بلوچستان کے 21اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیو مہم25مارچ سے شروع ہورہی ہے جس کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی

0 7

کوئٹہ ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوآرڈنیٹر راشدرزاق نے کہا ہے کہ بلوچستان کے 21اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیو مہم25مارچ بروز پیر سے شروع ہورہی ہے جس کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، سہ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 17لاکھ 79ہزار699بچوں کو پولیو سے بچائوکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،اس مہم کے دوران 6 ہزار845کے قریب ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں5ہزار960موبائل ٹیمیں،488فکسڈسائٹ اور397ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں، افغانستان کے ساتھ منسلک طورخم بارڈر اور باب دوستی چمن پر بھی ہر عمر کے افراد کے لیے پولیو ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ ۔ انہوں نے کہاکہ باب دوستی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔ اوسطاً 40000بچے ہر دن باب دوستی پر پولیو سے بچائو کے قطرے پیتے ہیںجو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ یوں تو پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے سے پہلے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے اور ہمارے تمام ایئرپورٹس پر پولیو ویکسینیشن بوتھ قائم کر دئیے گئے ہیں چنانچہ افغانستان کے ساتھ منسلک طورخم بارڈر اور باب دوستی چمن پر بھی ہر عمر کے افراد کے لیے پولیو ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ 25مارچ 2019 سے دونوں سرحدوں پر ہر عمر کے افراد کی ویکسینیشن شروع کی جا رہی ہے۔ جس میں 10 سال کی عمر تک کے بچوں کو بارڈر کراس کرنے پر ہر بار جبکہ 10 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے سال میں ایک بار ویکسینیشن کرانا لازمی ہو گی۔ جس کے لیے 10 سال سے زائد عمر کے افراد کوویکسینیشن کے بعد ویکسینیشن کارڈ مہیا کیا جائے گا چونکہ پولیو وائرس ہمارے ماحول میں اب تک گردش کر رہا ہے اور تحقیق کے بعد بیشر کا تعلق افغانستان سے نکلتا ہے اس لیے وائرس کی گردش کو روکنے کے لیے باب دوستی چمن اور طورخم بارڈر پر 10 سال تک اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے پولیو کی ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ان کاکہناتھاکہ 25 مارچ سے پولیو مہم بلوچستان کے 21اضلاع جن میں بارکھان،بولان، چاغی،ڈیرہ بگٹی، دکی، جعفرآباد،جھل مگسی،خضدار، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ،لورالائی، مستونگ، موسی خیل ، نصیرآباد ، شیرانی ،صحبت پور، ژوب، زیارت جبکہ کوئٹہ ، پشین اور قلعہ عبداللہ میں پانچ روزہ پولیومہم ہوگی۔اس وقت دنیا بھر میں پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس موجود ہے ۔کوآرڈنیٹرراشد رزاق نے کہاکہ سال2019کے دوران چار پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں تین کے پی کے، ایک پنجاب سے رپورٹ ہوا ہے۔کوئٹہ ،پشین اور قلعہ عبداللہ میں ابھی تک پولیو کے وائرس موجود ہیں جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ کوئٹہ ، پشین اور قلعہ عبداللہ سے لئے گئے نمونوں میں صرف قلعہ عبداللہ اور پشین دونوں میں پولیو کے وائرس موجود پائے گئے تاہم پشین سے لئے گئے نمونوں میں وائرس موجود نہیں تھا ۔ کوئٹہ، پشین اور بالخصوص ضلع قلعہ عبداللہ میں بچوں کے لیے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ابھی بھی موجود ہے ۔ پولیو مہم کی کامیابی کے حوالے سے علمائے کرام کا اہم کردار ہے جو اس مہم کے دوران شعور وآگاہی کیلئے اپنی خدمات سرانجام دینگے۔ان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب اور ہر بچے کو قطرے پلانے کیلئے کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو ان ہائی رسک علاقوں میں کام کرینگے جہاں بچوں تک رسائی مشکل ہے۔ اس عمل کوبہتر بنانے کیلئے علما کرام، قبائلی رہنماں اور معتبرین کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ہماری میڈیا، عوام اور ہر شہری سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارے بچے مستقل معذوری سے بچ سکیں ۔ پولیو لا علاج مرض ہے او ر پولیو ویکسین پلا کر ہی بچوں کو اس سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ انسداد پولیو مہم کے لئے سکیورٹی کے انتظامات بھی مکمل کرلئے گئے ہیں جس میں ضرورت کے مطابق بلوچستان لیویز اور پولیس کے عملے تعینات ہونگے اور فرنٹیئر کور(ایف سی ) بلوچستان بھی اضافی سکیورٹی فراہم کرے گی۔ والدین سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائیں اور بار بار پلائیں کیونکہ وائرس یہاں موجود ہے جو کسی بھی وقت ان بچوں پر حملہ آور ہوسکتا ہے ہم نے گزشتہ انسداد پولیو مہم میں نوے فیصد سے زائد انکاری بچوں پر قابو پالیاہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ ملک میں 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے تاہم پچھلے سال صرف 12 کیسز سامنے آئے جو کہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پولیو کے ویکسین موثر کام کررہے ہیں تاہم سسٹم میں موجود خرابیوں کو دور کرنا ہوگا جب تک 100 فیصد تک بچوں کو پولیو کی ویکسین نہیں پلائی جاتی اس وقت تک اس طرح کے کیسز سامنے آتے رہیں گے ۔ اس وقت صرف افغانستان اور پاکستان میں پولیو کے وائرس موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے وائرس سب سے پہلے فاٹا میں رپورٹ ہوئے تھے جہاں سے کراچی اور پھر کراچی سے پورے پاکستان میں پھیل گیا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ پورے ملک میں وائرس کی روک تھام کیا جائے جس کے لئے میڈیا ، علماء کرام سمیت تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو کردار ادا کرنا ہوگا ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.