محکوم وطن کے بلند آواز عثمان خان کاکڑ شہید کی حالات زندگی

0 363

قارئین کرام۔عثمان خان کاکڑ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر اور بلوچستان کے منجھے ہوئے سیاست دان تھیں۔ 21 جولائی 1961ء کو ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں پیدا ہونے والے عثمان کاکڑ نے معیشت میں ماسٹرز اور ایل ایل بی کر رکھا ہے۔ دورِ طالب علمی سے سیاسی زندگی کا آغازکیا، 1977ء میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہوئے اور تنظیم کے مرکزی اول سیکرٹری (سربراہ) کی حیثیت سے کام کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پشتونخوامیپ کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست شروع کی۔ 2002ء بلوچستان اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ عثمان کاکڑ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی کنوینئر اور پشتونخوا نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی مرکزی کنویننگ کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔اسکے علاوہ عثمان خان کاکڑ ایک نڈر جوان مرد سیاستداں تھیں جو پارلیمنٹ سے لیکر سیاسی اسٹیج تک پشتون اور پسماندہ بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے جدوجہد کرتےتھےوہ علاقے کی سطح پر عوام کے ہر غم ودرد میں برابر کے شریک رہتاتھاوہ ایک سنجیدہ وسیع دل ودماغ والے شخصیت تھیں ذہین نشینی میں ایوارڈ حاصل کرنے والا شخصیت ہمیشہ کالے سے کالیاں اور تلخ سے تلخیاں کی سیاست کرتے تھے وہ وقت کے مقتدر قوتوں کی پالیسوں پر سخت تنقید کرتے تھے اور وہ پشتونوں کی پسماندگی ناخوندگی اور غربت کی بڑی رجحان پر ہمیشہ غم وغصے سے ڈٹے رہتے تھے۔عثمان خان کاکڑ کے مطابق کہ پشتون عوام کے تمام محرومیوں اور مسائل ومشکلات کی وجہ ہماری قومی محکومی اور پنجاب کی استعماری بالادستی ہے جس کی وجہ سے پشتون اس ملک میں قومی برابری اور سیاسی معاشی وثقافتی حقوق واختیارات سے محروم ہے ۔ جب تک پشتون قومی محکومی سے نجات اور سیاسی ومعاشی اختیارات کا مالک نہیں بنتا اس وقت تک درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات ناممکن ہے ۔جوقومی نجات کی سیاسی جدوجہد اور منظم قومی سیاسی پارٹی کے ذریعے ممکن ہے ۔ پشتونخوامیپ اور ملک کے دیگر جمہوری سیاسی پارٹیوں کی جدوجہد وقربانیوں اور قوموں وعوام کی منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے اٹھارویں آئینی ترمیم میں قوموں وعوام اور ان کے وحدتوں کو ایک حد تک حقوق واختیارات ملکی آئین میں تسلیم کئے گئے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جارہا اور محدود صوبائی خود مختیاری کو بھی تسلیم نہیں کیا جارہا ۔بالخصوص ہمارے صوبے میں اس وقت منی مارشلاء نافذہے اور ایف سی نے صوبے میں غیر آئینی وغیر قانونی متوازی حکومت بنا کرتمام محکموں وشعبوں میں اور سول معاملات میں مداخلت جاری رکھی ہے اور صوبائی خود مختاری اور منتخب صوبائی حکومت کی رٹ واتھارٹی کو تسلیم نہیں کیا جارہا ۔ صوبائی حکومت نے ایف سی کو صوبے میں دہشتگردی ، بدامنی کے خاتمے اور امن وامان کی قیام اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے بعض مقامات پر تعینات کیا ہے لیکن ایف سی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور مینڈیٹ سے تجاوز کرکے سیاسی وکاروباری سرگرمیوں اور عوام کی تذلیل کی کارروائیو ں میں مصروف ہے ۔ ہر روز صوبے کے مختلف علاقوں وشاہراہوں پرخودساختہ چیک پوسٹوں پر ہزاروں لوگوں کی بے عزتی اور عزت نفس مجروع کیا جاتا ہے ۔ ایف سی کا یہ طرز عمل ملک اور صوبے اور اس کے اداروں کے مفاد میں ہر گز نہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آج بھی صوبوں کے آئینی حقوق اور فیصلوں کو تسلیم نہیں کررہا ہے۔ وفاقی بجٹ اور کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں سمیت پاک چائنا اقتصادی راہداری کے ترقی کے تمام منصوبوں کو پنجاب اور لاہور کی ترقی پر خرچ کیا جارہا ہے ۔اسکے علاوہ سینٹ کے فلور پر ہر عوامی مسئلے کو بڑی دہیان سے اٹھاتے اور نتیجہ دیتے تھے۔سینٹ کے فلور پر کئے گئے عوامی امنگوں کے مطابق تمام تقاریر سوشل میڈیاء پرموجودہے کہ عثمان خان کاکڑ واحد سیاستداں تھیں کہ جسکی غم و واقعے سے صوبے کے تمام سیاسی مذھبی اور قوم پرست تنظیمیں اور اشخاص نڈھال ہے یہ عثمان کاکڑ کی سیاسی قبائلی اور مثاوی کریکٹر ہے کہ جنہوں نے ہمیشہ بردارانہ سیاست کا پیغام دیاہے۔اسی طرح عثمان خان کاکڑ سینٹ اور سیاسی پارٹی کی راستے سے پاکستان میں نامعلوم کی نام سے قتل وغارت اور پشتونوں کی حق تلفی پر ہمیشہ سچ اور سیدھے بولتے تھے اور پاکستان میں پشتون قوم کے بڑے اشخاص کی قتل اور دبانے کی پالیسی کیلئے سیسہ دیوار کی حثیت رکھتے تھے۔وہ اصولی سیاست اور پشتون وطن میں امن وامان کی علمبردار تھے وہ ایک سچا اور نڈر سیاست داں تھےاسی بناء پر انہوں نے کئی بار سینٹ میں کہاگیاہے کہ مجھے اشارے اور دھمکیاں مل رہے ہیں میں ان سب کو ریکارڈ کے طور پیش کرسکتاہوں اور میں اعلاً اعلان کہتاہوں کہ میرے اور میرے خاندان کیساتھ واقعہ بھی پیش آئی تو ذمہ دار پاکستان کے مقتدر ادارے ہیں یہی وجہ تھی کہ اسکو انتہائی شدید اور علیل حالت میں کوئٹہ کے ایک نجی اسپتال کو لایاگیا پہلی معلومات کے مطابق کہ وہ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہواہے بعد میں کہ وہ گھر میں پھسلنے سے زخمی ہواہے بعد میں جو ہائی ائیر ایمبولینس کوئٹہ سے کراچی شفٹ کرتے تھے تو بعد میں تحقیقات سے پتہ لگ گئی کہ عثمان خان کاکڑ کو باری ہتھوڑے سے سرپر مارا ہے اور کچھ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ واقعہ پیش آنے سے پہلے انکے گھر میں چارنامعلوم افراد داخل ہوئے تھے مگر اصل معلومات تحقیقات کے بعد سامنے آئینگے۔اب وہ سندھ گورنمینٹ کی طرف سے سرکاری اخراجات سے آغاخان کراچی میں ایڈمٹ کیاگیاعلاج جاری تھا بدقسمتی سے حالت تشویش ناک جاتا رہا مصنوعی آلات ومشینوں سے سانس کا سسٹم چلاکر بھی نہ بچا آخر کار محکوم اقوام کا عظیم ترجمان کراچی میں جام شہادت نوش کر پورے وطن کو افسردہ کرکے چلے گئے اللہ تعالیٰ شہید کی درجات بلند فرمائیں آمین

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.