انجمن ادبِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام خانہ فرہنگِ ایران میں کوئٹہ میں محفلِ مسالمہ

0 213

واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے “سلام” ایک اہم صنف سخن ہے۔ جس میں “مرثیے” کے تمام اجزا بھی آجاتے ہیں۔ اس میں وہ تمام موضوعات شامل کیے جاسکتے ہیں جو کہ مرثیے میں شامل ہوتے ہیں۔ منظر نگاری، جنگ، رجز، شہادت، بین وغیرہ۔ سلام میں شہدائے کربلا کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔اُن سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے اور ان کے ہمت و حوصلہ اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ شعراء کرام کی کثیر تعداد نے سلام لکھے ہیں۔
سلام،مرثیہ،اور نوحہ جیسی اصناف ہمیشہ خاص و عام میں مقبول رہیں، کیونکہ ان میں زندگی کی بلند اخلاقی اوراعلیٰ قدریں پیش کی جاتی رہیں اسی وجہ سے ان اصناف نے اعلیٰ تر معاشرتی رویوں کو فروغ دیا۔سلام اردو شاعری میں ایک الگ صنف کے طور پر رائج ہوچکا ہے۔جو کہ غزل کی ہئیت میں لکھا جاتا ہے۔ غزل کے اشعار کی طرح سلام کا بھی ہر شعر اپنی جگہ مکمل نظم کی شکل رکھتا ہے۔سلام کی محفل کو غزل کے مشاعرے کی مناسبت سے مسالمہ کہا جاتا ہے۔
مرثیہ کی ایک ذیلی صنف ہونے کے باوجود سلاموں میں غزل کے شعری وسائل اور لفظیات کا آزادانہ استعمال کیا جاتا ہے جو مرثیہ غزل یا قصیدے کے طور پر لکھا جائے اسے سلام کہتے ہیں۔ سلام اردو شاعری میں ایک الگ صنف کے طور پر رائج ہوچکا ہے۔ جو کہ غزل کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے۔ غزل کے اشعار کی طرح سلام کا بھی ہر شعر اپنی جگہ مکمل نظم کی شکل رکھتا ہے۔ سلام کی محفل کو غزل کے مشاعرے کی مناسبت سے مسالمہ کہا جاتا ہے۔
سلام میں شہدائے کربلا کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔اُن سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے اوران کے ہمت وحوصلہ اور ظلم کے خلاف ڈٹنے کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
سلام کے ابتدائی نقوش دکن میں ملتے ہیں۔ ان ابتدائی شاعروں میں جنھوں نے سلام لکھے ہیں قلی قطب شاہ، غواصی، وجہی اور درگاہ قلی خاں کے نام لیے جاتے ہیں۔ سلام نگاری کی ابتدا کی طرف تحقیق کی جائے تو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مرثیے کے ساتھ سلام بھی ملتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس وقت سلام کے لیے کوئی خاص ہئیت مختص نہ تھی۔سلام اس وقت مثنوی، قطعہ، غزل، مثلث، مربع کی ہئیت میں لکھے جاتے تھے۔ بلوچستان میں ماہِ محرم الحرام کی مناسبت سے ہر سال شعراء کرام بار گاہِ عالی مقام حضرت امام حسین میں اپنا نذرانہ پیش کرنے۔کی۔سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
امسال19 جولائی 2024ء کو انجمنِ ادب بلوچستان کے زیرِ اہتمام خانہ فرہنگِ ایران کوئٹہ کے تعاون سے پْر سعد عقیدتوں بھری محفلِ مسالمہ سرور جاوید کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں خانہ فرہنگِ ایران کے ڈائریکٹر جنرل سید ابو الحسن امیری اور قیوم بیدار نے مہمانِ خصوصی کی حیثت سےشرکت کی ۔
محفل مسالمہ میں نظامت کےفرائض جوان فکر شاعر احمد وقاص کاشی نے انجام دیئے ۔
جن شعراء کرام نے امام عالی مقام کے حضور گلہائے عقیدت کے نذرانے پیش کئیے اْن میں جناب اعجاز امر ، جناب آغا میثم ، جناب محمود محور ، جنابِ نواب محمد حسنی ، جناب رفیق طالب ، جناب فیصل ندیم ، جناب اسلم آسی جناب نور آغا اور راقم الحروف (شیخ فرید) کے علاوہ محترمہ تسنیم صنم ، محترمہ فہمیدہ گل ، محترمہ ارمش اور محترمہ فاحیہ شامل تھیں ۔
قیوم بیدار ، صدیق دہوار سیّد ابو الحسن میری ، اور سرور جاوید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہمیر انیس اور مرزا دبیر کے بعد جن مرثیہ نگاروں کا ذکر کیا جاسکتا ہے ان میں میر جلیس، سید مصطفےٰ مرزامعروف بہ پیارے صاحب رشید، میر تعشق، میر وحید، خورشید حسن دولہا صاحب،امین،عروج جعفر حسین اوج قابلِ ذکر ہیں۔شاد عظیم آبادی،آرزو لکھنوی،اور آغا شاعر قزلباش دہلوی مشہور ہیں۔نجابت علی خان فرزند شجاع الدولہ،کوکب شادانی، جاوید، عزیز لکھنوی،عارف،خیبر لکھنوی،نے بھی مرثیے لکھے ہی۔اس دور کے دوسرے بہت سے شعراء نے بھی سلام لکھے ہیں۔میر انیس کے بیٹے انس،نفیس، سلیس کے نام بھی سلام نگاری کے حوالے سے اہمیت کاحامل ہے۔اسی دور کے مونس، رئیس، کامل،کے نام بھی سلام نگاری میں قابل ذکر ہیں۔
سرور جاوید نے کہا کہ شعراء کرام کا محفل مسالمہ میں آنا اور بحضور امام حسین اپنا کلام پیش کرنا عین عبادت ہے ۔
جناب دہوار جو ایران سے تشریف لائےتھے اپنے خطاب میں کہا کہ حسینیت اور امام حسین کا فلسفہ شہادت کو سمجھنا آج وقت کا اہم تقاضا ہے ۔
محفل کے اختتام پْر لطف عصرانہ دیا گیا ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.