انسداد توہین صحابہ واہل بیت بل

0 50

تحریر عبدالغنی شہزاد

قومی اسمبلی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اہل بیت اطہار اعظم او رامہات المومنین کی توہین پر عمر قید کا بل منظور کرلیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے صحابہ کرام، اہل بیت عظام اور امہات المومنین کی شان میں گستاخی روکنے کا بل 2022 پیش کیا جسے ایوان میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ اراکین کی طرف سے نئے قانون کے مطابق صحابہ کرام، اہل بیت علیہم السلام اور امہات المومنین کی توہین کرنے والے کی کم از کم سزا 10 سال جبکہ زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو گی، جب کہ پرانے قانون میں یہ سزا 10 سال تک تھی۔
اس تاریخ ساز فیصلے پر ملک کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور مذہبی حلقوں نے قومی اسمبلی سے انسدادِ توہینِ صحابہ و اہل بیت بل کی منظوری کو تاریخ ساز فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد توہین صحابہ واہل بیت بل کی منظوری دینی جماعتوں خصوصاً جمعیت علماءاسلام کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، بل پر جمعیت علماء اسلام کے اراکین اسمبلی کے دستخط اغراض ومقاصد سے دفارادی کا ثبوت ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری سے فرقہ وارانہ تعصبات کی فضاء کا خاتمہ ہوگا ، بدقسمتی سے اس موضوع پر ملک دشمن ممالک نے 1980کی دہائی سے تاحال مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام کو نفرتوں کی بھینٹ چڑھا کر امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی گئی ، جس کے خلاف روز اول سے جمعیت علماء اسلام پاکستان نے واضح بیانیہ قوم کو دے کر پرامن سیاسی جدوجہد کی راہ اپنائی ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں بل پر اصل روح کے مطابق عمل درآمد وقت کا اہم تقاضہ ہے جس سے فسادات اور مسائل کا راستہ روکنے کا ذریعہ بنے گا- انہوں نے کہا صحابہ کرام،امہات المومنین اور اہل بیت اطہار کی شان میں گستاخی کا پاکستان جیسی ریاست میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اور قادیانی لابی کی وطن عزیز کے خلاف منفی سازشوں کی روک تھام اور سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں گستاخیوں کے واقعات بہت سے فساد و انتشار اور بدامنی کا سبب بنتے ہیں اس لیے اس کی قانونی بنیادوں پر روک تھام ازحد ضروری ہے- اس اہم ترین آئینی ذمہ داری کی سرانجام دہی پر قومی اسمبلی مبارک باد کی مستحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل جمعیت علماء اسلام کی جانب سے سودی نظام کے خلاف کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں اس پر بھی فوری طور پر عمل ہونا چاہئیے ۔
وہ مسلمان جو کبھی جسد واحد کی مانند تھے فرقہ واریت کی لہر نے انہیں گروہوں اور طبقات میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔
اسی فرقہ واریت کے باعث ہم عروج کی بجائے زوال کی طرف گامزن ہیں وہ مراکز جو امن و آشتی کے محور ہوا کرتے تھے آج لوگ قتل و غارت گری کے خوف سے ان میں داخل ہونے سے کتراتے ہیں وہ مسلمان جو بھائی بھائی تھے آج فرقوں اور گروہوں میں بٹ کر
عصر حاضر میں باعزت مقام اور اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کے لئے امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں آج ہمیں عقیدے اور مسلک کے نام پر پروان چڑھنے والے فتنوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف ہماری باہمی چپقلشوں کے باعث اسلام دشمن قوتیں اپنی بھرپور یلغار کے ذریعے اسلامی اخوت کےچراغ کو بجھانے کے لئے سرگرداں ہیں۔ مسلمانوں کے متحد نہ ہونے کے باعث اسلام پر آئے روز حملے ہو رہے ہیں اسلام کو دنیا کے سامنے دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید میں تحریف کی ناپاک جسارتیں ہو رہی ہیں اگر ہم نے عصر حاضر کے ان چیلنجز کو نہ سمجھا اور ان کے مقابلے کے لئے منصوبہ بندی نہ کی تو ہمارا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیا جائے گا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے کتنے جید علماء کرام شہید کئیے گئے اور دشمن نے پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ اگر ہم طبیعت، مزاج اور زاویہ نگاہ میں اعتدال اور میانہ روی لائیں اور ایک دوسرے کی بات کو خندہ پیشانی اور تحمل سے سننے اور برداشت کرنے کی خو پیدا کر لیں تو تضاد اور مخاصمت کی فضا کی جگہ باہمی موافقت و یگانگت اور محبت و مروت ہماری زندگیوں میں آجائے گی نفرت کی وہ دیوار ہمارے درمیان سے ہٹ جائے گی جو ملی اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اگر مذہبی رواداری اور تحمل و بردباری ہمارا شیوہ بن جائے تو بہت سے مسلکی فروعی اختلافات ختم یا کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں ان اقدامات سے امتِ مسلمہ کے اندر تباہ کن انتشار و افتراق کا یقینی خاتمہ ہو جائے گا اور امت مسلمہ کو فرقہ واریت کی لعنت میں مبتلا دیکھنے والی طاقتوں کے عزائم خاک میں مل جائیں
گے۔جسدِ ملت میں فرقہ پرستی اور تفرقہ پروری کا زہر اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ نہ صرف اس کے خطرناک اثرات کا احساس و ادراک ہر شخص کے لئے ضروری ہے بلکہ اس کے تدارک اور ازالے کے لئے مؤثر منصوبہ بندی کی بھی اشد ضرورت ہے ہمارے گردو پیش میں تیزی سے جو حالات رونما ہو رہے ہیں ان کی نزاکت اور سنگینی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم نوشتہء دیوار کو پڑھیں اور اپنے درمیان سے نفرت، بغض، نفاق اور انتشار و افتراق کا قلع قمع کرکے باہمی محبت و مودت، اخوت و یگانگت، یکجہتی اور اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ اسی میں ہماری فلاح و بقا اور نجات مضمر ہے۔ فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے انفرادی، اجتماعی اور حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.