غربت ختم کرنے کا عجب فارمولا

0 123

آج کچھ معمول سے ہٹ کے طنز و مزاح سے بھرپور مگر حقائق پر بات کی جائے گی۔ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی ورکرز تو اب امریکن سنڈی کی طرح غائب ہو گئے ہیں یا اگر ہم یوں کہے کہ ایسے غائب ہو گئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ تو یہ غلط نہ ہو گا جو اکّا دکّا سوشل میڈیا پر رہ گئے ہیں وہ بے چارے نفسیاتی مریض ہیں۔ اگر ان سے کوئی موجودہ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرے تو وہ سوشل میڈیا پے کھل کے اپنی ذہنی و اخلاقی پستی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں جنہیں عرف عام یا سیاسی زبان میں یوتھیا کہا جاتا ہے وہ پارٹی کو اس لئے نہیں چھوڑتے کیونکہ یہ اب ان کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ عمران خان نے ایک بار اپنی تقریر میں بارہ موسموں کا ذکر کیا تھا تو اس وقت انہیں سوشل میڈیا کے علاوہ سٹریم میڈیا پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور پاکستانی عوام کو بڑا تعجب ہوا تھا کہ خان صاحب نے یہ کیا بات کر دی مگر اب پاکستانی عوام معلوم ہوا کہ عمران خان نے سچ ہی کہا تھا کہ سال کے بارہ موسم ہیں عوام کے سمجھنے میں غلطی تھی میرے خیال کے مطابق پاکستان میں کسی بھی چیز کے موسم کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب کس چیز کا موسم بدل جائے۔ عمران خان نے جن بارہ موسموں کا ذکر اپنی ایک تقریر میں کیا تھا شاید وہ ان موسموں کا ذکر تھا جن کے بارے کبھی پاکستانی عوام نے سوچا بھی نہ تھا مثلا بہار کا موسم، خزاں کا موسم، سرما کا موسم، گرما کا موسم، مہنگائی کا موسم، نوٹس لینے کا موسم، غربت کا موسم، لاقانونیت کا موسم، معشیت کی تباہی کا موسم، وعدوں کا موسم، الزاموں کا موسم، گیس کی لوڈشیڈنگ کا موسم وغیرہ۔ اس وقت پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا موسم شروع ہو چکا ہے سردی میں جہاں عوام کو گیس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے وہیں پر حکومت نے عوام کو سخت سردی میں ذلیل کرنے کا سوچ لیا ہے سردی میں گیس کی لوڈشیڈنگ ہو گی۔ دسمبر میں آپ سردی کے موسم اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے موسم سے انجوائے کریں گے حکومتی وزیر حماد اظہر کہتے ہیں کہ ہم دن میں تین مرتبہ عوام کو میڈیسن کی طرح گیس فراہم کریں گے۔ ناشتے کے وقت، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے وقت، اب اس میں مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے کھانے کے اوقات اور دیگر معاملات زندگی ایک جیسے نہیں ہوتے دفتروں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں جانے والوں کے معاملات تو صبح، دوپہر، شام کے ہوتے ہیں مگر اس کے علاوہ کاروباری حضرات یا کوئی اور کام کرنے والے لوگوں کے معاملات تھوڑا آگے پیچھے ہوتے ہیں اب وہ لوگ انتظار کریں گے کہ گیس آئے گی تو وہ کھانا پکا کر کھائیں گے۔ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے پہلے یہی پاکستان ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن تھا نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ، نہ گیس کی لوڈشیڈنگ، پٹرول بھی سستا، آٹا، چینی، ادویات بازار سے سستے داموں ملتے تھے اور لوگوں کے گھر میں راشن وافر مقدار میں موجود ہوتا تھا لیکن آج حالت یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کی وجہ سے آٹا چینی کی قلت گھروں کے بعد بازاروں میں بھی ہو چکی ہے۔ اب لوگوں کو ذلیل و خوار ہو کے مہنگے داموں آٹا چینی خریدنا پڑتا ہے اوپر سے گیس کی لوڈشیڈنگ یہ بھی عمران خان کا فارمولا ہے نہ گیس ہو گی اور نہ لوگ کھانا پکائیں گے۔ عمران خان نے پاکستانی عوام سے چونکہ غربت کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا شاید اسی لئے اب غربت کو ختم کرنے کے لئے ایسے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ غریب عوام کو ترسا ترسا کے مارا جائے ان کو ملنے والی ہر ایک سہولت چھین لی جائے جب غریب عوام ختم ہو گی تو ہی یہ غربت خود بخود ہی ختم ہو جائے گی اور عمران خان کا غربت ختم کرنے کا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا۔ عمران خان بھی کبھی شاید یہ سوچتا ہو گا کہ پاکستانی عوام کو تبدیلی کی بڑی جلدی تھی اب لے لیں مزا تبدیلی کا، پاکستانی عوام اب موجودہ حکمرانوں سے اس قدر نالاں ہو چکی ہے کہ انہیں اپنے ردعمل کے اظہار کے لئے آئندہ انتخابات کا شدّت سے انتظار ہے کیونکہ جمہوریت میں دراصل شفاف انتخابات ہی احتساب کا دوسرا نام ہیں جس میں عوام ووٹ کی طاقت کے ذریعے اپنی راۓ کا اظہار کر کے حکمرانوں کو فتح یا شکست سے ہمکنار کرتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.