زندگی سے زندگی روٹھ گئی

0 22

زندگی اتنی سہل کہاں ہے کہ شعر و سخن کی لطافتوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔ اور عطاشاد کا مصرعہ ” کس نے کہا تھا گھر لبِ دریا بنائیے” تو غریب غربائ کی سراسر تضحیک کے ساتھ ساتھ ا?ن کا منہ چیڑاتا لگتا ہے جو صدیوں سے دریا کنارے بوسیدہ جھونپڑیوں میں زندگی کے ایام بنا کوئی گلہ ، شکوہ خاموشی سے گزارے جا رہے تھے کہ سیلابی ریلوں نے ا?ن سے زندہ رہنے کے اسباب ہی چھین لئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا سروے مکمل ہو گیا ہے۔ جس کے مطابق رواں سال بارشوں اور سیلاب سے 336 افراد جاں بحق 187 زخمی ہوئے۔ سیلاب اور بارشوں سے صوبے میں 3 لاکھ 21 ہزار 19مکانات تباہ ہوئے ۔نصیر آباد میں سب سے زیادہ 94578 مکانات کو نقصان ہوا ہےسیلاب سے 4لاکھ 75ہزار 721ایکٹر زرعی زمین کو نقصان پہنچا . سیلاب سے صوبے بھر میں 2لاکھ 92ہزار 526 مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے . بارشوں اور سیلاب سے 103ڈیمز شدید متاثر ہوئے ، بلوچستان میں 2ہزار 2سو21کلومیٹر قومی اور بین الصوبائی اور لنک شاہراہیں سیلابی پانی میں بہہ گئیں . بلوچستان بھر میں قومی شاہراہوں پر قائم 25 پل ٹوٹ گئے .سیلاب کی زد میں آکر ہرک کے مقام پر
ایک ریلوے پل بھی بہہ گیا . پی ڈی ایم اے نے سیلاب میں پھنسے ہوئے 1لاکھ 25ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا . سیلاب کے دوران 10 لاکھ سے زائد لوگوں تک امدادی سامان پہنچایا گیا،پی ڈی ایم اے کوئٹہ:حکومت کی جانب سے سیلاب میں جاں بحق ہونے والے 336 افراد کے لواحقین میں
امدادی چیکس تقسیم کئے گئے ہیں . بلوچستان میں سیلاب سے تین لاکھ سے زائد گھروں کو نقصان، لاکھوں ایکڑ پر کاشت فصلیں تباہ ہوئیں، سرکاری بلوچستان حکومت کی جانب سے مون سون بارشوں کے دوران بارشوں اور سیلابی ریلو ں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے کروایا جانے والا سروے مکمل ہوگیا صوبے میں مجموعی طور پر 321019 مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ پانچ لاکھ90 ہزار 439ایکٹر پر کھڑی فصلات تباہ ہوئیں، 2لاکھ 92ہزار 526 مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں رواں سال یکم جون سے 25اگست تک ہونے والی مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ان نقصانات کے ازالے کیلئے بلوچستان حکومت نے محکمہ ریونیو کے زیر اہتمام صوبے کے 32 اضلاع میں جوائنٹ سروے کرایا جس کی رپورٹ مرتب کرلی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق تین ماہ کے مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 336افراد جاں بحق جبکہ 187 زخمی ہوئے،صوبے میں مجموعی طور پر 321019 مکانات کو نقصان پہنچا250137 مکانات مکمل طور پر گرے جبکہ 96166کو جزوی نقصان پہنچا،سب سے زیادہ94578 مکانات ضلع نصیر آباد میں نقصان پہنچا جبکہ سب
سے کم نقصانات ضلع زیارت میں ہوا وہاں 223مکانات گرے، سروے رپورٹ کے مطابق صوبے میں پانچ لاکھ90 ہزار 439ایکٹر پر کھڑی فصلات تباہ ہوئیں سب سے زراعت کو نقصان ضلع جھل مگسی میں ہواجہاں،ایک لاکھ 73ہزار 908ایکٹر پر فصلات تباہ ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2لاکھ 92ہزار 526 مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے جن میں نوے ہزار سے زائد جھل مگسی اور 85ہزار نصیر آباد میں مارے گئے۔محکمہ ریونیو کی جانب سے یہ رپورٹ جلد صوبائی حکومت کو پیش کی جائے گی جس کے بعد متاثرین کی بحالی کاکام شروع کیا جائے گا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.