منشیات ایک میٹھا زہر مستقبل تباہی کی طرف گامزن زمہ دار کون۔۔۔۔؟؟؟

0 75

 

عاشرے کے اکثریت نوجوان سوشل میڈیا پر مختلف مسائل اجاگر کرتے رہتے ہیں بہترین عمل لیکن معاشرے پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ ہم سب پر فرض ہے معاشرے کے ہر باشعور افراد کی زمہ داری ہے معاشرے کی بہتری کیلئے کوشش کریں ہر وہ غلط کام کی نشاندہی کریں تاکہ برائی جڑ سے ختم ہو جائے ایک بہترین قوم بن جائیں۔۔ اس جدید دور کا بہترین ہتھیار سوشل میڈیا ہے جس سے باآسانی معاشرے کے ہر فرد اپنے مسائل بہتر انداز میں اجاگر کرسکتے ہیں آج اس پلیٹ فارم کی توسط سے میں ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کررہا ہوں اس کی پہلے بھی کئی بار ہمارے سوشل ایکٹوسٹ صحافی باشعور افراد اس ناسور کی نشاندہی کرچکے ہیں مگر آج ایک بار پھر میں اپنے قارئین کو جس میں سیاسی پارٹی حکومتی انتظامیہ سول سوسائٹی صحافی سوشل ایکٹوسٹ کو اس اہم مسئلے پر متوجہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں اور ساتھ ساتھ یہ امید اور تواقعات بھی رکھتا ہوں کہ وہ اس اہم مسئلے پر یک زبان ہوکر اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرینگے تاکہ اس ناسور سے چھٹکارا مل سکے اب اس اہم مسئلے کی طرف آتے ہیں کمبخت منشیات معاشرے میں روز بروز بڑھتا جارہا ہے ہمارے معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں منشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو چند منٹ کے سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر دم لیتی ہے موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے منشیات کی لعنت صرف بازاروں اور تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ ایک فیشن کے طور پر سامنے آرہی ہے منشیات کے طرف نوجوان بڑھ رہے ہیں اس کا اصل وجہ جگہ جگہ دستیاب ہیں کوئی روک ٹوک نہیں شہر دیھی علاقوں گاؤں کے بچے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں جس کے انتہائی مضر اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں راہ چلتے چھوٹے بچے بھی سگریٹ کا دھواں اڑاتے دیکھائی دیتے ہیں یا کٹگا پاں سے منہ بہرا ہوا نظر آتا ہے اکثر بچے اور نوجوان مذاق مذاق میں نشے کی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں سوسائٹی میں اکثر بچے معمولی نشہ آور چیزوں کا انتخاب کرکے بڑے نشوں کا عادی بن جاتے ہیں جیسا کہ سگریٹ کٹکا پاں پاں پراگ رتں جے ایم وغیرہ وغیرہ سے اس تباہ کن راستہ کا آغاز کرتے ہیں پھر رفتہ رفتہ عادی بن جاتے ہیں نوجوان چھوٹے نشہ کا سہارا ٹائم پاس کےلئے یا خوشی مزاق سے لیتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نوجوان نسل سگریٹ یا دیگر نشہ آور چیزوں کا انتخاب کرکے استعمال شروع کرتے ہیں پھر یہ شوق آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بن جاتا ہے پھر اس لعنت سے چھٹکارا پانا مشکل بن جاتا اور اس طرح وہ شخص مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے اورپھر اس کے دل و دماغ پورے جسم کو مکمل تباہ و برباد کردیتا ہے نشہ کے عادی افراد ہر وہ غلط کام کرنے لگتا ہے جہاں سے پیسے حاصل کرسکے نشہ آور چیزوں کو خرید سکے تو اس سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے اس طرح معاشرے میں چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا ہے زہر کی چند منٹ کے سکوں کےلئے اپنی اچھا بھلا تندرست صحت مند پر سکوں زندگی کو تباہی کی دہلیز پر لا کر کھڑا کرتا ہے ناسور نشہ نوجوان نسل کی مستقبل کو تاریکیوں میں تبدیل کرتا ہے منشیات زہر جیسی لعنت نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے ان کی زندگیوں کو اندھیرے میں ڈال کر ان کی جوانی صحت مند زندگی کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہا ہے منشیات کی عادت ایک خطرناک مرض ہے یہ خود انسان کو اور اس کے گھربار کو معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے منشیات کے خلاف آواز زیادہ اٹھائی جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس بدبخت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے آخر کیوں؟؟ منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے یہ نشہ انسان کی صحت خراب کرنے کے ساتھ ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے نشہ بیچنے والے دلال قوم کے نوجوانوں سے نئی نسل سے پیسے بٹور کر ان کو تباہی کی طرف دھکیل دیتے ہیں نسلیں تباہ ہو رہی ہے ہو جائے انہیں تو صرف نوٹ بٹورنے کا ہیں انہیں پیسہ سے مطلب ہے پیسہ کماتا ہے پیسے کے پچاری کیا جانیں اولاد کیسے بڑا ہوتا ہے کسی بھی قوم کے لیے اصل قوت اِن کے نوجوان ہوتے ہیں نئی نسل کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے کسی بھی ملک میں نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کے لیے بھرپور انداز سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے کسی بھی قوم معاشرے مستقبل کے ستارے اس قوم کا نوجوان ہوتے ہیں مگر یہاں نشے کے تاجروں کے ذریعے نئی نسل کو مختلف نشوں کی عادت میں مبتلا کرنا اپنا ہدف بنا رکھا ہے چند لوگ کروڑ پتی تو ضرور بن سکتے ہیں مقابلے میں کئی خاندان معاشرے کے روشن چراغ بجھ سکتے ہیں دنیا بھر میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کو ہر طرح کی منشیات سے بلکل پاک کرکے نوجوانوں کو مکمل تباہی سے بچایا جائے اور دوسری طرف منشیات کا مافیا نئی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے کروڑوں کماتے ہیں یہ زہر چند بااثر افراد پورے معاشرے پر میٹھا زہر کو مسلط کرتے ہیں نوجوانوں کو ہیروئن شیشہ کوکین چرس افیون ۔بیئر ۔شراب اور نہ جانے کتنے طرح کے نشے میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور نئی نسل کا منشیات کی لَت میں مبتلا ہونا انتہائی خطرناک ہے اس ناسور زہر سے ایک فرد نہیں پورے معاشرے کے مستقبل کے چراغ بجھ سکتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں آگے چل کر ملک کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے اور سوال صرف معاشی نقصان کا نہیں بلکہ نئی نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا کرکے کسی کام کا نہ رہنے دیا جائے جب نئی نسل منشیات کی عادی ہوگی تو معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں پورے معاشرے میں بگاڑ پھیلے گا اس نقصان کا کسی کو اندازہ ہے۔۔؟؟ زرا سوچیں معاشرے کی بنیاد ہلانے میں اور نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں اور منشیات کے خاتمے میں صرف انتظامیہ یا ایک فرد کو ذمہ ٹھہرانا غلط ہے بلکہ اس کو مکمل جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ہر ایک ذی شعور کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی اور تب ہی ہمارا معاشرہ منشیات سے پاک و صاف ہوسکتا ہے سکوں کے سانس کےلئے ہر فرد کی زمہ داری ہے اس کے خلاف کام کرے تب جاکہ اس زہر کو قابو کرنا ممکن ہوسکتا ہے نئی نسل بڑی تباہی سے بچ سکتا ہے۔ اہل قلم اور ہر ذی شعوری سے درد مندانہ اپیل منشیات کے خلاف لوگوں میں شعور بیدار کرکے اپنا فرض ادا کریں یہ تباہی کچھ لوگوں کی نہیں بلکہ ہم سب کی ہے عوامی نمائندگاں ، سیاسی و مذہبی پارٹیوں کو اپنا موثر کردار اور انتظامیہ حکام بالا کو بھی اس ناسور کے خاتمے کےلیئے اپنا فرض ادا کرنا چاہئیے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.