پولیس اہلکاروں کا طاقت کا ناجائز استعمال معمول بن چکا ہے،اخترجان مینگل

0 11

کوئٹہ (ویب ڈیسک )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے صحافی فضل تواب اور افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کی اغواءکے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے محفوظ ترین شہر میں سفارتکار،سیاست دان اور صحافی محفوظ نہیں لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائی جائیں ،کیچ سی پیک کاروٹ جہاں درجہ حرارت 50ڈگری تک بڑھ جاتاہے وہاں18گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے بیان میں کیا۔ سرداراخترجان مینگل نے کوئٹہ ائیرپورٹ روڈ پرصحافی فضل تواب پر پولیس کی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ واقعہ صحافت پر حملہ ہے،پولیس اہلکاروں کا طاقت کا ناجائز استعمال معمول بن چکا ہے،ایسے واقعات میںملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے ۔سرداراخترجان مینگل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہاکہ تاج محمدسرپراہ کو لاپتہ ہوئے ایک سال بیت گیاہے ،لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائی جائیں اور تاج محمدسرپراہ کو بازیاب کرایاجائے ،انہوں نے کہاکہ کیچ جو سی پیک روٹ ہے وہاں درجہ حرارت 50 ڈگری تک بڑھ جاتا ہے تبدیلی سرکار کی حکومت میںوہاں فی الحال 18گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے ،سرداراخترجان مینگل نے اسلام آباد میں افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کے اغوا ءکے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے محفوظ ترین شہر اسلام آباد میں سفارتکار ، سیاست دان اور صحافی محفوظ نہیں ہیںتو کوئی تصور کرسکتا ہے کہ بلوچ ہر روز کیسا محسوس کرتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.