ملک کے تمام سیاست دان جی ایچ کیو اور مارشل لا کی پیداوار ہیں‘شیخ رشید

0 4

لاہو(این این آئی) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کوالالمپور مسئلے پر ملک کے مفاد کیلئے پیچھے ہٹے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف تک ملک کے تمام سیاست دان جی ایچ کیو اور مارشل لا کی پیداوار ہیں،مشرف کے خلاف پیرا 66جوڈیشل مارشل کے مترادف ہے غیر دانشمندان فیصلہ ہے ،عدلیہ پاکستان اور فوج کا اہم ستون ہے یہ نہیں ٹکرائیں گے چیف جسٹس اہم کردار ادا کریں گے،آصف زرداری کی کرپشن میں بلاول بھی شامل ہیں اگربلاول پلی بارگین نہیں کریں گے تومریم نوازکی طرح کک آئوٹ ہوجائیں گے۔ ان خیالات کااظہاروفاقی وزیر شیخ رشیدا حمد نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہاکہ ملک کے تمام سیاستدان جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 سے نکلے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف تک تمام سیاستدان مارشل لا کی پیداوار ہیں۔ تاریخ پڑھی جائے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو بھٹو کس نے بنایا، ان کی اہلیہ نصرت بھٹو نے کیا کچھ کیا۔ عمران خان کے آنے تک پاک فوج کافی بدل گئی ہے کیونکہ اب گیٹ نمبر 4 نہیں رہا۔شیخ رشید نے کہا کہ ایک دن صحافیوں کو بھی جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 سے اندر لیکر جائوں گا۔انہوںنے کہاکہ پرویز مشرف کو غدار نہیں سمجھتا وہ محب وطن ہیں، سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کا پیرا 66 غیر آئینی،غیر سنجیدہ اور غیر قانونی فیصلہ ہے، یہ مارشل لا کے مترادف ہے، عدلیہ پاکستان اور فوج کا اہم ستون ہے یہ نہیں ٹکرائیں گے، نئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی آمد سے ملک آگے بڑھے گا۔انہوںنے کہاکہ ادارے سمجھدار ہیں، انہیں آپس میں لڑایا نہیں جا سکتا، اپوزیشن کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہو جائیں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ کرپشن غداری کے مترادف ہے، بدقسمتی سے اس ملک میں جو آیا اس نے مال بنایا، خورشید شاہ کے126 اکاونٹس نکلے اور انہیں ضمانت مل گئی، پیپلزپارٹی سارے کیسز سندھ منتقل کرانا چاہتی ہے، آصف زرداری کی کرپشن میں بلاول بھی شامل ہیں، ڈیڑھ ارب روپے کی ٹرانزیکشن میں بلاول بھٹو زرداری کے دستخط موجود ہیں بلاول بھٹو زرداری نے پلی بارگینگ نہ کی تو وہ بھی مریم نواز شریف کی طرح ملکی سیاست سے مائنس ہوجائیں گے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ شہبازشریف وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے کھلاڑی ہیں، شہباز شریف پرویز مشرف کے خلاف نہیں بولے اور وہ ہی نواز شریف کو لندن لے کر گئے، شہبازشریف کی اچھی خبر آنے والی ہے وہ انجوائے کررہے ہیں، شریف برادران لندن میں نئے سال کا آغاز کریں گے، شہباز شریف نیا ہیٹ اور کورٹ پہنیں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ مجھ سمیت کابینہ کے 16 ارکان نے ووٹ دیا کہ نواز شریف کو جانے دیں، عمران خان کو نواز شریف کے باہر جانیکا افسوس ہے اور رہے گاکہ نوازشریف باہر چلے گئے۔لیکن عمران خان سمیت کوئی سیاستدان اپنے اوپر کسی کی موت کا الزام نہیں لینا چاہتا۔ا نہوںنے کہاکہ قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک اور قوم کے لیے یو ٹرن لیتے ہیں،وزیراعظم کسی دبائو میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کوالالپور سمٹ سے پیچھے ہٹے، مودی بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہپاکستان ریلوے اس سال 4 نئی شٹل ٹرینیں چلانے جارہا ہے۔ لاہور۔ رائیونڈ،لاہور۔گوجرانوالہ اور حیدرآباد۔کراچی کے درمیان یہ ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ لاہور سے گوجرانوالہ کے درمیان چلائی جانے والی شٹل ٹرین کا کرایہ 100 روپے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چار پسنجر اور تین فریٹ ٹرینیں پرائیویٹ سیکٹرکو آفر کرنے جارہے ہیں۔پرائیویٹ سیکٹرکو دی جانے والی پسنجر ٹرینوں میں سرسید ایکسپریس ،جناح ایکسپریس، رحمان بابا ایکسپریس اور تیزگام ایکسپریس کے نام شامل ہیں۔ بعدازاں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے پاکستان ریلوے سپورٹس بورڈ کی جانب سے نیشنل گیمز میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر ریلوے سٹیڈیم گڑھی شاہو میں منعقد تقریب میں شرکت کی اور پاکستان ریلوے کی طرف سے گولڈ، سلوراور برانز میڈل جیتنے والوں میں نقد انعام تقسیم کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے نے اس سال سپورٹس بورڈ کے فنڈ کو ساڑھے تین کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے اور اگلے مالی سال کے لیے 10 کروڑ کرنے کا اعلان کیاہے۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹوآفیسر ریلویز اعجاز احمد بریرو اور جنرل منیجر ڈبلیو اینڈایس آئی شاہد عزیز کو موقع پر ہدایات جاری کیں کہ نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو پاکستان ریلوے میں فوری طورپر ملازمت دی جائے۔ نیشنل گیمز میں کامیابی پر وفاقی وزیر یلوے شیخ رشید احمد نے سپورٹس بورڈ کی انتظامیہ اور تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دی۔ 2020ریلوے کا سال ہے ایم ایل ون کا اس شان سے افتتاح کریں گے کہ دنیا میرے مرنے کے بعد بھی یاد رکھے گی۔ ایم ایل ون ملکی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مشرف کے دور میں سی پیک صرف ٹریڈ کے لیے شروع ہوا تھا۔ ایم ایل ون کا افتتاح چین کی بہت بڑی شخصیت کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔ ایم ایل ون کا بنیادی مقصد ریلوے کو اپنے پائو ں پر کھڑا کرنا تھا 14 سال پہلے میں نے اس کی بنیاد رکھی تھی اور اب بھی میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اس کی شروعات بھی مجھ سے ہی کروائے اور ہم سرخرہوجائیں گے کہ ریلوے کو نئی زندگی اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھوں سے دی ہے۔ آرمی کے بعد ریلوے پاکستان کا دوسرا بڑا ادارہ ہے70.3 فیصد ٹریک آبادی کے اندر سے گزرتا ہے اگر ہم تھوڑا سابھی منظم ہوجائیں تو سائن بورڈوں سے ہماری اتنی آمدن ہوسکتی ہے کہ اس سے ریلوے کا خسارہ ختم ہوسکتا ہے ۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ نئے سال میں بغیر ٹکٹ مافیا کے خلاف میں خود مین لائنوں اور برانچ لائنوں پر ریڈ کروں گا او ر کسی بغیر ٹکٹ مسافر کو نہیں چھوڑوں گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری پوری کوشش ہے کہ ہمیں افغان ٹرانزٹ کا کام مل جائے اس سے ہماری تین سے چار فریٹ ٹرینوں کا اضافہ ہوجائیگا۔ ہم نے فریٹ میں فری ٹریک پالیسی متعارف کروائی ہے کہ پرائیویٹ لوگ اپنی فریٹ ویگنز اور انجن لائیں اور پالیسی کے مطابق ٹریک کا کرایہ دے کر چلائیں۔ ٹرینیں پرائیویٹ سیکٹر کو دینے سے ریلوے کا بوجھ کم ہوگا۔ اس لیے ہم پرائیویٹ سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم لیگج وین کی تعداد کو 43 سے بڑھا کر 100 تک لے جائیں گے اور لیگج وین کے ساتھ ایک ایک پسنجر کوچ بھی لگائیں گے کیونکہ میرے پہلے دور میں لیگج وین 3 کروڑ روپے کی تھی اور آج لیگج وین کا ٹینڈر 10کروڑ روپے میں ہوا ہے۔ اگر ہم پچاس لیگج وین کا اضافہ کریں تو اس سے ہم ایک ارب روپے کماسکتے ہیں اور پچاس پسنجر کوچز کو لیگج وین میں تبدیل کیا جائے تو اس سے بھی بہت زیادہ آمدن ہوگی۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ 2020 میں ریلوے کو ایک نیا نام اور نئی زندگی دی جائے اللہ تعالی ہمیں ہر طرح کے حادثات سے محفوظ رکھے۔ہمارے پاس 1961کا پرانا ڈھانچہ ہے۔ ریلوے کا خسارہ 33 ارب کا ہے ہماری کوشش ہے کہ ہم اس کو پانچ سا ل کی بجائے تین سال میں ختم کردیں گے۔ پچھلے سال ہم نے 10 ارب روپے زیادہ کمائے ہیں اس دفعہ ہمارا ٹارگٹ لینڈ، سکریپ اور فریٹ ٹرین ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.