بڑھتی مہنگائی کا ذمہ دار کون؟

0 11

نقطہ نظر
پاکستان کو قائم ہوئے78برس بیت چکے مگر قوم کو مہنگائی سے نجات نہ مل سکی مہنگائی نے ہر دور میں عوام کو بری طرح مفلوج کئے رکھا ہے مگر عمران خان کے دور میں جس طرح مہنگائی سونامی کی طرح آئی ہے اسکی مثال کسی دور میں نہیں ملتی مہناگائی پر قابو پانے مہنگائی کا خاتمہ کرنے کے دعویداروں نے اقتدار میں آتے ہی مہنگائی میں اس قدر اضافہ کردیا کہ اب مہنگائی کے ٹو پہاڑ سے نیچے اتر ہی نہیں رہی مہنگائی نے جہاں غریب اور متوسط طبقہ کو زیادہ متاثر کیا ہے وہاں پر صاحب حیثیت لوگ بھی تڑپ اٹھے ہیں گھی آئل چینی پٹرول ڈیزل آٹا گندم دالیں سبزیاں فروٹ سب کے سب مہنگے ہوچکے ہیں اس وقت ان اشیاء کی قیمتیں73سال میں پہلی بار بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں کہ ہر طبقہ پریشان دکھائی دے رہا ہے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ قوم صبر کرے مہنگائی ختم کرکے دم لیں گے عوام کو ریلیف بھی نہیں دیتے پھر یہی کہتے ہیں کہ قوم صبر کرے آخر کب تک قوم صبر کرتی رہے گی آپ نے دیکھا بجٹ میں واویلا کیا گیا کہ نئے ٹیکس اتنے نہیں لگائے گئے مگر ایک ہفتہ کے اندر منی بجٹ کی صورت میں ٹیکس سامنے آئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل دوسرے ماہ سے جاری وساری ہے اس وقت پٹرول ڈیزل کی قیمتیں موجودہ دور میں بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں جسکی وجہ سے ٹرانسپورٹ کرایہ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے یہی نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے گڈز ٹرانسپورٹ نے بھی کرائے مہنگے کردئیے جسکی بدولت اشیاء کی ترسیل مہنگی ملنے لگی ہیں گندم کے ریٹ زیادہ ہونے پر آٹا مہنگا ہوگیا صرف آٹا ہی نہیں بلکہ بیکری آئٹم بھی مہنگے مل رہے ہیں گھی آئل جو سابق دور میں150روپے کلو تک میسر تھا اب300روپے تک جا پہنچا ہے بلکہ اعلی برانڈ کا گھی آئل334روپے کلو دستیاب ہے چینی تو مسلسل سو روپے سے نیچے آئی ہی نہیںبلکہ110روپے کلو فروخت ہورہی ہے دودھ ،دہی کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں دالیں جو غریب آدمی کیلئے مرغی کا درجہ رکھتی تھیں اب اس قدر مہنگی ہوگئی ہیں کہ دال کی پلیٹ بھی50روپے سے کم نہیں ہے عید کے موقع پر جانور اس قدر مہنگے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقہ قربانی کیلئے جانور دیکھ تو سکتا ہے مگر خریدنے کی سکت نہیں رکھتا عمران خان کے دور میں ہر چیز پر مسلسل ٹیکس بڑھا دئیے گئے ہیں مہنگائی بڑھنے کی ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ پی ٹی آئی حکومت ہے جو عوام سے یہی وعدے کرکے آئی تھی کہ وہ انہیں مہنگائی سے نجات دلائیں گے عوام تو ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہی ہے مگر حکمران عوام کو ریلیف دینے میں قطعی ناکام ہوچکے ہیں عید الاضحی پر پٹرول ڈیزل یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا گھی چینی کی قیمتیں بڑھانے کا کیا جواز بنتا تھا کیا یہ فیصلے عید کے بعد تک موخر نہیں کئے جاسکتے تھے عوام سابق حکمرانوں کو کوستے تھے کہ وہ ان کا خاص خیال نہیں رکھتے مگر عوام کواب پتہ چلا کہ عمران خان دور میں بھی وہ لاوارث ہیں عمران خان جو سیاسی مسیحا کے روپ میں قوم کے ہیرو بن کر آئے تھے اب مہنگائی کی وجہ سے زیرو بنتے جارہے ہیں ظاہر ہے جو حکمران عوام کا خیال نہیں رکھیں گے تو عوام بھی انہیں دل سے نکال دیا کرتی ہے عمران خان نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں انہیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ روٹی جو 5روپے فروخت ہوتی ہے ان کے دور میں10روپے فی روٹی فروخت ہورہی ہے مرغی کا گوشت500روپے تک بھی انہی کے دور میں فروخت کیا جاتا رہا ہے اب بھی مرغی کا ریٹ انتہائی بلند ترین سطح پر ہے وزیراعظم عمران خان کو3سال اقتدار میں ہوگئے مگر افسوس وہ جو وعدے قوم سے کرکے آئے تھے وہ پورے نہیں کرسکے اب بھی موقع ہے کہ وہ بقیہ اقتدار کے2سال میں عوام کو ریلیف دیں اشیاء سستی کریں وگرنہ مہنگائی کے مارے لوگ انہیں آئندہ الیکشن میں اقتدار سے باہر کردیں گے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.