الفاظ کی تاثیر

0 64

حمیراعلیم
الفاظ کی ایک خاص تاثیر ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ کسی آیت ، نماز، اچھی نصیحت یا قول کو پڑھ کر انسان ڈپریشن سے نکل جاتا ہے۔جب کہ کسی کی گالی یا بری بات سن کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔بعض لوگوں کا کلام اور لہجہ اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ ان کی بات سیدھی دل میں اتر جاتی ہے ان کی بات پر عمل کرنے کا دل کرتا ہے۔جب کہ اکثر لوگوں کا لہجہ تلخ، طنزیہ اور باسی bossy ہوتا ہے کہ خوامخواہ غصہ آ جاتا ہے۔
   اکثر لوگ اپنے سے زیادہ امیر اور معزز شخص کے ساتھ تو بہت تمیز سے بات کرتے ہیں مگر ہیلپرز اور کم حیثیت لوگوں کی تذلیل کرتے ہیں۔جب کہ اسلام نے ایسے لوگوں کوہمارا بھائی قرار دیا ہے اور ان کے لیے ویسی ہی چیز لینے کا حکم دیا گیا ہے جیسی ہم اپنے لیے پسند کریں۔اور انہیں وہی کھلائیں اور پہنائیں جیسا خود کھاتے پیتے ہیں۔لیکن ہم اس کے بالکل الٹ کرتے ہیں۔
ایک قاری کو یہ اعتراض ہے کہ میں اپنے آرٹیکلز میں مردوں کی تذلیل کرتی ہوں  ۔ان کو تفصیلی جواب تو میں دے چکی ہوں ۔اور یہ بھی یقین ہے کہ میرے جن قارئین نے میرے تمام آرٹیکلز پڑھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی صنف کی حمایت کی ہے نا مخالفت کجا کہ تذلیل کرنا۔جو کچھ میں اپنے اردگرد دیکھتی ہوں وہی کہانیوں میں ڈھال دیتی ہوں۔اگر کوئی میل شیونزم کا شکار ہو کر بلی کی طرح آنکھیں بند کر کے حقیقت سے نظریں چرا لے تو حقیقت بدل نہیں جاتی۔
   دکھ اس بات کا ہے کہ کچھ لوگ بات کرتے ہوئے کچھ ایسے  الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو قطعا مناسب نہیں ہوتے وہ بھی سوشل میڈیا پر۔اختلاف رائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی ہوتا تھا مگر وہ ایک دوسرے کے لیے نہ تو رقیق الفاظ استعمال کرتےتھے نہ کردار وذات پر حملہ کرتےتھے۔مجھے اگر کسی کی تحریر پسند نہیں ہوتی تو یا تومیں خاموش رہتی ہوں یا کوشش کرتی ہوں کہ ایسا کمنٹ لکھوں جس سےکسی کی تذلیل نہ ہو اور بات بھی بری نہ لگے۔الحمدللہ سوشل میڈیا خود بھی اس معاملے میں ایکٹو ہے اور ایسے کمنٹس کا نوٹس لےکر مناسب کاروائی بھی کرتا ہے۔مگر بہتر تو یہی ہوتا ہے کہ سنت کی پیروی میں یا توبھلی بات کہی جائے یا خاموش رہا جائے۔اور اگر اختلاف رائے ظاہر کرنا بہت ہی ناگزیر ہو تو دلیل کےساتھ بات کی جائے۔اور اگر دلیل نص سے ہو تو سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے۔
   یاد رکھیے جسم کے گھاو تو بھر جاتے ہیں مگر زبان کے لگے زخم کبھی نہیں بھرتے۔مجھے یاد ہے بچپن میں اسی موضوع پر ایک کہانی پڑھی تھی۔ایک لکڑہارے کی شیر کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ لکڑہارا جب بھی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا شیر اس کے پاس آجاتا اور دونوں خوب باتیں کرتے۔ لکڑہارا بھی بغیر کسی خوف کے شیر کے پاس بیٹھا رہتا کیونکہ اسے یقین تھا کہ شیر اسے کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
ایک دن ایک آدمی نے دونوں کو پاس بیٹھے دیکھ لیا۔ وہ بہت حیران ہوا۔ شیر کے جانے کے بعد اس نے لکڑہارے سے کہا کہ :”مجھے تمہاری عقل پر حیرت ہورہی ہے کہ تم شیر کے پاس بیٹھے رہتے ہو اگر اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیا تو؟”
لکڑہارے نے جواب دیا کہ :”شیر میرا دوست ہے اور مجھے اس پر اعتماد ہے کہ وہ کبھی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔”
اس آدمی نے کہا کہ:” مان لیا تمہارا دوست ہے لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ وہ ایک درندہ ہے اور تم کسی درندے پر کیسے اعتبار کرسکتے ہو۔ اس کو جب کہیں اور سے خوراک نہ ملی تو وہ تم پر بھی حملہ کر کے تمہیں اپنی خوراک بنا سکتا ہے۔”
لکڑہارے نے کہا کہ :”بات تو تمہاری ٹھیک ہے وہ ایک خونخوار درندہ تو ہے۔ چلو میں آئندہ سے احتیاط کروں گا۔”
اتفاق سے لکڑہارے کی یہ بات شیر نے بھی سن لی اسے بہت دکھ ہوا۔ اگلے دن جب وہ لکڑہارے سے ملا تو اسے کہا کہ :”میری کمر پر کلہاڑی کا ایک وار کرو۔”
لکڑہارے نے حیرانی سے پوچھا پاگل تو نہیں ہوگئے میں تم پر کیوں وار کروں گا لیکن شیر ضد کرتا رہا کہ نہیں مجھ پر ایک وار کرو۔
مجبوراََ لکڑہارے نے اس کی کمر پر کلہاڑی سے وار کر دیا۔ شیر کو کافی گہرا زخم آیا لیکن وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
اس واقعے کے بعد بھی شیر اسی طرح لکڑہارے سے ملتا رہا اور اس کا زخم بھی آہستہ آہستہ بھرتا رہا۔ جب زخم بالکل بھر گیا اور نشان بھی ختم ہوگیا تو اس نے لکڑہارے سے کہا کہ :”دیکھو تم نے اپنے کلہاڑے سے مجھے جو زخم لگایا تھا وہ بالکل بھر گیا ہے اس کا نشان بھی باقی نہیں رہا لیکن تم نے اس دن مجھے درندہ کہہ کر اور میری دوستی پر شک کر کے اپنی زبان سے جو زخم لگایا تھا وہ آج بھی تازہ ہے۔”
لکڑہارا شیر کی یہ بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی ایسی کوئی بات نہیں کرے گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔
کیا ہم بات کرنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے الفاظ اللہ تعالٰی کے فرشتے ریکارڈ کر رہے ہیں اور ان الفاظ کا اثر سننے والے پر کیا ہوگا؟تنقید، اظہار رائے اور اختلاف کرنا آپ کا حق ہےمگر اس حق کا استعمال ایسے مت کیجئے کہ کسی کی دل آزاری ہو اور اس کے دل سے آپ کے لیے بد دعا نکل جائے۔کیونکہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ تعالٰی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
    ویسے بھی مسلمانوں کو حکم ربی ہے:” لوگوں سے بھلی بات کہو۔”سورہ البقرہ 83
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے:” بھلی بات کہو ورنہ خاموش رہو۔”

   

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.