آزادی پاکستان پر اظہارِ تشکر

2 394

مملکتِ خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان عظیم الشان نعمتِ خداوندی ہے۔ یہ عظیم القدر تحفہ ربِ کریم نے اپنے خصوصی فضل وکرم سے ایسے حالات میں عطا فرمائی، جب اسلام دشمن قوتیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ میدان میں موجود تھیں۔ فرنگی سامراج برصغیر کے جانباز و جانثار مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تُلے ہوئے تھے۔ ہندو، سِکھ اور انگریز سب مشترکہ مفادات کی خاطر مل کر اس مشن پر زور آزمائی کر رہے تھے کہ مسلمان الگ آزاد اور خود مختار مسلم ریاست حاصل نہ کرسکیں۔

ہندوستان کی سر زمین پر انگریز و برطانوی سامراج 1857ء سے لے کر 1947ء تک تقریباً ایک صدی پر محیط حاکم و قابض چلا آرہا تھا۔مقامی لوگ ان کے ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے۔ آخر کار مسلمانانِ ہند کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ جس کے نتیجے میں خداوند نے اس تحریک کے مقاصد و اہداف کو کامیابی و کامرانی سے سرفراز و سرخرو فرمایا۔

اس وقت ہندوستان کی تقسیم دو قومی نظریہ کی بنیاد پر عمل میں آئی تھی۔ ایک جماعت مسلم لیگ تھی، جو ملک کی تقسیم کےلیے کام کر رہی تھی اس کا موقف تھا،کہ مسلمان اور کافر ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔ اس وجہ سے ملک کو تقسیم کیا جائے۔ ان کی قیادت بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناح کررہے تھے۔ دوسری پارٹی کانگریس تھی، جو ہندوں اور مسلمانوں کی مشترکہ گروہ تھی۔ تیسری بڑی تنظیم جمعیت علماء ہند تھی، جو ہندوستان کے علمائے کرام کی پارٹی تھی،ان علمائے کرام اور کانگریس کے سیاسی نظریات اور خیالات میں اشتراک تھا۔ ان دونوں جماعتوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ملک کو متحد رہنا چاہئے۔

بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ پاکستان کا علامہ محمد اقبال مرحوم سے پہلے تصور و تخیل اسلامی ریاست کا حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا پیش کردہ ہے۔جون 1928ء کو مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ کی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی۔تو حضرت تھانوی فرمانے لگے: “جی یوں چاہتا ہے،کہ ایک خطہ پر خالص حکومت ہو،سارے قوانین و تعزیرات وغیرہ کا اجرا احکامِ شریعت کے مطابق ہو،بیت المال کا نظام قائم ہو،نظامِ زکوٰۃ رائج ہو،شرعی عدالتیں قائم ہو،مسلمانوں کو اس کےلیے کوشش کرنی چاہیے، دوسری قوموں کے ساتھ مل کر یہ نتائج کہاں حاصل ہوسکتے ہیں؟” تعمیرِ پاکستان”،از منشی عبد الرحمٰن،ص: 35

اور اسی طرح حضرت مولانا عبدالماجد دریا بادی مرحوم نے اپنی کتاب “حکیم الامت”،ص:33 پر رقمطراز ہیں کہ: “پاکستان کا تخیّل،خالص اسلامی حکومت کا خیال،یہ سب آوازیں بہت بعد کی ہیں، پہلے پہل اس قسم کی آواز یہیں (تھانہ بھون) میں کان میں پڑی۔اسی طرح مولانا محمد الیاس گھمن صاحب مدظلہ نے اپنی تصنیف “میرا پاکستان” ،ص:17 پر اور مفتی ساجد الرحیم صاحب نے “حصول آزادی میں علما کا کردار:ص:8 پر قریب قریب یہی بات لکھی ہے۔

اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے پیش کردہ تصور و تخیل کے کچھ وقت بعد 29 دسمبر 1930ء کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال مرحوم نے الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں خطبہ صدارت کے دوران مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا تصور پیش فرمایا تھا۔ اسی تصور کی وجہ سے وہ مصوِّر پاکستان کہلاتے ہیں۔

23مارچ 1940ء وہ عظیم اور نمایاں دن ہے،جب لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ نے انگریز کے ناپاک عزائم اور غلامی کی زنجیروں سے نجات پانے کے لیے اور مسلمانوں کو الگ ملت بنانے اور انہیں علیحدہ ملک دلانے کے لیے قرار داد پاکستان پیش کی گئی۔ یہی قرارداد بعد میں مسلم لیگ کی آئندہ سیاست کا محور و مرکز بن گئی۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے فرمان کے مطابق مسلمان قوم کسی بھی تعریف کی رو سے ایک قوم ہے۔ ان کے پاس اپنا وطن، اپنا علاقہ اور اپنی ریاست ہونی چاہیے۔ جہاں مسلمان مکمل طور پر اپنی روحانی، ثقافتی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی زندگی کی اس طرح تعمیر کریں۔جسے ہم سب بہتر سمجھیں اور جو ہمارے تصور سے مطابقت رکھے۔ جو ہمارے لوگوں کی خواہش کے مطابق ہو۔

قرارداد پاکستان کا نام قراداد لاہور ہی تھا، لیکن اس نے قرارداد پاکستان کے نام سے شہرت پائی. مسلم لیگ مزید سات برس کی جدوجہد کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ گویا چودہ اگست 1947ء کو وجود میں آنے والی ریاست کی تعمیر 23 مارچ 1940ء کے قرارداد پاکستان پر ہوئی۔

مملکت خدا داد پاکستان 27 رمضان المبارک 1366ھ بمطابق 14 اگست 1947ء میں مسلمانانِ ہند کو غیر مسلموں کی محکومیت سے آزادی عطا فرما کر پاکستان کی صورت میں ایک عظیم نعمت عطا فرمائی۔ اس آزادی پاکستان کے مقاصد یہ تھے کہ جب پاکستان قائم ہوجائے تو مسلمانوں کی اپنی حکومت قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہوگی اور یہاں کے باشندے مکمل آزادی سے اپنے دین پر عمل کرسکیں گے.

آزادی پاکستان میں اگر ایک طرف جناب قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، لیاقت علی خان اور ان کے رفقائے کار سمیت لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں اور انتھک کوششیں تھیں، تو دوسری طرف علمائے حق علمائے دیوبند نے بھی ہندوستان کے چپے چپے اور گوشے گوشے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور کوششیں بروئے کار لاکر تقریروں، تحریروں، علمی و عملی جدوجہد اور کٹھن قربانیوں کے ذریعے اس تحریک آزادی کو پروان چڑھایا۔

علمائے کرام کی ان ناقابلِ فراموش عظیم خدمات کا اعتراف بذاتِ خود قائد اعظم اور لیاقت علی خان مرحوم نے کیا۔ اسی لیے قائد اعظم نے پاکستان کی پہلی پرچم کشائی مغربی پاکستان کراچی میں مفسر قرآن مولانا شبیر احمد عثمانی سے اور مشرقی پاکستان ڈھاکہ میں صاحب علم و فن مولانا ظفر احمد عثمانی سے کرائی۔ اس ملک کے قائم ہوتے ہوئے وطنِ عزیز کی آج پچھتر برس ہوچکے ہیں۔ آج بھی ہمارے یہ علما و مشائخ اسی مقام پر کھڑے ہیں۔ شب و روز استحکامِ پاکستان کے لیے کوشاں و فکرمند ہیں۔

اس ملک کی آبیاری کے لئے بہت بڑی قیمت ادا کی گئی ہے۔ ذرا سوچیے! کتنی جانیں قربان ہوگئیں، کتنی عزتیں لٹیں، کتنی جائیدادیں تباہ و برباد ہوئیں۔ کتنے کتب خانے جلے، کتنے مدرسے برباد و غارت ہوگئے، کتنی مساجد ویران و مسمار ہوئیں۔ اس سے اس ملک و ملت کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس مملکت کا حصول نفاذِ اسلام کےلیے ہی ہوا تھا۔ اب جب کہ پاکستان کو قمری حساب سے ستتر سال اور عیسوی تاریخ کے اعتبار سے پچھتر سال پورے ہو رہے ہیں۔

افسوسناک المیہ یہ ہے، کہ وطنِ عزیز تاحال اپنی منزلِ مقصود سے دور بلکہ دور تر ہوتا جا رہا ہے۔ اب تک اپنے اصل منزل کی جانب کوئی پیش قدمی نہیں ہوسکی ہے۔ ربِ کریم اُن اصل اور اہم مقاصد نبھانے اور نافذ کرنے میں حکام اور رعایا کو کامیابی وکامرانی سے بہرمند فرمائیں۔

ملک پاکستان کی آزادی کی اس عظیم الشان نعمت پر باری تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن جشنِ آزادی سے متعلق ان محفلوں کو حدودِ شرعیہ میں رہ کر اور کسی ناجائز امر کا ارتکاب کئے بغیر منعقد کیا جائے، اپنے مکانات، دفاتر اور اداروں پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کے استحکام و ترقی کے لیے دعاگو رہنا چاہیے۔

اور پاکستانی قوم سے عاجزانہ درخواست ہے کہ ملکی ترقی و استحکام کےلیے تمام تر اختلافات بھلا کر اس پرچم کے سائے تَلے ایک ہوجائیں۔ آئیے! ہم سب مل کر اس مملکتِ اسلامیہ کےلیے شب و روز دعا کریں کہ خالق دو جہاں اس ملک و ملت کہ تمام شہدائے کرام کے درجات کو بلند فرمائے۔ اور وطنِ عزیز کو ہر قسم کے شرور و فتن، آفاتِ و بلیات سے مدام محفوظ اور سدا قائم و دائم رکھے۔اور ربِ کریم ہم سب کو راہِ راست پر چلنے کی توفیق دے۔
آمین ثم آمین۔

You might also like
2 Comments
  1. roosula says

    Most Cialis brands have been made available at low prices cheapest cialis generic online

  2. wahtavano says

    Tadalafil 20 mg administered twice a week resulted in a significant change of sexual attitude with the highest percentages of successful intercourse after 6 12 h 35 , and 12 24 h 28 from dosing does priligy work

Leave A Reply

Your email address will not be published.