاشی ترقی کو دھچکا لگا ہے لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم اور صوبائی حکومت کی بہترحکمت عملی سے ہم نے اس مشکل صورتحال کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے اور تمام شعبوں میں بہتری کی جانب گامزن ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگلے مالی سال2021-22 کا بجٹ رواں مالی سال کے بجٹ کا تسلسل ہے اور ان دونوں سالوں کے بجٹ پر کورونا وائرس جو کہ ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے ، جس پر قابو پانے کے لئے مطلوبہ وسائل مہیا کئے بلکہ صوبے کے مجموعی صحت کے نظام پر خطیر رقم خرچ کی گئی ہے،بظاہر اس وبا کا خطرہ ٹلا نہیں لیکن اس سلسلے میں ہم نے ضروری اقدامات اٹھارکھے ہیں اور اگلے مالی سال 2021-22کے لئے اس مد میں 3.637بلین روپے مختص کئے گئے ہیں،جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے 2.937بلین روپے کی گرانٹ بھی شامل ہے۔اس مختص شدہ فنڈ سے صوبے میں 5نئی جدید لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی۔موجودہ حکومت گزشتہ تین سال کے دوران آئندہ آنے والی نسلوں کی فلاح و بہبود، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی سمیت عوامی ترجیحات کے سنہرے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی، قانون سازی اور فیصلہ سازی کو عوام کی خواہشات اور ضروریات کے عین مطابق ترتیب دیتی رہی ہے اور تین سال کے دوران پیش کئے جانے والے تمام بجٹ بشمول اس بجٹ کے صوبے بھر کے تمام اضلاع میں بغیر کسی تفریق کے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔صوبے میں گڈ گورننس اور انتظامی معاملات میں مزید اصلاحات سمیت محصولات اور آمدن میں اضافے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔مالی مشکلات کے باوجود صوبائی حکومت نے آنے والے مالی سال کے لئے ایک متوازن بجٹ بنایا ہے اور تمام شعبہ جات کے لئے ان کی ضروریات کے مطابق فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔بجٹ 2021-22میں صوبے کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں یکساں بنیادوں پر بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری، ہنگامی صورتحال میں پیشگی اقدامات اٹھانے اور جدت پر مبنی اصلاحات متعارف کروانے ، سوشل سیکٹرکو مربوط بنانے، صوبے کے اپنے پیداواری شعبوں سے مزید بہرہ مند ہونے ، سماجی تحفظ کے لئے اقدامات کو وسعت دینے سمیت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اورامن و امان کی مکمل بحالی شامل ہے ۔غرض یہ کہ معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ نہیں کہ جس کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے ہوں۔ ان اقدامات میں سرکاری ملازمین، خواتین، پنشنرز، نوجوان، ماہی گیر، مزدور سمیت ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ آ ئندہ مالی سال22 -2021کا بجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ موجودہ مالی سال 2020-21 کا نظرثانی شدہ بجٹ معززایوان کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بعد میں معزز ایوان کو موجودہ صوبائی حکومت کے نئے مالی سال 2021-22کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرونگا۔جاری مالی سال کے کل بجٹ کا ابتدائی تخمینہ465.528بلین روپے تھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2020-21کا تخمینہ 387.016بلین روپے ہوگیا ہے۔مالی سال 2020-21کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ309.032بلین روپے تھاجو نظر ثانی شدہ تخمینہ میں کم ہو کر 282.371بلین روپے رہ گیا ہے۔مالی سال 2020-21 کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ118.256 بلین روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینہ میں کم ہو کر80.499 بلین روپے ہو گیا ہے۔جس میں 968جاری ترقیاتی اسکیمات کے لئے 48.992بلین روپے جبکہ 1774نئی ترقیاتی اسکیمات کے لئے 31.507بلین روپے جاری کئے گئے ہیں۔مالی سال 2021-22کے بجٹ کے بنیادی خدوخال کے مطابق آئندہ مالی سال2021-22 کے غیر ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 346.861 بلین روپے ہے۔ جبکہ ترقیاتی بجٹ (PSDP) کا کل حجم189.196بلین روپے بشمول 16.661 بلین روپے FPA شامل ہیں ۔ڈویلپمنٹ گرانٹس (Federal Funded Projects)کی مد میں48.025بلین روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہیں۔جاری ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد 1525جس کے لئے112.545بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔نئی ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد2286جس کے لئے 76.651بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔مالی سال 2021-22بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مختلف محکموں میں5854سے زائد نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔موجودہ حکومت نے صوبے میں مالی ضابطگی کی بہتری کے لئے مالی سال 2020-21 کے فنانس بل کے ذریعے آئینی ضروریات کے عین مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکل 119 کے تحت بلوچستان پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ متعارف کروا کر دوسرے صوبوں سے سبقت حاصل کی جو کہ کسی اعزاز سے کم نہیں۔ اس اہم قانون سازی سے مالی عمل اور بجٹ سازی کو صحیح سمت ملی ہے، واضح رہے اس ایکٹ سے عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے، مالی نظم و ضبط بہتر انداز میں ممکن ہو سکا ہے جہاں شفافیت اور جدید اصلاحات کے تمام رہنما اصول اپنائے جا رہے ہیں۔ اس تاریخی قانون سازی سے صوبے میں جامع حکمت عملی کے تحت پبلک سروس ڈیلیوری اور غیر ترقیاتی بجٹ سمیت ترقیاتی منصوبوں میں بہتر طرز عمل، موثرجواب دہی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی بہتری دیکھنے میں آئی ہے جسکی نظیر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔پی ایف ایم ایکٹ بجٹ سازی کے عمل میں رہنما اصول کے ضوابط مہیا کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ہماری حکومت کو مالی مسائل کا سامنا شروع دن سے رہا ہے مگر نامساعد حالات کے باوجود حکومتی اور اپوزیشن کے حلقوں کو یکساں بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں میں وسائل کی تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے۔ صوبے کی بڑھتی آبادی کو سرکاری ملازمتوں اور دیگر روزگارو وسائل کی فراہمی میں حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے میں پرائیویٹ اور پبلک پرائیویٹ اشتراک کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ بے روزگاری کے عفریت کو کنڑول میں رکھا جا سکے ، اس مد میں حکومت بلوچستان کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ دوسری صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ان صوبوں کے کامیاب تجربات سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ ہماری حکومت نے صوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سرمایہ کاری کے فروغ کے لئےViability Gap Fund اور Project Development Fund کے تحت خطیر رقم رکھی ہے جبکہ اس میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ 2020 سے دنیا کو کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہماری حکومت صحت کے شعبے اوروبائی یا ہنگامی صورتحال میں پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے بلوچستان کمانڈ و آپریشن سینٹر (BCOC)کا قیام عمل میں لاچکی ہے جو کہ بہترین ربط کاری اور پیشگی اقدامات اٹھانے سمیت دیگر اہم امور میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈویژنل سطح پر کمشنرز کی زیر نگرانی ڈویژنل کمانڈ و کنٹرول سینٹرز (DCOC) ایمرجنسی صورتحال میں ریلیف آپریشنز کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت معزز ایوان کے توسط سے کورونا وائرس کی وبائی صورتحال میں جن محکموں اور اداروں بالخصوص شعبہ صحت سے منسلک ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت قانون نافذکرنے والے اداروں اور سرکاری ملازمین نے ایمرجنسی سروسز فراہم کی ہیں ان سب کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔کورونا وائرس سے بچاﺅکے لئے حفاظتی ٹیکہ جات کا پروگرام شروع ہو چکا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ وفاقی حکومت (NCOC)کے تعاون سے تمام آبادی کو اس جان لیوا مرض سے بچاﺅ کی ویکسین لگائی جائے گی تاکہ ہم اس وبائی مرض سے بچ سکیں اور اپنی اور آئندہ آنے والی نسلوں کو محفوظ بنا سکیں۔ صوبے میں شاہراہوں پر حادثات سے اموات کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ ہماری حکومت عوامی خواہشات کے تناظر میں 3.921 بلین روپے کی خطیر رقم سے اہم شاہراہوں پر ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کا قیام عمل میں لارہی ہے اور اس مد میں اب تک 787 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں اور اگلے مالی سال 2021-22میں اس کے لئے 717.640ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 5.914 بلین روپے کی لاگت سے بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کا اجرا کرنے جا رہی ہے جس کے تحت تقریبا 18لاکھ 75ہزار خاندانوں کے تمام افراد کو10 لاکھ مالیت تک مفت علاج میسر ہوگااور غریب و نادار خاندانوں کو بہترین طبی سہولیات بالکل مفت میسرآسکیں گی اور وہ مہنگے سے مہنگا علاج پینل پر موجود ہسپتالوں سے کرا سکیں گے۔ہماری حکومت نے محکمہ صحت میں جدید اصلاحات لانے کے لئے اسکو دو محکموں میں تقسیم کر دیا ہے جس میں ایک محکمہ پرائمری وسیکنڈری ہیلتھ کیئر جبکہ دوسرا اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اورمیڈیکل ایجوکیشن شامل ہے۔ جس کا بنیادی مقصد صحت کے شعبے میں مجموعی طور پر بہتری لانا ہے۔مالی سال 2021-22میں بولان میڈیکل کالج میں دو نئے ہاسٹلز کی تعمیر کے لئے 200 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔چلڈرن ہسپتال کوئٹہ کی توسیع کے لئے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں اور آنے والے مالی سال 2021-22 کے لئے 100 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔700ملین روپے کی لاگت سے صوبے کے 7 اضلاع کے ڈاکٹروں کے رہائشی مکانات کی تعمیر کے لئے مالی سال 2021-22 میں 100ملین روپے رکھے گئے ہیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.