ناکام محبتوں کی اصلیت

0 492

تحریر شمس خیال

یہ سطریں اس وجہ سے لکھ رہا ہوں کیونکہ بدبختانہ ہر دوسرا نہیں بلکہ ہر نوجوان اس بیماری میں مبتلا، شاید ان جملوں سے ہی کچھ شفاِ حال ہوسکے۔ محبت غریبوں کا ایجاد کردہ ہے۔ پھر اس پر بلا لایعنی فلسفے گڑنے کی ناکام کوشش کرچکے ہیں۔ کوئی فطرت کا خاصہ قرار دیتا ہے تو کوئی شاعرانہ مزاج میں اسے چاند تارے بلکہ آسمان سے بھی پرے پہنچا دیتا ہے۔ سوچ پر کوئی لگام نہیں۔ جہاں کھینچو جائے گا۔ لیکن عبث کے خیالات حل نہیں، رک کر غور کرنا دانشمدی ہے۔

تمام باتیں درست ہیں کہ محبت فطرت کا خاصہ ہے، انسان کا وطیرہ ہے، انسانیت کا مادہ ہے، زندگی کی سانس ہے، روح کا سکون ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ یہ محبت نہیں ہے جو یہاں ایک مصنوعی شاپنگ کردہ میک اپ والے سے رچائی جاتی ہے۔ محبت الگ جذبہ ہے۔ یہ چار فٹ کے بدن کے ساتھ ملحق نہیں۔ محبت وسیع کائنات اور اس میں شامل موجودات سے جڑی ہے۔ یہ اتنا وسیع ہے کہ اسی سے خدا کی رحمت ہے۔ اسی کی دین سے کائنات کھڑی ہے۔ اسی سے ہوائیں ہیں۔ اسی سے جذبے ہیں۔ اسی سے رشتے ہیں۔ اسی سے تاریخ میں فطرت پر لبیک کہتے ہوئے خاندان جیسا شفاف اور اٹل بندھن بندھا ہے۔ اسی سے ماں کے قدموں میں جنت ہے۔ اسی سے باپ کی شفقت ہے۔ اسی سے دن ہے اور اسی سے رات۔

اسی محبت سے تاریخ میں محمد ص کی سرپرستی میں وقت کے سپر پاور گرے ہیں۔ اسی کی دین تھی کہ تاج برطانیہ جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، موہن داس کرم چند گاندھی نے ہندوستانیوں کو محترک کرکے تاج برطانیہ کا غرور توڑا۔ اسی سے باچاخان آج بھی قوم کےلیے زندہ ہے۔ اسی نے تاریخ رقم کی ہے۔ لیکن اسی کارڈ کو استعمال کرکے آج کل ناآسودہ انسانی ٹینشن کےلیے خواہ مخواہ ایک مرکزیت ڈھونڈھنے کےلیے نوجوان ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ جو دراصل ذہنی تشدد سے بھی آگے ذہنی دہشتگردی ہے۔ کوئی عدالت نہیں بنی اب تک جو خود کے گلستان و شاندار ذہن کو عبث کے خورایوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرنے والوں کو سزا دیتی تو آج ساری نوجوان نسل اسکے کہٹرے میں کھڑی نظر آتی۔

بات سادہ اور آسان ہے کہ غریب محبت کرتے ہیں اور امیر طلب کرتے ہیں۔ یہ صریح خواہشات اور طلب کی بحث ہے اور معاشیات کے موضوع میں آتا ہے۔ معاشیات کی رو سے
The willingness and ability to pay
طلب ہے۔ جبکہ
The willingness but inability to pay
خواہش ہے۔ جو بندہ pay نہیں کرسکتا، وہ غریب ہے۔ اس غریب بندے کو کوئی پسند آتا ہے، ٹھیک۔ وہ اظہار کرتا ہے اور بات آگے بڑھاتا ہے، ٹھیک۔ لڑکی اور اسکے گھر والے لڑکے کی حیثیت دیکھتے ہیں، ٹھیک۔ گھر والے تحقیقات پر آتے ہیں، تو آدمی کمزوریوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے، غلط۔ معاشی حالت خستہ حال ہوتی ہے، غلط۔ زندگی کو نہ سمجھنے والا ہوتا ہے، غلط۔ خود کی بہتری کی بجائے محبت کر بیٹھتا ہے، غلط۔ کوئی حیثیت کوئی مقام نہیں رکھتا ہے، غلط۔ پھر اس حالت کو دیکھتے ہوئے جب انکار ہوتا ہے تو یہ جنونی و تیاگی بن جاتا ہے، سب سے زیادہ غلط۔

یہ مرحلہ بھی امتحان کی طرح ہوتا ہے۔ بیچارہ عاشق جذبے میں غلط قدم اٹھاتا ہے۔ محبت کے غلط تصور سے خود کو دلاسا دیتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جسطرح ایک خوش فہم طالبعلم محنت کی بجائے ساری رات بےدلی کی خوش گپیوں میں گزار دیتا ہے۔ خود کو غلط کرتا ہے۔ صبح جب پیپر دینے آتا ہے اور سوالات دیکھتا ہے تو جوابات کی نااہلی کا مظاہرہ کرکے اسکے پسینے چوٹنے لگتے ہیں۔

بالکل اسی طرح آفاقی محبت کے تصور کو سطحی و لایعنی اکنامکل ایشو پر لاگو کرکے خود کو دلاسے دیتا ہے کہ میرے پیچھے تاریخ کھڑی ہے میں تو محبت کرتا ہوں۔ میں نے تو یہ تیر مارے وہ قربانیاں دی ہیں۔ تاریخ محبت سے ہے۔ یہ فطرت ہے۔ یہی صحیح راستہ ہے۔ جبکہ مسلہ محبت کا ہے ہی نہیں۔ نہ یہ محبت ہے۔ مسلہ معیشت کا ہے۔ جس طرح آپ کشف و الہام کا ارادہ کرو کہ مجھ پر واضع ہو جائے اور میں صاحبِ کشف و سفید منش صوفی بنو اور پیر کامل کے پاس جانے کی بجائے چرسی کے پاس جاکر بیٹھ جائے اور دلیل یہ دیتے ہیں، کہ دونوں کا ایک کام ہے کیونکہ دونوں مست رہتے ہیں۔ ایک ذکر سے دوسرا نشے سے۔ کیفیت تو یکساں ہے۔ بے خودی تو دونوں میں ہے۔ جتنا یہ صحیح ہوگا اتنے ہی آجکل کے عاشق حضرات۔

عاشق صاحبان اگر بریک لیں۔ تھوڑا سا ٹھنڈا پانی پئیں۔ اور پھر خود پر، اپنی حالت کپ اور معاملے پر غور کریں تو علاج کے مواقع پائے گے۔ پھر شاندار بنے گے۔ پیپر جس وجہ سے فیل ہوا تھا، ان غلطیوں کو درست کریں گے۔ اور پھر وہ اپنی محبت کو اپنے قابل نہ پاکر ٹھکرائیں گے۔ ایسا ہی ہوا ہے۔ اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ کیونکہ مسلہ محبت کا نہیں حیثیت کا ہے۔ جو میں صریح ننگے الفاظ میں لکھ چکا کہ یہ باب اکنامکس کی طلب اور خواہش کا ہے۔

بات دراصل یوں ہے کہ انسان خدا کی وہ ایجاد ہے جس پر وہ خود سینہ تان کے فخر کرتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کمالات سے بھرا ہوا ہے۔ اور کمال اسکے جذبے میں ہے۔ یہ جنون رکھتا ہے لیکن ساتھ میں عقل و ذہن کے پیمانے کا بھی مالک ہے اور ہدایات ملی ہیں کہ ان دونوں اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے زندگی پرسکون بناو۔ اب غریب آدمی غربت سے نکلنے کےلیے ان دو آلات کا صحیح استعمال نہیں کرتا اور خود کو اور اس میں رکھی ہر چیز کو گندھا کباڑ خانہ بنا دیتا ہے۔ ایک تو انسان میں ویسے بھی ناکارہ حالت میں منفی خیالات زیادہ ہوتے ہیں پھر غربت اور ناکامی کے بارہا تجربات اسےاور منفی بنا دیتے ہیں۔ اب یہ مکمل کباڑ بن چکا ہوتا ہے۔ ان حالات میں خود پر اور اپنے حالات پر غور اور مسلے کو سمجھنے و اسے بہتر بنانے کی بجائے ہیرو اٹھتا ہے اور محبت کر بیٹھتا ہے۔ ہوتا کیا ہے؟ وہاں دتکار اور کتوں والا سلوک تو کنفرم ہے۔ سو وہی ہوتا ہے۔ محبت نامی میک اپ کی گڑیا کو نہ پاکار اسکی غربت و حالت کے باعث پیدا شدہ منفی خیالات و ذاتی منفی اوہام اٹھ کر محبوب کے کندھوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ تمام الجھنیں تو محبت کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ نہ ملی تو میں مر جاونگا۔ اور سو میں کسی ایک کو مل جاتی ہے تو پھر خود تو کتوں کی طرح جیتا ہی ہے اپنی محبت کو بھی سردرد بنا لیتا ہے اور ہر وقت جھگڑتا ہے۔ بلکہ یہاں مشہور ہے کہ محبت کی شادی کے طلاق کی ریشو عام شادی سے بےحد اوپر ہے۔ تو مسائل اور ہیں اور سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ انھیں افہام و تفہیم سے سمجھنے اور انھیں سلجھانے کی ضرورت ہیں۔ نکہ مجنوں بننے کی۔ معاشرے اور خصوصا ہمارے معاشرے کو لنگڑے اور دماغی توازن کھوئے ہوئے نوجوانوں کی نہیں بلکہ منطقی، تیز اور سائنسی نظر رکھنے والوں نوجوان کی ضرورت ہے۔ تھوڑے سے صبر کی کڑوی دوا لیں اور اپنے علاج پر توجہ دیں۔ اسی صورت میں معاشرے کی ترقی و خوشحالی ممکن ہے۔ اور اسی طرح افاقی محبت آسکتی ہے۔ جب آفاقی محبت آجائے تو یہ جز بلکہ ذرہ محبت تو ہر ایک کی طلب اور بس میں ہوگی۔ پھر روئے ہوئے چہرے نہیں، ہنستاتے مسکراتے پھول بکھرے نظر آئنگے، چاہے جوڑے کے چہروں پر ہو یا دونوں کے والدین کے۔ ہر جگہ اطمینان و سکون ہی ہوگا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.