کوئٹہ بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل دورکنی بینچ نے
کوئٹہ بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل دورکنی بینچ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق کیس کی سماعت کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ایڈوکیٹ جنرل ارباب طاہر کاسی عدالت میں پیش ہوئے درخواست گذار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت 5 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ترقیاتی اسکیموں کی مد میں جاری کرچکی ہے جسٹس جمال مندوخیل نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹیشن خارج کردیتے ہیں پھر حکومت جو کرتی یے کرتی رہے جسٹس کامران ملا خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ حکومت کے نہیں ریاست کے ملازم ہیںآپ میرٹ کے مطابق کام کریں، کوئی آپ کچھ نہیں کہہ سکتا جسٹس جمال مندوخیل نے بتایا کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلیں کو جواب دینا ہے حکومت کی ساری باتیں غلط نہیں ہوسکتیں مگر باضابطہ طریقہ کار کے تحت معاملات کو دیکھے