ملک کے توجہ طلب مسائل

0 37

تحریر عبدالغنی شہزاد

کوئٹہ میں پاکستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے سیاسی رہنماؤں وزیر اعظم پاکستان مسلم لیگ(ن ) کے رہنماءشاہد خاقان عباسی،سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف ساروان نواب اسلم خان رئیسانی ،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماءسابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر ،سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مفتاح اسماعیل،حق دو تحریک کے چیئر مین واجہ حسین واڈیلا،صوبائی وزیر خوراک زمرک خان اچکزئی،پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماءرکن قومی اسمبلی خواجہ محمد حوتی،پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنماءشیخ وقاص اکرم،میر ہمایوں عزیز کرد،پشتونخوا میپ (خوشحال) کے رہنماءعیسیٰ روشان،جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عطاءالرحمان،نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ،پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر جمال شاہ کاکڑ،ایڈووکیٹ راحب بلیدی جبکہ پاکستا ن پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماءفرحت اللہ بابر نے خطاب کیا، اس کانفرنس میں محمود خان اچکزئی ، سردار اختر مینگل ، ڈاکٹر مالک بلوچ کو مدعو نہیں کیا گیا تھا یا وہ خود شریک نہ ہوسکے اسی طرح سب سے مؤثر سیاسی جماعت ومذہبی جماعت جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داران بھی شریک نہیں تھے بہرکیف اگر نیت صرف مسائل کا حل ہو تو اس قسم کے مکالمے اور مذاکرے ضروری ہیں اگر اس قسم کی تقریبات کی کوکھ سے کچھ اور سیاسی مقاصد جنم پاتے ہیں تو وقت ثابت کرے گا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ بہرکیف کانفرنس میں جو باتیں مقررین نے کیں اس پر غور کرنا تمام سٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے کیوں کہ ملک کو اس نہج پر پہنچانے میں سیاسی جماعتیں سمیت ہر ادارہ برابر ذمہ دار ہے۔ مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آئین کی بالادستی ،جمہوری کا استحکام ،آزاداور منصفانہ انتخابات کا انعقاد،ساحل وسائل پر اختیارات اور عوامی مفادات کی تقویت نا گزیر ہے جب تک آئینی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اقدامات نہیں کئے جائینگے صورتحال کی بہتری ممکن نہیں پارلیمان طاقتور ہوگا تو عوام کے مسائل اہمیت حاصل کرسکیں گے آزاد پارلیمنٹ ،عدلیہ اور صحافت کی عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کمزور پڑتے رشتوں کو مضبوط بناسکتے ہیں ابھی بھی ہم نے حالات کا ادراک نہ کیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ”ری ایمجننگ پاکستان کے نام سے رکھی گئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہاں رات کے اندھیروں میں سیاسی جماعت بنتی ہے جو ایک اجلاس بلا کر ہمارے آئندہ وسائل کو بھیج دیتی ہے کیا ہم نے اپنی کائنات اس لئے قربانی کی کہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس طریقے سے نقصان پہنچا یا جائے بلوچستان کی مائیں بہنیں سپریم کورٹ کی جانب تین ہزارہ کلو میٹر پیدل سفر کرتی ہےں مگر انہیں بھی انصاف نہیں ملا ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کو پڑھیں تو علم ہوگا کہ بلوچستان کے 80فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس تین سو بلین کا سونا ہے جس کے پاس ملک کی اکثریت کی گیس ہے جس کے پاس اس خطے کا اہم ڈیپ سی پورٹ ہے کوئلہ جس سے ملک کی فیکٹریز چل رہی ہیں مگر افسوس کے آج بھی یہاں کے لوگ غربت سے لڑ رہے ہیں آج ہمیں اس بات کو واضح کرنا ہوگا کہ سب سے پہلا قرضہ کس نے لیا اور وہ کہاں خرچ ہوا یہ بات عوام کے سامنے لانا ہوگی کہ یہ ڈالرز کا بلیک ہول کہاں ہے اتنے قرضہ جا ت لینے کے باوجود ملک کنگال ہے اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہورہا ہے یہ واضح ہورہا ہے کہ لوگ ہمارے نام پر پیسے لیکر چلے جاتے ہیں لاپتہ افراد کے معاملے کو ا ب تک غیر ذمہ داری سے دیکھا جارہا ہے جسٹس(ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتہ افرادکے حوالے سے کمیشن قائم کیا گیا ان کی ذمہ داری تھی کہ اس مسئلے کو حل کریں جو انہوں نے نہیں کیا جس کے بعد انہیں نیب کا سربراہ بنا یا دیا جس میں ان کا مقصد تھا کہ سیاسی قائدین کی پگڑیاں ا تاریں اور پگڑیاں اچھالنے میں وہ اتنے مصروف رہیں کہ لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرنے کا وقت ہی نہیں ملا اعظم سواتی کا معاملہ دیکھیں تو صورتحال یہاں تک آچکی ہے کہ پگڑیاں اچھالنے کے بعد کپڑے اتارنے کا معاملہ آچکا ہے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سمیت دیگر وزراءپر مشتمل ایک اور کمیشن قائم کیا جس نے وعدہ کیا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرینگے مگر اس کمیشن کا بھی کو نتیجہ نہیں آیا اور اب حال ہی میں صوبائی حکومت نے بھی ایک کمیشن بنا یا ہے ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہاں صرف افرا تفری پھیلائی جارہی ہے معاملات کو گھمبیر بنانے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہمیں طعنے دیئے جاتے ہیں کہ یہاں سینیٹرز بھکتے ہیں تو کیا انہی بکھے ہوئے سینیٹرز کو بڑی سیاسی جماعتوں نے نیلے پیلے جھنڈے نہیں پہنائیں چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں ریکوڈک کا سودا کردیا گیا میرا سوال ہے کہ صادق سنجرانی صاحب کا سیاسی کیریئر کیا ہے جنہیں رضا ربانی پر ترجیح دی گئی ایک سیاسی ورکر اور بیرسٹر کے مقابلے اس شخص کو چیئر مین سیٹ پر بٹھا یا جاتا ہے جس کا کوئی سیاسی کیریئر نہیں ہے مگر اس تمام صورتحال کے باوجود بھی وہ آج تمام سیاسی جماعتوں کے سر کاتاج ہے میر خواہش ہے کہ میں اپنی ماوں بہنوں ،گوادر کے لوگوں اور ان لوگوں کی آواز بن سکوں جن پر پنجاب کے تعلیمی اداروں کے درواز بند کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ میں بتاوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہمارے ہاں چھوٹی بڑی جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں ان کے پاس کوئی ایک معاشی ٹیم موجود نہیں کوئی جماعت بھی دعویٰ نہیں کرسکتی کہ میرے پاس معاشی ٹیم کے کتنے پی ایچ ڈی موجود ہیں یہاں صرف کرایے کے معاشی ماہرین آجاتے ہیں ایسی صورتحال میں معیشت کا ٹھیک ہونا کیسے ممکن ہے معاملات تب ٹھیک ہونگے جب تمام سیاسی جماعتیں ایک سیاسی ایجنڈے کا اعلان کریں ہمیں یہاں معاملات میں الجا یا جارہا ہے سیشن کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک فیصلے آنے میں 20سے 25سال لگ جاتے ہیں میرے کیس میں 120دن کے فیصلے کو اب تک لٹکا یا جارہا ہے سپریم کورٹ خود اسٹے دے رہا ہے مگر ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہماری آواز کو اس طرح نہیں دھبا یا جا سکتا ہم اپنی آواز کو آگے لے جائینگے اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ جب اس آواز کو ہر سیاسی کارکن آگے لے جائے گا اور ہم ان تمام بحرانوں سے نکل جائینگے بلوچستان آج بھی مائنس وفاق چل رہا ہے راتوں کو سیاسی پارٹیاں بنتی اور صبح وہ مسلط کی جاتی ہے آج بھی یہاں مائنس بلوچستان سیاست چل رہی ہے اور اگر اسی طرح سیاسی جماعتوں اور سیاسی کارکنوں کے راستوں کو روکا گیا تو اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ جب انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں تو لوگ دوسرے راستوں پر نکل جاتے ہیں افسوس کی بات ہے کہ جس صوبے کو سب سے زیادہ خوشحال ہونا چاہیے تھا وہ سب سے زیادہ بد حال ہے جب تک راتوں رات جماعتیں بننا اور فہرستیں تیار ہونا بند نہیں ہوگی مسائل کا حل ممکن نہیں میں سمجھتا ہوں لاپتہ افراد کا مسئلہ انصاف کے نظام کی ناکامی ہے اور انسانی حق آئین کی بنیاد پر ہوتے ہیں ہم ایٹمی قوت تو بن گئے مگر اسکولوں اور ہسپتالوں کا معیار بہتر نہ بنا سکیں سیاسی نظام میں مسائل کے حل کی صلاحیت کم ہوتی نظر آرہی ہے کوئی بھی جماعت سو فیصد نشستیں حاصل کر لیں مگر مسائل حل نہیں کرسکتی تاہم اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ صرف سیاستدان ہی مسائل کے ذمہ دار نہیں عدلیہ ،نیب اور دیگر اداروں کا خوف ہوگا تو کام کیسے کرینگے موجودہ صورتحال میں یہ امر واضح ہے کہ ملک مزید سیاسی واقتصادی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا جس صورتحال کا اس وقت ہمیں سامنا ہے ان ملکی مسائل کے حل کیلئے بہت سا وقت درکار ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک چلانے کے حوالے سے دنیا کے سامنے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا مگر ہمیں معیشت کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے ہونگے ملکی معیشت بہتر ہوگی تو تو بہتر سیاست ہوسکے گی اور ملک ہوگا تو سیاست ہوگی اس لئے ہمیں ذاتی مفادات کی بجائے ملکی مفادات کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے اس وقت معاشی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو اس کی بہتری کیلئے لمبا عرصہ درکار ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ایک ذمہ دار لیڈر کی طرح خود کو دنیا کے سامنے رکھیں انہوں نے کہا کہ گوادر میں گیارہ سربراہ مملکت کی تختی لگی ہے مگر گوادر کو ہم پانی اور بجلی نہیں دے سکیں سیاست پر غیرآئینی اثرات کے باعث جیزیں خراب ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے پارلیمان میں عوام کے مسائل کی بات ہورہی ہوتی تو سیمینارزکی ضرورت نہ پڑتی سیاستدان اگر ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور بدنام کرنے میں لگ جائیں عوامی مسائل پس پشت رہ جاتے ہیں ملک کی موجودہ صورتحال غیر معمولی اور تشویشناک ہے وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ 75سال کے تجربات سے سیکھ کر مستقبل کو بہتر بنانے کے فیصلے کئے جائیں حکومتوں کو سروس ڈیلوری بہتر بنا نا ہوگی تاکہ عوام کے مسائل ترجیحات میں شامل ہوسکیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کا فوراً اسمبلیاں ہیں جہاں عوام کی رائے کا احترام نہ ہو وہاں مسائل کا حل ہونا مشکل ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ۔بلوچستان میں 1947سے جاری شورش میں گزشتہ چند سالوں کے دوران تیزی آئی ہے مگر اسلام آباد والے اس شورش کو سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ آج ملک کی معیشت کے حالات یہاں تک پہنچ کے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کے پاس 4ارب ڈالر بچھ گئے ہیں ملک کی مالی حالت ٹھیک نہیں مگر بلوچستان میں ظلم اور نا انصافیوں کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے بارہاں سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتوں سے کہا ہے کہ بلوچستان کے 9ہزار مسنگ پرسنز کا سوموٹو نوٹس کیوں نہیں لیتے انہوں نے کہا کہ پاکستان کوہم کبھی کمزور نہیں کرسکتے ہم نے ہمیشہ فیڈریشن کی بات کی ہے مگر وفاق تب مضبوط ہوگا جب تمام اکائیوں کو برابری کے حقوق ملیں گے کیونکہ تمام مضبوط اکائیاں ملکر ہی مضبوط وفاق کو تشکیل دے سکتی ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں باپ پارٹی کو ڈھائی گھنٹے میں بنا یا گیا اور آج باپ پارٹی کے کچھ لوگ پیپلز پارٹی اور کچھ مسلم لیگ(ن) میں چلے گئے اس طرح کے فیصلے سے سیاسی جہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پیسوں سے اب تک صرف ایک پرائمری اسکول بنا ہے اور یہاں کوئی ترقی کا زینہ نظر نہیں آرہا ہے ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے وسائل پر یہاں کے عوام کی حقوق کی بات کی ہے ہم نے حکومت بنائی تو سنگاپور کی کمپنی سے گوادر پورٹ کا پیک اور لیا آج بھی ہم کہتے ہیں کہ گوادر ریکوڈک سے بڑی گولڈ مائن ہے انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کی قرضوں میں ڈوبتے جارہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضوں میں جکڑ کر ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے افسوس کی بات ہے کہ ہم ایٹمی قوت ہوکر بھی بھیک مانگ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے پاس آئینی ترامیم کے اختیارات ہونے چاہیے تاکہ ایوان بالا کو مزید مضبوط کیا جاسکے ۔ بلا شبہ پاکستان بہترین ملک ہے مگر اس وقت یہاں کے باسیوں کیلئے مفید نہیں ہے پاکستان کی بہتری کیلئے ہمیں اپناکردار ادا کرنا ہوگا ملک اس وقت معاشی دشواریوں سے دو چار ہے ہم مشرف دور سے ہی قرضے لیتے آرہے ہیں اس وقت ملک کا بیرونی قرضہ 120ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو واپس کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے ہم 30ارب ڈالر کی برآمدات اور 80ارب ڈالر کی درآمدات کررہے ہیں 30ارب ڈالر اوورسیز پاکستانی بھیجتے ہیںمگر پھر بھی 20ارب ڈالر سالانہ خسارہ بن جاتا ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان 18ارب ڈالر کا خزانہ چھوڑ کر گئے تھے انہوں نے کہا کہ ملک کے آدھے بچے اگر اسکولوں سے باہر ہونگے تو آئندہ نسل کیسے پڑھی لکھی ہوسکتی ہے جو بچہ رات کو کھانا نہ کھائیں وہ صبح کیسے پڑھ سکتا ہے والدین کو نوکریاں میسر ہونگی تو بچے بھوکے نہیں سونگے اور تعلیم بھی حاصل کرسکیں گے بلوچستان کے 80فیصد ااسکول بند پڑے ہیں جنہیں دیکھنے والا کوئی نہیں آج ملک میں ایک ہزار ارب روپے تعلیم پر خرچ کئے جارہے ہیںمگر تعلیمی معیار انتہائی کم ہے۔آج ملک میں میرے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی تو میں بھی سوچھنے پر مجبور ہوجاوں گا 100جماعتیں پہلے سے ہی موجود ہیں ہم کو نئی جماعت نہیں بنانا چاہتے ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں سننے کا حوصلہ پیدا ہو انہوں نے کہا کہ جہاں سیاسی جماعتوں میں خوش آمد کی بنیاد پر بڑے عہدے تقسیم کئے جاتے ہیں یہاں انصاف کی تقاضوں کو پورا نہیں کیا جارہا ہے یہاں عمران خان کیلئے الگ اور علی وزیر کیلئے الگ قوانین ہیں جو نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ معاشی حالات پر کو بہتر بنانے کی ہم بات کررہے ہیں معاشی حالات بہتر بھی ہوسکتے ہیں مگر معاشرے کی بگاڑ کو کیسے ٹھیک کرینگے ہمیں سب سے پہلے معاشرتی بگاڑ سدھارنے ہونگے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں انتخابات کروانے سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ہمیں عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے حکومتوں کو ان کا وقت پورا کرنے کی اجازت دینا ہوگی تاکہ عوام کا اپنے ووٹ اور پارلیمان پر اعتماد بحال ہوسکے ۔ 75سال گزرنے کے باوجود ہم جہاں کھڑے تھے آج بھی وہی موجود ہیں ہم آج بھی اپنے لوگوں کے ساتھ سچ نہیں بول رہیں اور وہ سیاست نہیں کررہے ہیں جس کی پاکستان کو ضرورت ہے کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ اسی بنیاد پرکیا تھا کہ ایسی گفتگو کریں جو سیاسی کلچر میں ناپید ہوچکی ہیں کیونکہ گزشتہ 8سال کے دوران سیاسی گفتگو پانامہ اور توشہ خانہ تک محدود رہ گئی ہے اور اس دوران عوامی مسائل گم ہوچکے ہیں آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں اگر ہم نے مسائل کا حل سنجیدگی سے تلاش نہیں کیا تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک جانب معاشی تباہی کا سامنا ہے تو دوسری جانب سیاسی بریک ڈاؤن بھی ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں کی جارہی سیاسی جماعتوں اور عوام میں رابطے ٹوٹ رہے ہیں جو باتیں آج ہم نے کی ہیں یہ پاکستان کا درد رکھنے والے ہر آنکھ کو نم کر لے گا ۔مقررین نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنی غلطیاں تسلیم کرنے ہونگے کیونکہ جب ہم اقتدار میں ہوتے ہیں تو خاموش ہوجاتے ہیں مگر اقتدار کے بعد ہم نقطہ چینی کرتے ہیں ویسے تو ہم سینیٹ کو بالادست کرنے کی بات کرتے ہیں مگر سینیٹ کی نشستیں سبزی کی طرح بکھیں گے تو ہم کیا امید رکھیں گے آج عام آدمی کو آٹا،بجلی،گیس میسر نہیں ہمیں صرف باتوں کی بجائے عملی اقدامات پر غور کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ ایم پی اے فنڈ فند ہونی چاہیے کیونکہ گنڈ صرف گلیاں اور نالیاں بنانے پر خرچ ہوتا ہے خدارا بلوچستان کے پیسے کو تعمیری سوچ اور ترقی کی منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے تاکہ اس سے آنے والے نسلوں کا مستقبل محفوظ بنا یا جاسکے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اقلیتیں خود کو اقلیت نہیں سمجھتی بلکہ ہم پاکستان کا مضبوط حصہ ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.