مظلوم فلسطینیوں کے قتل کی وجہ سے مزاحمتی تحریک میں اور شدت آئیگی،خوشحال کاکڑ
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور سیکریٹری جنرل خورشید کاکاجی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کے قتل کی وجہ سے مزاحمتی تحریک میں اور شدت آئیگی اور بین الاقوامی طاقتوں کی چپقلش میں اضافہ اور خطہ عدم استحکام کا شکار ہوگا اقوام متحدہ فوری جنگ بندی اور حملوں سے متاثرہ عوام کو طبی سہولیات اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی قومی حق خودارادیت اور اپنے مملکت کے قیام کی تحریک دہائیوں پر مشتمل ہے اور اس جدوجہد میں انہوں نے لازوال قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے لیکن عالمی سامراجی قوتوں نے اقوام متحدہ کے 1948 کی قرار داد کے برخلاف سازشوں اور بدنیتی کی وجہ سے فلسطینی عوام کو اب تک آزادی، ترقی اور خوشحالی سے محروم رکھا ہیں اور اب تو المیہ یہ ہے کہ انکے جائز اور برحق مطالبے اور جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کا تاثر دیکر انہیں تسلیم شدہ قومی حق خودارادیت جیسے بنیادی انسانی حق سے دستبردار کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو آزاد مملکت سے محروم کرنے اور انکی بربادی میں سامراجی قوتوں کے ساتھ اسلامی و عرب ممالک اور دنیا کے جمہوری اور آزادی پسند ممالک برابر کے شریک ہیں کیونکہ انہوں نے مغربی ملکوں کے دباو پر فلسطین کے آزادی کی تحریک کو سپورٹ کرنے کی بجائے فلسطینی عوام کی دہائیوں پر محیط جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش کرکے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت اور بمباری کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ اور معصوم فلسطینیوں خصوصا عورتوں اور بچوں کو شہید اور زخمی کرنے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دنیا کے انسانیت دوست قوتوں، بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اسرائیلی بربریت کے خلاف بھرپور اور موثر آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا جبکہ مصر کے ساتھ رفا بارڈر کھولنے، جنگ سے متاثرہ افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے اور جنگ زدہ علاقوں میں پانی، خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کے بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں روس، چین، اسلامی ملکوں کی تنظیم اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے 1947 کے قرارداد نمبر 181 پر عملدرآمد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے قومی حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اس کے علاوہ 1967 میں سیکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 242 پر اصل روح کے مطابق عمل درآمد جس میں اسرائیل سے مقبوضہ علاقے خالی کرنے, فلسطینی مہاجرین کی آباد کاری اور دیگر مسائل کے حل شامل ہیں تاکہ فلسطینی عوام کو دہائیوں سے درپیش مصائب و مشکلات سے نجات مل سکیں اور مڈل ایسٹ کے خطے میں تناو، آمن وامان کی بگڑتی صورتحال اور عوام میں بےچینی و خوف کا خاتمہ ہوسکے۔