منشیات آخر کیوں؟*

0 58
 اگر منشیات کی بات کی جائے تو پورے بلوچستان میں تیزی سے بڑتی جارہی ہے وڈھ بلوچستان کے پسماندہ ترین تحصیلوں میں شمار ہوتا ہے وڈھ میں پانچ سال پہلے منشیات کے عادی افراد کی تعداد چند ایک تھی اب اگر دیکھا جائے تو وڈھ جیسے پسماندہ علاقہ میں عادی افراد کی تعداد 500سوتک پہنچ گئی ہے تو پورے بلوچستان کی حالت کیاہوگی۔ منشیات کے عادی افراد کو گھر کا پتا چلتا ہے اور نہ ہی بھائی بہن اور بیوی بچوں کا وہ گھر کے ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی کام کے اگر ان کو ایک دن نشہ نہیں ملے تو وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتے ہیں اگر وڈھ کو دیکھا جائے تو وڈھ میں ہر قسم کی منشیات آرام سے مل جاتی ہے کون سپلائی کرتا ہے کہاں سے ملتی ہے ؟چمن سے لیکر کراچی تک روڈپر ہزاروں کے قریب ہمارے فورسز کی چوکیاں موجود ہیں کیا وہ ا ن کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں اگر ناکام نہیں ہیں تو منشیات اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہی ہےگزشتہ سال 2020 میں خضدار کے آٹھ نوجوان منشیات کے خلاف خضدار سے کوئٹہ تک 350کلومیٹر پیدل لانگ مارچ کرکے تین دن تک کوئٹہ پریس کلب کے سامنے کیمپ بھی لگائے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت بلوچستان کی طرف سے ان سے کوئی ملنے تک نہیں آئے اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ان سب کے ذمہ دار حکومت تو نہیں؟
بلوچستان میں سال میں اتنے بچے سکول میں داخل نہیں ہوتے جتنے بچے منشیات کی عادی بن رہے ہیں۔ کیا حکومت بلوچستان بری طرح ناکام ہے ؟ یا یہ ایک بہت بڑا مافیا ہے جو حکومت ان کے سامنے بے بس ہے اگر بے بس نہیں تو کاروائی کیوں نہیں کرتی۔ منشیات کے روک تھام کیلئے ایک فورس اینٹی نارکوٹیکس بنائی گئی ہے جو کہ حکومت کی جانب سے ان کو ہر ماہ لاکھوں روپے تنخواہ دی جاتی ہے تنخواہ کیوں دی جاتی جب تک کوئی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتاہو۔ مزدوری ان مزدوروں کو مل جاتی ہے جنہوں نے کام کیا ہو یہ نہ کہ گھر بیٹھے اور پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے کھائیں۔ آج کل ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی ہورہی ہے ہمارے معاشرے میں بارہ سال کے بچے بھی منشیات کے عادی بن چکے ہیں جوکہ منشیات گٹکہ اور جےم کی شکل میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
اہم ذرائع سے معلو،م ہوا ہے کہ وڈھ میں بھی گٹکہ جیسے مضر صحت اور گندی چیزیں بن رہی ہیں کیا وڈھ پولیس اور لیویز ان پر کاروائی نہیں کرسکتے اتنی چھوٹی سے شہر میں اگر وہ کاروائی کریں تو یہ وڈھ جیسے علاقہ ایک ماہ سے پہلے ہی منشیات سے پاک ہوگا لیکن بدقسمتی ہے کہ ہماری لوکل انتظامیہ اس حوالے سے مکمل خاموش نظر آرہی ہے۔
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.