آپ کو لوگ کیوں پڑھیں..؟

0 32

تحریر عاقب آزاد

بہت سے دوست شکوہ کرتے ہیں کہ سر… ہم لکھتے بہت ہی عمدہ ہیں، پڑھتے اور مطالعہ بھی گہری رکھتے ہیں مضامین اور کالمز اخبارات کی زینت بناتے ہیں
مگر ہمیں کوئی نہ پڑھتا ہے نہ ہی ہماری ان الفاظوں کا کوئی اثر لیتا ہے..
تو سب سے پہلے میں انہیں یہ کہتا ہوں
جب بھی قلم اٹھائیں انسانیت کی سوچ لیکر الفاظ شروع کریں
آپکے خیالات مفاد عامہ اور انسانیت ہی کیلئے اٹھیں جب آپکا سوچ انسانیت ہو تو پھر آپ قومیت رنگ و نسل اور مذہب کی قید سے آٹو میک نکل جائیں گے
یہی وہ جذبہ ہو گا جو آپکو روانی دے گا، آپکے جزبوں کو فراوانی دے گا، آپکے خیالات لوگوں کے الفاظ بن جائیں گے! یہی وہ لمحہ ہوگا آپکو پہچان ملے گا آپکے الفاظ کو ہر فورم پر سنا جائے گا
کیونکہ بر صغیر معاشرے میں ہم بذات خود ایک قوم نہ پہلے تھے نہ آگے ایک قوم بننے کی امید ہے..
یہی وجہ ہے یہاں ہمیں سب سے پہلے رنگ نسل کی قید میں رکھا گیا ہے پھر قوم و قبیلہ کے زنجیروں میں جھکڑا گیا ہے، پھر وہاں سے نکل کر ہمیں مختلف مسلک و نظریات کے پابند کیا گیا ہے اس معاشرے میں ہمارے تمام صلاحیتیں انہیں دائروں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں جب انہی خولوں سے آپ نکلیں گے پھر آپکی پہچان بنے گا
کیونکہ سوشل دنیاء پر الفاظ نہیں معیار کو دیکھا جاتا ہے! آپکے خوب صورت باتوں کو نہیں، خیالات کو پرکھا جاتا ہے! آپکے حلیے کو نہیں، نظریہ کو سنا جاتا ہے!
آپ اگر اسک خول سے نہیں نکلتے.! مسلک اور عقیدہ کی خول سے نہیں نکلتے…! آپ اپنی جماعت اور فکر کے خول سے نہیں نکلتے…! آپ اپنی سوسائٹی اور معاشرہ کی خول سے نہیں نکلتے!
آپ سیکولر ہیں تو اپنی اس زاویہ سے نہیں نکلتے! اگر آپ مذہبی ہے تو اسی روش سے نہیں نکلتے!
تو آپ.. 👈متشدد ہیں.. تنگ نظر ہیں، اپنی غور و فکر میں خود محدود ہیں
جب آپ ایک ہی خوال اور دائرہ میں بند ہیں تو آپکے خیالات خود کیلئے منافع بخش نہیں.. دوسروں کیلئے کیا فائدہ مند ہوں گے؟
لہذا آپ جیسے بھی ہیں جہاں بھی ہیں جس معاشرہ مکتب و درسگاہ میں بھی ہیں، اپنی مطالعہ اور معلومات کو وسیع رکھیں، خیالات و افکار چند لوگوں کا نہ ہوں آپکے پاس! جب بھی بولیں اور لکھیں معلومات عام ہوں،اصلاح عام ہو
کسی لیڈر، قائد ،مذہبی رہنماء سردار سرکار کے لئے نہیں اصلاح معاشرہ ہی کیلئے آپکا قلم با دلیل اٹھے
ان شاء اللہ آپکو سب سنیں گے.. شکریہ…

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.